Poetry غزل

غزل

   رحمان حفیظ

ہوئے ہجرت پہ مائل پھر مکیں آہستہ آہستہ

بہت سی خواہشیں دِل سے گئیں آہستہ آہستہ


ہَوا اس سانحے میں غیر جانبدار نکلی، سو

دھوئیں کی ایک دو موجیں اٹھیں آہستہ آہستہ

مجھے ماہِ منور نے بہت اْلجھائے رکھا، اور

سمندر کھا گئے میری زمیں آہستہ آہستہ

مری آنکھیں گماں کے سِحر میں ہی تھیں مگر دل میں

نمو پاتا گیا سچا یقیں آہستہ آہستہ

بڑی تیزی سے چلتا آ رہا تھا اپنی جانب میں

کہ دل سے اک صدا آئی ’’ نہیں!آہستہ آہستہ‘‘

میں اب آئندہ کے پھیلاؤ کو ترتیب دینے کو

ہْوا جاتا ہوں خود میں تہہ نشیں آہستہ آہستہ

km

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

غزل

غزل

  • جولائی 12, 2019
شاعر : خورشید ربانی غم نہیں غم آفریں اندیشہ  ہے آئینے  میں جاگزیں  اندیشہ  ہے موجہِ  گرداب  تک تھے  ایک
Poetry غزل

غزل … ڈاکٹرخورشید رضوی

  • جولائی 16, 2019
ڈاکٹرخورشید رضوی دل  کو  پیہم    وہی  اندوہ  شماری   کرناایک ساعت کوشب و روز پہ طاری کرنا اب وہ  آنکھیں