نظم

غزل: طاہرشیرازی

طاہرشیرازی
طاہرشیرازی
وہ بے عدد تھے اور اُن کا کوئی شمار نہ تھا
سو اُن میں کوئی بھی تو شاملِ قطار نہ تھا
کسی نے آ کے اٹھایا تھا خاک سے مجھ کو
میں راہوار کی جب پشت پر سوار نہ تھا
میں خود غرض تھا بلا کا یہ کوئی جھوٹ نہیں
مگر یہ سچ بھی نہیں ہے کہ تجھ سے پیارنہ تھا
میں آدھا آئنے کے اُس طرف تھا آدھا اِدھر
کوئی    بھی میرے سوا اپنے    آر پار نہ تھا
خود اپنے ہونے سے پہلے ضرور تھے ہم لوگ
یہ اور    بات کہ مٹی میں    انتشار    نہ تھا
طاہر شیرازی

km

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

نظم

ایک نظم

  • جولائی 11, 2019
       از : یوسف خالد اک دائرہ ہے دائرے میں آگ ہے اور آگ کے روشن تپش آمیز
نظم

آبنائے

  • جولائی 13, 2019
         اقتدارجاوید آنکھ کے آبنائے میں ڈوبا مچھیرا نہ جانے فلک تاز دھارے میں گاتی ‘ نہاتی