”مشکل ہے یارو“ : فیض محمد صاحب

 

کل سے اداس بیٹھا ہوں
پھر سے اُس نے الفت کا
ہے اک پیغام بھجوایا
شاید اس کو معلوم نہیں
خود کو بھولنے میں مجھ کو
کتنے برس لگے ہیں اور
اتنے برسوں کے وہ پل
جو اس بن میں نے بیتاۓ ہیں
کوٸی اور ہوتا تو شاید
شاید مر ہی جاتا وہ
ہجر کا دکھ سہنا
اور پھر مسلسل سہنا
آساں نہیں اتنا
اب جب بھول چکا ہوں خود کو
جانے کیوں ؟؟؟
وہ لوٹ آیا ہے !!!
پھر شہر میں میرے
اب کے بار تو پکا ہے
یہ پیغام دوبارہ الفت کا
میری جاں لے کے چھوڑے گا
کیونکہ پھر سے عین وقت پہ
اس نے مجبور ہو ہی جانا ہے
کیونکہ عادت نہیں بدلتی
اور پھر میں ۔۔۔۔۔۔۔
مشکل ہے کہ اس کے بِن
اب کے بار جی پاٶں
مشکل ہے۔۔۔
بہت ہی مشکل ہے یارو

 

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post