سرابی (طویل نثری نظم ) : فرحت عباس شاہ

1
محرومی اور بے بسی کی گھٹن
کمرے میں دو چار، دس بیس بتیاں، اور ہوتیں
وہ بھی جلا لیتا
کھڑکیاں اور زیادہ ہوتیں
وہ بھی کھول لیتا،
کاش کسی طرح چھت ہی کھل سکتی،
یا پھر سینہ ہی ایسا ہوتا،
جب چاہتے کھلا آسمان بنا لیتے
ہر طرف چراغ ہی چراغ جلا لیتے
کہیں سے کسی سورج کو پکڑ لاتے،
اور کہیں درمیان میں گاڑ دیتے
اُداسی کی نیم تاریکی، خاموشی کی، تنہائی،
وحشت اور بے چینی کی نیم تاریکی
جہاں اتنی ساری نیم تاریکیاں اکٹھی ہو جائیں،
کتنا گھٹا ٹوپ اندھیرا پھیل جاتا ہے
اور جہاں خاموشی کی گھٹن،
بے بسی اور بیچارگی کی گھٹن،
ایک دوسرے سے مل جائے،
کتنا بوجھ ہو جاتا ہے
اور پھر کوئی ایک بوجھ کہاں
سو سو طرح کے، الگ الگ، مختلف
خوشیاں بھی بوجھ ہوتی ہیں،
اگر اسے بتائی نہ جا سکیں،
جسے ہم بتانا چاہتے ہیں
کامیابیاں بھی بوجھ ہوتی ہیں،
اگر اسے دکھائی نہ جا سکیں،
جسے ہم دکھانا چاہتے ہیں
وابستگیاں بھی بوجھ ہوتی ہیں
اگر اسے سنائی نہ جا سکیں
جسے ہم سنانا چاہتے ہیں
شہرت، عزت، دولت، سب بوجھ ہوتا ہے
دکھوں اور ناکامیوں کے بوجھ کی طرح
بعض اوقات ان سے بھی زیادہ بوجھل
اس میں کوشش کی تھکن
اور تھکن کی نامرادی
زیادہ شدت سے شامل ہو جاتی ہے
2
اسے بلاتا، اگر وہ ہوتا
کمرے میں دو چار، دس بیس، بتیاں اور ہوتیں
تو وہ بھی جلا لیتا
اور اسے بلاتا
اور اپنے نصیب دکھاتا
اپنی کامرانیاں، ایک ایک کر کے اس کے سامنے رکھتا
پھر اسے شہر لے جاتا اور اپنی فتوحات دکھاتا
اور اپنے قصے سناتا
اگر وہ ہوتا
آسمان کتنا نیچے ہے
بالکل سر کے اوپر،
بالوں کو چھوتا ہوا
ابھی گرا، کہ ابھی گرا
فضا کتنی تنگ ہے،
بدن کو دبوچتی ہوئی
اور پھر کمرہ۔۔۔۔۔۔۔۔
3
دکھ بھی ایک طاقت ہے
ہر رنگ میں
کئی دوسرے رنگ بھی ہوتے ہیں
آنسو صرف آنسو ہی نہیں ہوتا،
ایک کہانی بھی ہوتا ہے
ایک مسافر بھی
دکھ بھی ایک طاقت ہے،
کئی رنگوں سے بھری ہوئی
اور محبت۔۔۔۔ محبت بھی مسافر ہے،
اور اس کے بھی کئی ہزار رنگ ہوتے ہیں
کبھی صدیوں کی مسافت طے کر کے،
ایک بچے میں گھر کر لیتی ہے،
اور اپنے رنگ، ایک ایک کر کے ظاہر کرتی ہے
اور کبھی پہلے ہی لمحے،
جہان بدل دیتی ہے
فطرت اتنی خوش شئے نہیں،
جتنی اداس شئے ہے
ہو سکتا ہے، اتنی اداس بھی نہ ہو،
جتنی لگتی ہے
4
کوئی رویا کیوں نہیں؟
وہ کمرہ بھی تو کہیں تھا
