نظم

سیاہی میں ڈوبی انگلی : سعید اشعر


یوں ہے
پھر اس نے مسلسل
مجھ کو نظر انداز کیا
کاغذ پہ سیاہی گر جاتی ہے
کپڑوں پہ لگا دھبہ
کسی سلوٹ میں چھپ جاتا ہے
ہاتھ کی ریکھاؤں کا
کس نے حساب رکھا
سوکھی شاخ پہ بیٹھا پنچھی
کب اڑ جاتا ہے
ویران حویلی کے
کچھ دروازوں کو دیمک چاٹ رہی ہے
"مرشد
کوئی وظیفہ
کوئی دعا
تسبیح کے دانے
گنتی بھول چکے ہیں
میری آنکھوں میں رہنے والے
اک شخص کی روح
مجھ سے میرا بدن مانگ رہی ہے
میں سورج کو ہاتھ میں لے کر
کب تک چاند کا چہرہ دیکھوں گا
مرشد
میری سانسیں
غار میں سونے والوں کے پیچھے
پربت کا رستہ ڈھونڈ رہی ہیں
کوئی آیت
میرے ماتھے کی زینت کر دیں”
یوں ہے
پھر میں نے اس کو
اس کے ہونے کے آگے
اک پردہ جانا

km

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

نظم

ایک نظم

  • جولائی 11, 2019
       از : یوسف خالد اک دائرہ ہے دائرے میں آگ ہے اور آگ کے روشن تپش آمیز
نظم

آبنائے

  • جولائی 13, 2019
         اقتدارجاوید آنکھ کے آبنائے میں ڈوبا مچھیرا نہ جانے فلک تاز دھارے میں گاتی ‘ نہاتی