نظم

غار : اقتدار جاوید

ہے ممکنات میں کہ دونوں ایک شہر میں مقیم ہوں
فلک کے لاجوردی تھال کو
سیہ دن کی دھول نے،
ذرا سی شام کی غریب روشنی نے،
شب کی نرم راکھ نے چھپا لیا ہو
لاجوردی تھال کو ستاروں کے سمیت کھا لیا ہو
اور اسیر ایک ہی فلک کے نیچے چل رہے ہوں
اپنی اپنی زندگی کی آگ کی انگیٹھیوں میں جل رہے ہوں
ہے عین ممکنات میں
کہ گاڑیوں کے ازدحام میں
رکے ہوں اک جگہ پہ انتظار میں
کہ سبز روشنی ہو چل پڑیں، نکل پڑیں
سڑک کی بھیڑ میں رواں دواں ہو
ساتھ ساتھ جا رہے ہوں
ایک شاہراہ پر
سفید بدلیوں کی چھاٶں
ساتھ ساتھ پڑ رہی ہو
آٸنے میں دفعتہً تری جھلک پڑے
نگاہ یک بیک چھلک پڑے
سیاہ شب میں دونوں نیند کے جہاں میں
عین مین ایک شکل دیکھتے ہوں
موتیے کے پھول کھل اٹھے ہوں
دو گھروں کے سامنے
ہے ممکنات میں
کہ دونوں ایک شہر میں مقیم ہوں
ہم ایک راستے سے شہر کی حدود چھوڑتے ہوں
سات دن کہیں گزارتے ہوٸے
بہم ہوں، خود کو جوڑتے ہوں
یا دوبارہ ایک راستے سے دونوں
شہر کے مہیب غار میں اتر رہے ہوں!!

younus khayyal

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

نظم

ایک نظم

  • جولائی 11, 2019
       از : یوسف خالد اک دائرہ ہے دائرے میں آگ ہے اور آگ کے روشن تپش آمیز
نظم

آبنائے

  • جولائی 13, 2019
         اقتدارجاوید آنکھ کے آبنائے میں ڈوبا مچھیرا نہ جانے فلک تاز دھارے میں گاتی ‘ نہاتی