جس میں پہلا سانس لیا تھا، اور محبت ہنس پڑی تھی،
دکھوں نے منہ بسور لیا تھا،
بدنصیبی صرف گھُور کے رہ گئی تھی،
اور سب چونک گئے تھے،
اور چونک کے بکھر گئے تھے
ساکت و صامت پیدائش، جامد جنم
کوئی رویا کیوں نہیں؟
کسی معصومیت کی پہلی آمد کا پہلا احتجاج؟
یہ سب کیوں نہیں ہوا؟
انہیں کیا خبر تھی
یہ سب کچھ بس آج نہیں
اور اس کے بعد پھر ہمیشہ رہے گا
قطرہ قطرہ آنسو،
موسلا دھار بارش اور سیلاب
اور سیلابِ بلا ہمیشہ جاری رہے گا
5
محبت پھر ہنس پڑی
وہ رویا نہیں تھا
لیکن زندہ تھا
کچھ زیادہ ہی زندہ تھا
زندہ لوگوں میں بھی بس ایک وہ زندہ لگتا تھا
اور لگتا ہے
زندہ احساس،
زندہ جذبہ اور زندہ دکھ
میں نے دیکھا میں اکیلا تھا
اور ہمیشہ رہا
محبت پھر ہنس پڑی
اور تنہائی حیران رہ گئی
محبت ہنس پڑی
اور مزید اکیلا کر گئی
محبت؛ میرے شعور کی پہلی کرن
کاٹ دار، میٹھی اور نوکیلی
محبت؛ دل، جان ، روح، زندگی
محبت؛ کمرہ، گھر، شہر، کائنات
محبت؛ خدا
مجھے اور زیادہ تنہا کر گئی
محبت، خون میں گھُل گھُل جاتی
گہرائیوں میں اُتر اُتر پڑتی
تنہائی؛ ہر طرف، ہر سُو
کھلونوں میں بھی، رنگوں میں بھی
میں اس کی طرف بھاگا،
بازو پھیلائے اور سینہ کشادہ کئے،
بھاگا، دیوانہ وار بھاگا اور خلا سے جا ٹکرایا
اور ٹکرا کے گر پڑا
محبت پھر ہنس پڑی
یہ جان کر کہ کوئی میرے لیے گرا ہے
اُف کیسی خوشی تھی
اس بے نیاز کے چہرے پر
منعکس ہوئی اور میرے چہرے پر پڑی
میں بھی خوش ہو گیا
اور خوش ہو کے آنسوؤں میں ڈوبتا چلا گیا
پھر ایک ہاتھ بڑھا،
میرے ہاتھ کی طرف
اور رک گیا،
مجھے نکالا نہیں،
بس چھو کے واپس مڑ گیا
جیسے اس کا بس اتنا ہی کام ہو
6
تتلی کے پَر سے بھی دُکھ جانے والا دل
بچے بھی کتنے عجیب ہوتے ہیں
عجیب اور معصوم
معصوم اور کمزور
مرضی کے خلاف،
خواہش سے پرے، اک ذرا پلک جھپکو
اور یہ، وہ بکھرے
ننھا سا دل، تتلی کے پر سے بھی دکھ جانے والا دل
جگنو کی روشنی سے بھی جل جانے والا دل
خوشبو کی شدت سے بھی ٹوٹ بکھرنے والا دل
ایسا دل، کھلونے کھیلنے والوں کے ہاتھ آیا
اور کنارا کنارا ٹوٹتے ریت ہو گیا
پھر سمٹا، پھر سمٹا، پھر ریت ہو گیا
جلا ہوا زخم،
دکھا ہوا آبلہ
7
خالی واپس لوٹتا
کیسا بچہ تھا
تنہائی کے ساتھ کھیلا کرتا
اور خاموشی سے باتیں کیا کرتا
ہوا سے لڑ بیٹھتا
اور دیواروں سے روٹھ جاتا
روٹھ جاتا
اور خواہش کرتا کہ اب وہ اسے منائیں
دیواریں اسے منائیں
