نظم

کرونا وائرس کے بعد : ڈاکٹرستیہ پال آنند

وہ جو ہر روز اپنی کھڑکی سے
دیکھتا ہے کہ دور سے کوئی
راہرو آئے، اور وہ اس کو
گھر میں مدعو کرے، محبت سے
بیٹھ کر گفتگو کرے، اس کو
اس حقیقت کا کوئی علم نہیں؟
شہر کی موت ہو چکی، اور وہ
اپنی کھڑکی سے جھنکنے والا
اک اکیلا ہے ساری دنیا میں
نسل کا آخری نمائندہ!

younus khayyal

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

نظم

ایک نظم

  • جولائی 11, 2019
       از : یوسف خالد اک دائرہ ہے دائرے میں آگ ہے اور آگ کے روشن تپش آمیز
نظم

آبنائے

  • جولائی 13, 2019
         اقتدارجاوید آنکھ کے آبنائے میں ڈوبا مچھیرا نہ جانے فلک تاز دھارے میں گاتی ‘ نہاتی