غزل


شاعر: ڈاکٹر معین نظامی
عجب سکون میسّر تری جناب میں تھا
کہ مَیں ظہیر تھا اور اپنے فاریاب میں تھا
سفر کا حکم نہ ہوتا تو مَیں وہیں ہوتا
کہ میرا حجرہ ترے شہرِ آب و تاب میں تھا
سفر بھی ایک مقامِ سلوکِ باطن ہے
عبور اس پہ بھی شامل مرے نصاب میں تھا
سفر تَعَب ہے اور اس پر دلیلِ روشن ہے
سفر کا داغ دلِ زارِ ماہتاب میں تھا
سو امتثال میں مَیں رخت باندھ کر نکلا
وگرنہ فائدہ کیا مجھ کو اس عذاب میں تھا
مثالِ سایہ مَیں پلٹا تو اصل تک پہنچا
کہ بوے گل تھا مَیں مرکز مرا گلاب میں تھا
گزاری نذر نظر نے حواسِ خمسہ کی
خرد کا سلسلہ زنجیرِ پیچ و تاب میں تھا
پھنسا ہؤا کسی گرتی ہوئی عمارت میں
مَیں ٹوٹ پھوٹ کی زد پر تھا، اضطراب میں تھا
یقین ہی نہیں آتا وہ اشک میرے تھے
دفینہ اتنا مرے خانہء خراب میں تھا
دھڑک رہا تھا زمان و مکاں سے ہٹ کے کہیں
وہ لمحہ جو تری تقویم کے حساب میں تھا
نجانے رات کو یہ شعر کس نے لکھے ہیں
کہ مَیں تو شام سے گم گشتہ گَردِ خواب میں تھا
معین نظامی
استخارہ، بُک ہوم، لاہور، ۲۰۰۸ء۔

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post