اور وہ مان جائے
پہلی ہی بار مان جائے
لیکن وہ منائیں تو سہی
بازار جانے کی خواہش کرتا
اور خالی واپس لوٹتا
سوچتا
شاید بازار صرف دیکھنے کے لئے ہوتے ہیں
لیکن سب، صرف دیکھ کر ہی واپس کیوں نہیں آ جاتے
وہ اور الجھ جاتا
8
وہ رویا کرتا اور محبت ہنسا کرتی
بچے کے آنسو اتنے رخساروں پر نہیں گرتے
جتنے دل پر گرتےہیں
معصوم، کمزور اور دکھے ہوئے دل پر
پتھر اور انگارے بن بن کے
میں نے اس بچے کے ساتھ بچپن گزارا ہے
جسے خود اس کی اپنی آواز کوسوں دور سنائی دیا کرتی تھی
وہ ایک مغرور خاموشی کی گود میں پلا
وہ رویا کرتا اور محبت ہنسا کرتی
وہ ہنستا، تو تقدیر کانپ جاتی
اس کے پاس بہت سارے کھلونے ہوتے
اور اس کا دل نہ لگتا
وہ جسے ڈھونڈتا
اسے کہیں بھی نہ ملتا
اور وہ ڈھونڈتا رہتا
9
ہر روز جب شام ڈھلتی
وہ اسے ڈھونڈتا رہتا
اور تھک ہار کر اور زیادہ بے چین ہو جاتا
ہو روز جب شام ڈھلتی
وہ سب سے آنکھ بچا کے
آنگن کی پچھلی دیوار کے پاس
اُگے ہوئے خود رو پودوں
کی جڑوں میں زمین کھودتا
قبر بناتا اور اپنا ایک کھلونا دفن کر دیتا
اُف۔۔۔ میرے خدا
ہوائیں بین کر اٹھتی
اور شام تڑپ کے رہ جاتی
وہ آدھی آدھی رات کو بستر پر اٹھ بیٹھتا
اور گہری خاموشی سے
اپنے اندر ایک گہری غار کھودتا اور اپنا آپ اس میں دفنا دیتا
اور محبت محبت پکارتا رہتا
محبت، کائنات کی نبضوں میں دھڑکنے والی قوت
خدا کے لہجے میں بولنے والی قدرت
زمین کا سینہ چیر کے اُگ آنے والی زندگی
محبت۔۔۔۔۔۔۔۔۔
10
سرابی ایک عام سی شئے
میں محبت محبت پکارتا
اور محبت مجھے اپنے پیچھے پیچھے بھگائے پھرتی
گھسیٹتی
مارتی
دھکے دیتی
اور ہنستی
اور مجھے سرابی کی طرف کھینچتی
میں کھنچا چلا جاتا
سرابی ایک عام سی شئے
نہ لمبی نہ چھوٹی
نہ گوری نہ کالی
نہ اچھی نہ بُری
میں اس کی عام آنکھوں میں دیکھتا
میرے اندر محبت چمکتی
اور روشنی اس کی آنکھوں میں جا پڑتی
روشنی اُن آنکھوں میں جا پڑتی
وہ دنیا کی حسین ترین آنکھیں بن جاتیں
ایک جہان ان میں سمٹ کے رہ جاتا
وہ ہنستی، بہاریں جوان ہو جاتیں
وہ شرماتی، وقت تھم جاتا
پھول مہکتے اور میں سوچتا
میں سوچتا
اس کی آنکھیں
اور اس کی آنکھوں میں بسی ہوئی
سیاہ اور گھنیری راتیں
اس کا چہرہ اور چہرے سے منعکس ہوتی ہوئی چاندنی
اس کی خوشبو اور خوشبو سے معطرماحول
اس کی مسکراہٹ اور کسی خنک سحر میں کھلی ہوئی کلیاں
