Poetry غزل

غزل ۔۔۔ شاعرہ: فرح خان


فرح خان
وقت کی   سامنے   بساط   نہ ہو
چاہتی ہوں کہ مجھ کو مات نہ ہو
کھیلنا جاں  سے دل کی ہر بازی
ہارنا یوں ، کسی کو مات  نہ ہو
تیرے خوابوں سے ہوں تہی آنکھیں
میری قسمت میں ایسی رات نہ ہو
جیسی شدت سے ہو گیا تجھ  سے
عشق  ایسا کسی  کے ساتھ نہ ہو
"نارسائی   کی   سینکڑوں  جہتیں
ایک یہ بھی کہ تجھ سے بات نہ ہو”
فرح خان..

km

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

غزل

غزل

  • جولائی 12, 2019
شاعر : خورشید ربانی غم نہیں غم آفریں اندیشہ  ہے آئینے  میں جاگزیں  اندیشہ  ہے موجہِ  گرداب  تک تھے  ایک
Poetry غزل

غزل … ڈاکٹرخورشید رضوی

  • جولائی 16, 2019
ڈاکٹرخورشید رضوی دل  کو  پیہم    وہی  اندوہ  شماری   کرناایک ساعت کوشب و روز پہ طاری کرنا اب وہ  آنکھیں