نظم

ڈینگی پھیل رہا ہے : سعید اشعرؔ

سعید اشعر
سعید اشعرؔ
ہم ایسی مسند کے وارث ہیں
جس پر باری باری بیٹھنے والے
ہم میں سے نہیں ہیں
ہم ان لوگوں سے
اپنے مردہ مسخ شدہ بچوں کی خاطر
انصاف کے طالب ہیں
جن کے اپنے بچوں کی ولدیت کے خانے میں
ان کا اپنا نام نہیں
ان کی ازواج کی کوکھوں میں پلنے والے بچے
رنگ اور صورت میں
ان مسخ شدہ بچوں سے ملتے جلتے ہیں
جن کی خاطر
ہم روزانہ دھرنا دیتے ہیں
بینر کے اوپر
آدھا سچ لکھا جاتا ہے
آدھا سچ رات کی تاریکی میں
قہقہہ بن کر اڑ جاتا ہے
شہر میں تیزی سے
ڈینگی پھیل رہا ہے

km

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

نظم

ایک نظم

  • جولائی 11, 2019
       از : یوسف خالد اک دائرہ ہے دائرے میں آگ ہے اور آگ کے روشن تپش آمیز
نظم

آبنائے

  • جولائی 13, 2019
         اقتدارجاوید آنکھ کے آبنائے میں ڈوبا مچھیرا نہ جانے فلک تاز دھارے میں گاتی ‘ نہاتی