اس کے ہونٹ اور گیتوں کا بدن
اس کی آواز اور زندہ ہونے کا احساس
اس کا بدن اور لمس کی اتھاہ
اس کی سانس اور بادِ نسیم
اس کی ذات اور میں
میں اور محبت
محبت اور دیوانگی
الگ الگ دنیائیں
الگ الگ جہان
لیکن اتنے قریب اور پیوست
اتنے باہم
اتنے لازم و ملزوم
اتنے ناگزیر
میں اور محبت
11
میں نے چھپا لیا اور محبت نے ظاہر کر دیا
میں اس کے بالوں کو چھوتا
محبت زنجیر بن جاتی
اور زنجیر بن کے اس کی زلفوں میں سرایت کر جاتی
میں بندھ جاتا
مقید ہو جاتا
سر تا پا مقید اور محصور
وہ روٹھتی تو دنیا روٹھ جاتی
وہ دور ہوتی، تو میں گلیوں گلیوں مارا مارا پھرتا
اپنے آپ کو ڈھونڈتا
آوازیں دیتا
چلاتا
سڑکیں میرا مذاق اڑاتیں
راستے مجھ پر آوازے کستے
موسم مجھے رحم سے دیکھتے
لوگ ترس کھاتے
پھر میں نے چھپا لیا
سب کا سب
ہر ایک سے چھپا لیا
اس سے بھی
لوگوں سے بھی
اور اپنے آپ سے بھی
میں نے چھپا لیا
اور محبت نے ظاہر کر دیا
میں نے اس کی خاطر، راتوں سے پیار کیا
اور رتجگوں سے دوستی
شاموں سے شناسائی پیدا کی
اور رونقوں سے اجنبی ہو گیا
چاند سے اس کا پتہ پوچھا
اور درختوں کے ساتھ مل کے اس کا سوگ منایا
میں اس سے لڑ پڑتا
اور خود پہ غصہ تان لیتا
اس سے بولنا بند کرتا
ویرانیوں سے باتیں کرنا شروع کر دیتا
کرتا جاتا، کرتا جاتا، کرتا چلا جاتا
اس سے ملتا اور چپ ہو جاتا
سوچتا اس سے کہوں
کبھی تو ایسا کرو
اپنے دنو ں سے باہر نکلو
میری راتوں میں آؤ
اور میرے وجود کو اپنی آنکھوں میں اتارو
میری روح میں اترو
مجھے خود پہ منکشف کرو
ایک آتش
ایک تپش
ایک حدّت
ایک شدّت
چلو دور سے ہی سہی
اور ایک ذرا لمحہ بھر کو ہی سہی
کبھی محسوس تو کرو
کبھی محسوس کرنے کی کوشش تو کرو
کبھی کوشش کرنے کا ارادہ تو باندھو
کبھی ارادہ باندھنے کا سوچو تو سہی
میں ہمیشہ سوچتا،
سوچتا
لیکن کہہ نہ پاتا
12
گلا آنسوؤں سے بھر گیا
کبھی بھی کہہ نہ پاتا
ایک جھجھک
ایک ضد
ایک انا آڑے آجاتی
شاید اس بچے کا احساس
جس کے پاؤں میلے
اور ہاتھ گرد آلود ہوتے
اور وہ سرابی کے گرد
صاف شفاف کپڑوں والے اجنبیوں کو دیکھ کر گھبراتا جاتا
کبھی انہیں دیکھتا
کبھی اپنے آپ کو
اور کبھی سرابی کو
بے نیاز اور لاپرواہ سرابی کو دیکھتا
اور روہانسا ہو جاتا
اس کے سینے میں سرابی کی لاپرواہی چبھ جاتی
گلا آنسوؤں سے بھر جاتا
وہ تھکا تھکا، ہارا ہارا، اپنے گھر لوٹ آتا
فیصلہ کرتا
