Poetry غزل

غزل


شاعر: افضل گوہرراو
مجھ کو دے پانی کہ میرا کھیت بنجر ہوگیا
تُو تو دریا سے بڑا ہو کر سمندر ہوگیا
اتنا کاندھوں پر مشقت کی تھکن کا بوجھ تھا
گھر کے دروازے پہ آ کر جسم پتھر ہو گیا
جا بجا پھیلے ہوئے تھے ریت کے ٹیلے بہت
اک ہَوا آئی تو سب صحرا برابر ہوگیا
میں نے پوچھا تھا کہ کیسا ہے اندھیرے کا مزاج
اک ستارا آسماں سے گر کے پتھر ہو گیا
پیڑ کیا ٹوٹا ہے گوہر آندھیوں کے زور سے
شاخ پر بیٹھا پرندہ خون سے تر ہو گیا

km

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

غزل

غزل

  • جولائی 12, 2019
شاعر : خورشید ربانی غم نہیں غم آفریں اندیشہ  ہے آئینے  میں جاگزیں  اندیشہ  ہے موجہِ  گرداب  تک تھے  ایک
Poetry غزل

غزل … ڈاکٹرخورشید رضوی

  • جولائی 16, 2019
ڈاکٹرخورشید رضوی دل  کو  پیہم    وہی  اندوہ  شماری   کرناایک ساعت کوشب و روز پہ طاری کرنا اب وہ  آنکھیں