نظم

قرض : فیصل اکرم

فیصل اکرم
کہیں سے میرے کانوں میں جو اک آواز آئی ہے
کوئی گم گشتہ سرگوشی سماعت ڈھونڈتی ہو گی
یہ اک آواز کا ٹکڑا پرانی گونج کا ہو گا
ہہاڑوں کے کسی دامن میں گونجے ایک نغمے کا
کوئی چھوٹا ” سا دو لفظی "
پرانی بازگشتوں کا پرانا ایک ” دو لفظی "
سماعت تک نہ پہنچا ہو
کسی گہری سی کھائی میں کہیں پہ کھو گیا ہو گا
یہی تو قرض ہے اس پر
وہ ڈھونڈے گا سماعت کو
یہ تیری گفتگو کے ان گنت لفظوں کا ٹکڑا ہے
ابھی لفظوں کا یہ ٹکڑا
بکھر جائے ہواؤں میں فضاؤں میں
چکائے قرض پہنچے اور سماعت تک
خدا کا ہی کوئی پیغام ہو شاید
کوئی آیت کوئی منطق یا کوئی فلسفہ اس کا
چکائے قرض اور پہنچے سماعت تک
تو ہو تحلیل بھی ایسا رہے نام و نشاں نہ پھر
مگر ہم لوگ دنیا میں
اٹھا کے سر جئے جائیں
جئے جائیں
اسی کو معجزہ کہہ لو اسی کو سانحہ کہہ لو
کوئی گم گشتہ سرگوشی
سماعت ڈھونڈتی ہو گی

km

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

نظم

ایک نظم

  • جولائی 11, 2019
       از : یوسف خالد اک دائرہ ہے دائرے میں آگ ہے اور آگ کے روشن تپش آمیز
نظم

آبنائے

  • جولائی 13, 2019
         اقتدارجاوید آنکھ کے آبنائے میں ڈوبا مچھیرا نہ جانے فلک تاز دھارے میں گاتی ‘ نہاتی