قرض : فیصل اکرم

فیصل اکرم
کہیں سے میرے کانوں میں جو اک آواز آئی ہے
کوئی گم گشتہ سرگوشی سماعت ڈھونڈتی ہو گی
یہ اک آواز کا ٹکڑا پرانی گونج کا ہو گا
ہہاڑوں کے کسی دامن میں گونجے ایک نغمے کا
کوئی چھوٹا ” سا دو لفظی “
پرانی بازگشتوں کا پرانا ایک ” دو لفظی “
سماعت تک نہ پہنچا ہو
کسی گہری سی کھائی میں کہیں پہ کھو گیا ہو گا
یہی تو قرض ہے اس پر
وہ ڈھونڈے گا سماعت کو
یہ تیری گفتگو کے ان گنت لفظوں کا ٹکڑا ہے
ابھی لفظوں کا یہ ٹکڑا
بکھر جائے ہواؤں میں فضاؤں میں
چکائے قرض پہنچے اور سماعت تک
خدا کا ہی کوئی پیغام ہو شاید
کوئی آیت کوئی منطق یا کوئی فلسفہ اس کا
چکائے قرض اور پہنچے سماعت تک
تو ہو تحلیل بھی ایسا رہے نام و نشاں نہ پھر
مگر ہم لوگ دنیا میں
اٹھا کے سر جئے جائیں
جئے جائیں
اسی کو معجزہ کہہ لو اسی کو سانحہ کہہ لو
کوئی گم گشتہ سرگوشی
سماعت ڈھونڈتی ہو گی

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post