غزل

شاعر: سید اقبال عظیم

اک خطا ہم از رہِ سادہ دِلی کرتے رہے
ہر تبسّم پر قیاسِ دوستی کرتے رہے
 
ایسے لوگوں سےبھی ہم مِلتے رہے دل کھول کر
جو وفا کے نام پر سوداگری کرتے رہے
 
خود اندھیروں میں بسر کرتے رہے ہم زندگی
دوسروں کے گھر میں لیکن روشنی کرتے رہے
 
سجدہ ریزی پائے ساقی پر کبھی ہم نے نہ کی
اپنے اشکوں سے علاجِ تشنگی کرتے رہے
 
اپنے ہاتھوں آرزوؤں کا گلا گھونٹا کئے
زندہ رہنے کے لئے ہم خود کُشی کرتے رہے
 
ہر طرف جلتے رہے،بُجھتے رہے جھُوٹے چراغ
اور ہم، سامانِ جشنِ تِیرَگی کرتے رہے
 
حالِ دل کہہ دیں کسی سے، بارہا سوچا مگر
اِس اِرادے کو ہمیشہ مُلتوی کرتے رہے
 
خود کو دیتے بھی رہے ترکِ تعلّق کا فریب!
اور درپردہ ، کسی کو یاد بھی کرتے رہے
 
اس طرح اقبال! گزری ہے ہماری زندگی
زہرِ غم پیتے رہے، اور شاعری کرتے رہے

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post