سلاخوں کے اُس طرف : عادل ورد


درندے نوچتے ہیں
ہمیں وحشی درندے نوچتے ہیں
ہم اپنے مختلف سائے بنا کر بھول جاتے ہیں
اندھیرے راستوں میں روشنی نیلام کرتے ہیں
درآمد خواب کے جنجال کرتے ہیں
انہیں اپنے مطابق ڈھالتے ہیں, رنگ بھرتے ہیں
ہمارے جسم جب سرگوشیوں میں بات کرتے ہیں
کہیں لاوا نہیں بہتا!
نہ ہی چقماق سے چنگاریاں بھی جنم لیتی ہیں
ہم اپنی ہی بساوٹ حلق میں محسوس کرتے ہیں
نشے میں جھومتے رہنے کا سستا ڈھونگ کرتے ہیں
ہم اپنے سانحے کو کائناتی مان لیتے ہیں
ہمیں آفات کی پرواہ نہیں ہے کچھ بھی ہو جائے
ہمارا گھر سلامت ہے تو یہ دنیا سلامت ہے
ہماری ذات کی تقسیم بھی کتنی انوکھی ہے
کہیں صحرا, کہیں دریا سمندر آبشاریں ہیں
بہاریں لوٹتے بھنوروں سے بوجھل باغ ہیں اک دو
کہیں پر دشتِ وحشت ہے کہیں تاریک جنگل ہیں
مگر وحشی درندے جنگلوں میں کون لے آیا
عادل ورد

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post