آئندہ سرابی سے کبھی نہیں ملے گا
پھر وہ مدتوں اس سے نہ ملتا
لیکن بھٹکتا رہتا
اپنی ہی اداسیوں میں بھٹکتا رہتا
اپنی ہی وحشتوں اور ویرانیوں میں بھٹکتا رہتا
اپنے خوابوں سے ٹکراتا
اور خیالوں سے سر پھوڑتا
اور تنہائیوں کے بال نوچتا
موسموں کے گریبان پھاڑتا
اور تار تار کر دیتا
دھول اڑاتا
اور تھک جاتا
ٹوٹ پھوٹ جاتا
ریزہ ریزہ ہو جاتا
پھر اسے پکارتا
زور زور سے پکارتا
اور سوچتا
سوچتا رہتا
13
تم کب آؤ گے
وہ سوچتا
انا تو صرف دور لے جانے کے لئے ہوتی ہے
فاصلے بڑھانے کے لئے
جدا کرنے کے لئے
خوابوں اور تمناؤں کے سینے پر رکھا ہوا بھاری پتھر
خواہشوں کی نگاہوں میں
گڑا ہوا نیزہ
چُنی ہوئی دیوار
پھیلا ہوا جنگل
اور ایستادہ پہاڑ
بھلا انا بھی کبھی خوش ہوتی ہے
میں تھک جاتا ہوں
بہت تھک جاتا ہوں
یہ بھاری چٹان مجھ سے اٹھائی نہیں جاتی
اور میرا دل مسل مسل دیتی ہے
پیس دیتی ہے
پیس دیتی ہے اور پھر مسل دیتی ہے
تم کب آؤ گے
اپنے سینے سے اپنی انا کا بوجھ ہٹا کے
14
بوڑھا اور صدیوں پرانا لڑکا
بس سوچتا رہتا
کبھی کہہ نہ پاتا
انا جیت جاتی
وہ ہار جاتا
ہمیشہ ہار جاتا
یہ ہار۔ یہ شکست تو پہلے ہی دن سے تھی
تب بھی تھی، جب بچہ تھا
تب بھی تھی، جب وہ لڑکا بنا، دبلا پتلا سا لڑکا
میلے کپڑوں اور گندے پیروں والا لڑکا
گلی محلے میں کینچے اور فٹ بال کھیلنے والا لڑکا
لیکن محبت میں خاص
بہت ہی خاص
بوڑھا اور صدیوں پرانا لڑکا
جس کے اندر کوئی مدتوں پرانا شہر آباد ہو
اضطراب اور بے قراری کا شہر
کرب اور کرب سے سرشاری کا شہر
وہ لڑکا گھر سے باہر نکلتا
تو دوسرے کہتے
میلے کپڑوں والا لڑکا آیا ہے
اور اگر کبھی اچھے کپڑے پہن کے نکلتا
تو صرد کپڑے دیکھے جاتے
اور سبھی کپڑوں کا ہی پوچھتے
وہ زرد پڑ جاتا
بیمار ہو جاتا
اور سرابی کی طرف دوڑتا
جہاں کوئی نہ کوئی قیمتی کپڑوں والا موجود ہوتا
جسے دیکھ کر اس کی آنکھوں میں ایک بھاری تاریکی اتر آتی
اور آنکھوں سے ہوتی ہوئی اس کے دل میں اترنے لگتی
وہ نڈھال سا ہو جاتا
لاغر اور بے حال
اور سرابی کہتی، پھر آنا
وہ لوٹ جاتا
وہی شکست،
وہی ہار،
وہی ٹوٹ،
وہی کرب،
وہی عذاب،
سارا کچھ وہی،
اپنی مضمحل روح میں سمیٹے لوٹ جاتا
لوٹ جاتا اور فیصلہ کرتا،
آئندہ کبھی نہیں آئے گا،
کبھی بھی نہیں،
وہ فیصلہ کرتا
اور بیمار پڑ جاتا
شدید بیمار،
اتنا، کہ موت کو چھو آتا،
لیکن مرتا نہیں تھا،
