غزل


شاعر: نوید فدا ستی
مجھے تواب بھی یاد ہے گئے دنوں میں کیا ہوا
وہ کشتیاں جلی ہوئیں ،  وہ قافلہ لٹا ہوا
فقیر کی دعا ہوں میں الست کی صدا ہوں میں
سنو گے ایک دن مجھے لبوں پہ ہوں رکا ہوا
مثالِ وصل دی گئی زمیں کو فصل دی گئی
اک اور نسل دی گئی بدن سے رابطہ ہوا
میں چومتا ہوں خواب میں کتابِ جاں کا انتساب
تری جبینِ ناز پر وہ اسم ہے لکھا ہوا
بھڑک رہی ہیں صورتیں چٹخ رہی ہیں مورتیں
سجا دیا ہے طاقِ نو میں آئنہ جلا ہوا
کھلے ہوئے گلاب سے کہا جنوں نے خواب سے
ادھر بھی دیکھ دشت میں غبار پھیلتا ہوا
کرم ہے میری ذات پر رکا ہوں میں ثبات پر
صنم صنم ہوا مرا ، مرا خدا خدا ہوا
وہ تیرگی تھی راہ میں جو روشنی نگل گئی
ہوا دیا بدست تھی دیا چراغ پا ہوا
زمیں کی قتل گاہ سے پلٹ رہا ہوں سرخ رو
بچی ہے جان اس لیے درود تھا پڑھا ہوا
گلِِ وصال توڑ کر میں خوش ہوں آج رات بھی
بدن کے عین وسط میں وہ باغ تھا کھلا ہوا
یقیں یقیں نہیں رہا گماں گماں نہیں رہا
کوئی یہاں نہیں رہا نہ جانے دوست کیا ہوا
زمیں کا اعتبار ہوں میں خاک ہوں غبار ہوں
خدا کا انتظار ہوں سو راہ دیکھتا ہوا
مرے لبوں پہ اسم ہے عجیب سا طلسم ہے
گماں کی کوئی قسم ہے میں جس میں مبتلا ہوا
یہ لفظ ہے کہ پھول ہیں حیات کے اصول ہیں
یہ شاعری سجی ہوئی یہ باغ ہے کھلا ہوا
بدن مثال کچھ نہیں تو کیا وصال کچھ نہیں
مرا کمال کچھ نہیں عجب معاملہ ہوا
نزولِ شعرِ تر نہیں سو بات میں اثر نہیں
کسی کو یہ خبر نہیں کہ لفظ میں خلا ہوا
یہ انتظام تھا عجب یہ اہتمام تھا غضب
خودی سے جب نکل گیا خدا کا سامنا ہوا
یہ چشمِ بے حسود ہے یہ ہجر کا وجود ہے
طنابِ نم کھینچی ہوئی لباسِ غم کسا ہوا
یہ جاں ہماری خاک میں دھواں سی ہے بسی ہوئی
یہ دل ہمارے جسم میں نگیں سا ہے جڑا ہوا
یہ باغ ہے کہ داغ ہے زمیں کے اس لباس پر
وہ شاخِ گل کٹی ہوئی یہ رنگِ گل اڑا ہوا
سناوں کیا میں خلق کو غنودگی کی داستاں
زمیں کی آنکھ کیا بنی زماں کا خواب کیا ہوا
ملا تھا میں شعور سے ملا تھا یعنی نور سے
خودی کے مسئلے پہ کل خدا سے مشورہ ہوا
اسی لیے تو چین سے زمیں پہ سو رہے ہیں ہم
ازل سے لے کے آج تک فلک ہے جاگتا ہوا
وہ آئنہ تھا رو بہ رو مگر میانِ گفتگو
میں خود سے بھی نہ مل سکا عجب معاملہ ہوا
زمیں کی ان خلاوں میں مرا ہی زور شور ہے
مری صدا ہوا بنی مرا کہا ، کہا ہوا
نہیں یہ بات جھوٹ ہے یہ رنگِ رات جھوٹ ہے
یہ لفظ ہیں بندھے ہوئے یہ شعر ہے گھڑا ہوا
کسی کے انتظار میں فراقِ سوگوار میں
لہو ہماری آنکھ سے ٹپک گیا تو کیا ہوا
اتر چکی ہے شامِ غم بدن کی اک منڈیر پر
ہوائے جاں چلی ہوئی چراغِ دل بجھا ہوا
تمھاری بات بھی ہوئی کہ تم مری پسند ہو
خدا سے پہلی بار جب مرا مکالمہ ہوا
یہ لفظ ہیں عطا مجھے یہ شعر اس کی دیں ہیں
مرے لکھے ہوئے میں پھر مرا کمال کیا ہوا
خدا کا شکر ادا کروں میں جان و دل فدا کروں
مرا کہا ہے پُراثر مرا لکھا دعا ہوا

You might also like
  1. عبدالرحمان واصف says

    ماشاء اللہ بہت رواں دواں اور خوبصورت اشعار ہیں… یہ تسلسل اور روانی کسی کسی کو ہی نصیب ہوتی ہے..

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post