ماضی : فیض محمد صاحب

دیوار میں لگی کھڑکی
کھڑکی سے آتی ٹھنڈی ہوا
اس کی باہوں سے
سانسوں میں اترتی خوشبو میں
میں تمہیں ڈھونڈ رہا ہوں جاناں
طویل بارشوں کےسلسلہ ہے
اور پرانی تصویریں دیکھ دیکھ کر
سہانے موسم کا پل پل رنگیں کر رہا ہوں
اتنے برسوں کے بعد بھی
میرا دل تمہاری چاہت میں دھڑکتا ہے
اور تم ہو کے بےوفا ہو کے بھی
مجھ سے جُدا کے ہو بھی
نہ باوفا ہوئے ہو نہ جدا ہوئے ہو
میں جانتا ہوں بارشیں جب بھی ہوتی ہوں گی
تمہارے دل کی اندھیر نگری میں
میری اُلفت کے چراغوں سے روشنی ہوتی ہوگی
کیونکہ دھن و دولت محبت کا بدل نہیں ہو سکتے
تم بھی تڑپتے ہوگے ۔۔۔۔۔۔۔
میری طرح
یہ الگ بات ہے میری نظمیں
میرے دکھوں کی عکاسی کرتی ہیں
اور تم اپنے محل میں بیٹھے
میرے دکھ میں
اب میری انھی نظموں کو پڑھ کر
تنہا کمرے میں آبدیدہ ہوتے ہوگے
ماضی یاد کر کے

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post