غزل ۔۔۔ شاعر: حنیف عابد


حنیف عابد
اب کسی کو عشق کا سودا نہیں
شہر بھر میں کوئی بھی رسوا نہیں
آدمی کے اپنے چہرے ہیں مگر
آدمیّت    کا    کوئی    چہرہ نہیں
کس قدر تاریکیاں ہیں آج کل
ساتھ میرے اب مرا سایہ نہیں
چاندنی اُس قافلے کو کیا ملے
دھوپ کے صحرا میں جوٹھہرا نہیں
اُس کے در کو کھٹکھٹا ئیں کس طرح
جس کے گھر میں کوئی دروازہ نہیں
جان جائے بات ٹل سکتی نہیں
میرا وعدہ آپ کا وعدہ نہیں
حالِ عابد سُن کے ظالم نے کہا
سب یہی کہتے ہیں پر ایسا نہیں 

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post