نظم

نقل : انیس احمد

میں نے سوچا
اگر مجھے
کسی کی نقل اتارنی پڑے
تو میں کس کا انتخاب کروں گا
میں نے
کائنات کے ہر اس فرد کا سوچا
جہاں تک میری سوچ کی رسائی تھی
سب کی حرکات و سکنات کو
غور سے دیکھا
سب کے چہرے پڑھے
جب کسی کو
دوسری بار پڑھتا
تو مجھے جھٹکا لگتا
کیونکہ دوسری بار
وہ، وہ نہیں ہوتا تھا
وہ اپنا آپ ظاہر کرنے کی بجائے
لاشعوری یا شعوری طور پر
کسی اور کی نقالی کر رہا ہوتا تھا
میں نے کائنات کے ہر فرد کا
بغور جائزہ لیا
کہ مجھ پر کس کی نقالی
جچے گی
دنیا کے سات ارب اسی کروڑ
افراد کا تو جائزہ نہیں لے سکتا تھا
مگر ممکنات کی حد تک
جانچنے کے بعد
میں نے فیصلہ کیا کہ
انیس احمد کو
صرف انیس احمد ہی کی
نقالی جچتی ہے
سو!
میں نے اپنی ہی نقالی
کرنے کا فیصلہ کیا
میرے اس فیصلے سے
آپ کا متفق ہونا
ضروری نہیں
"ممکنات” 2022، انیس احمد

younus khayyal

About Author

1 Comment

  1. younus khayyal

    جولائی 29, 2021

    بہت عمدہ نظم ۔۔۔۔۔ واااااااااااہ

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

نظم

ایک نظم

  • جولائی 11, 2019
       از : یوسف خالد اک دائرہ ہے دائرے میں آگ ہے اور آگ کے روشن تپش آمیز
نظم

آبنائے

  • جولائی 13, 2019
         اقتدارجاوید آنکھ کے آبنائے میں ڈوبا مچھیرا نہ جانے فلک تاز دھارے میں گاتی ‘ نہاتی