نظم

کٹاری : سعیدعباس سعید

ستارے اپنے تیرہ آسماں کے
سدا پائے ہیں میں نے گردشوں میں
تلاطم روزِ اول سے رہا ہے
بحرِزیست کے کڑوے کسیلے پانیوں میں
سماجی الجھنوں میں
معاشی جھنجھٹوں میں
ہمیشہ دل رہا ان وحشتوں میں
تھی گو حالات کی ہر ضرب کاری
مگر اک وار تھا ان سب پہ بھاری
کسی کا قتل کرتا وہ تبسم
کسی کے نین وہ جیسے کٹاری

younus khayyal

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

نظم

ایک نظم

  • جولائی 11, 2019
       از : یوسف خالد اک دائرہ ہے دائرے میں آگ ہے اور آگ کے روشن تپش آمیز
نظم

آبنائے

  • جولائی 13, 2019
         اقتدارجاوید آنکھ کے آبنائے میں ڈوبا مچھیرا نہ جانے فلک تاز دھارے میں گاتی ‘ نہاتی