وقت سے آگے نکلی ہوئی نظم : یوسف خالد

کرونا کے دنوں کی بات ہے ، ہم
گھروں میں قید تھے
اور گھر سے باہر کی فضا میں
ناگہانی موت کے امکانی خدشے
ہر گلی ہر موڑ پر
یوں دہشتیں پھیلا رہے تھے
کہ ہم اپنے گھروں میں بھی ڈرے سہمے ہوئے تھے
کہیں سے بھی کوئی اچھی خبر سننے کو ملتی تھی
توپیہم خوف سے بجھتی ہوئی آنکھوں میں
پھر سے زندگی لو دینے لگتی تھی
مگر جب دوسرے لمحے
جہاں بھر سے مسلسل موت کی خبریں کسی چینل سے
بریکنگ نیوز کی صورت
نظر کے سامنے تصویر ہوتی تھیں
تو یوں لگتا تھا
جیسے موت کے اس وحشیانہ وارکو ناکام کرنے کی
کوئی صورت نہیں ہے
بساطِ ارض پر ہر سوبھیانک منظروں کی لوح پر لکھی ہوئی
مجبور انسانوں کی لاکھوں داستانیں
زرد پتوں کی طرح بکھری پڑی تھیں
بہر سو بھوک تھی
بے چارگی تھی
وسوسے تھے
زمیں زادوں کی نظریں جانبِ افلاک اٹھتی تھیں
تو خالی لوٹ آتی تھیں
یوں لگتا تھا دعاؤں میں اثر باقی نہیں ہے
کہیں بھی کوئی چارہ گر نہیں ہے
مسلسل بے یقینی بڑھ رہی تھی
زمیں پر حکمرانی کا تصور اس قدر دھندلا گیا تھا
کہ ہر جابر حکمراں چاہتا تھا
کوئی دروازہ کھلے پردہ اٹھے
احساس کی بے جان چادر پر
کسی آواز کا عکسِ حسیں ابھرے
محبت سے بھرے لہجے میں کوئی بول اٹھے
اے مری مخلوق
میری ذات سے مایوس مت ہونا
کرونا کے دنوں کی بات ہے یہ
نئے انداز سے بندہ و آقا کا تعلق بن رہا تھا
تکبر ریزہ ریزہ ہو چکا تھا
سرِ تسلیم خم کرنے کی خو بڑھنے لگی تھی
سوچ میں تبدیلیاں آنے لگی تھیں
خدائے لم یزل نے خاک زادوں سے بلائیں ٹالنے
پھر سے انہیں احساس کی دولت عطا کرنے کی خاطر
کن کہا
اور دیکھتے ہی دیکھتے کھلتے ہوئے پھولوں کے عارض پر
حیاتِ نو کے اجلے نقش ابھرے
بے یقینی کے اندھیرے چھٹ گئے
پھر سے زمیں پر رنگ، خوشبو، سر ، محبت میں گندھے جذبے
دلوں کی بار گہہ میں
حاضری دینے لگے
اور زندگی پھر سے حسیں خوابوں کو سینے سے لگا ئے
خاک زادوں میں تبسم بانٹتی، اٹھکیلیاں کرتی
نئے موسم کے استقبال کو نکلی
بہر سو پھول کھل اٹھے

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post