ہر بار جی اٹھتا،
شاید اسی انا اور اسی ضد کے ہاتھوں،
مجبور ہو جاتا
محصور ہو جاتا
نفرت میں، احساس کمتری میں،
محرومی میں،
بے چارگی میں اور غریبی میں،
اسے غریبی سے نفرت تھی،
وہ سوچتا
لڑکے مجھے اپنے ساتھ کھیلنے کیوں نہیں دیتے،
ان کی ماں باپ انہیں مجھ سے دور کیوں رکھتے ہیں
کیا بیمار اتنے ہی برے ہوتے ہیں،
اتنے ہی گندے ،
پھر میں بیمار کیوں ہوں،
وہ سوچتا
لیکن کسی سے پوچھتا نہیں
بس سوچتا اور دکھی ہو جاتا
15
جو ہوتا ہے، وہ نہ ہونے سے بچ جاتا ہے
ہاں میں سوچتا اور دکھی ہوجاتا
لڑکپن بھی ایک موسم ہوتا
ناپختہ اور معصوم
اور اگر غمناک بھی ہو
اور سوگوار بھی
تو قیامت ڈھا دیتا ہے
میں نے ایسے ہی کسی غمناک
اور سوگوار موسم میں لڑکپن بسر کیا ہے
سرابی کی محبت
اس کی دیوانگی
اور جنون میں محبوس
اور اس کی نفرت سے مغلوب ہو کے
محبت زیادہ طاقتور تھی
لیکن نفرت غالب اور حاوی
کہ یہ بھی اسی محبت ہی کا معجزہ تھی
ورنہ ہوتی ہی کیوں
“ہونا” ہی تو “ہستی” ہے، جو “ہوتا” ہے وہ “نہ ہونے” سے بچ جاتا ہے
لیکن کبھی کبھی کوئی “ہونا” “نہ ہونے” سے بھی بدتر ہوتا ہے
میں نے یہ جان لیا تھا
اور سمجھ لیا تھا
اور پھر ٹھان بھی لیا تھا
کہ “ہونا” ہے
اور ایسے “ہونا ہے” کہ کپڑے کوئی نہ دیکھے،
چہرہ کوئی نہ دیکھے،
گھر کوئی نہ دیکھے،
بس مجھے دیکھے اور میرے ہونے کو
کتنا مشکل ہے
یہ “ہونا” بھی
کبھی کبھی تو اتنی شدت سے دل کرتا ہے
نا ہی ہوتے تو بہتر تھا
لیکن وہ آرزو ہی کیا جو پوری ہو جائے
آرزو تو ہے ہی نا پورا ہونے کا نام
حسرت سے اک ذرا سی پہلی سٹیج
نا پورا ہونا، نا ملنا، نا حاصل ہونا،
بالکل سرابی کی طرح
میں اسے پانے کی آرزو کرتا
اور وہ دور ہو جاتی
میں پیچھے ہٹتا تو ہر سُو نظر آنے لگتی
میں پیچھے ہٹتا،
دور ہوتا،
رغ بدل لیتا،
راستے تبدیل کر لیتا،
نئی نئی منزلیں متعین کر لیتا،
اور یہ سب پیچھے ہٹنا، دور ہونا،
رخ بدل لینا،
یہ راستے اور یہ منزلیں
سب مل کے مجھے پھر اُسی کی جانب دھکیل دیتے
مجھے اس کی جانب دھکیل دیتے
اور میں پھر ہار جاتا
16
کن ویرانوں کا اسیر کر گئے ہو
مجھے راستے ہی بدلنے دیے ہوتے
ذرا سنبھلنے دیا ہوتا
مجھے کن زندانوں میں قید کر گئے ہو
کن زندانوں کا حصہ بنا گئے ہو
کن ویرانوں کا اسیر کر گئے ہو
تم سے دور ہونے کو جتنا بھاگتا ہوں
کھلتا یہی ہے کہ تمہاری طرف بھاگ رہا ہوں
17
چاند سے ناراض رہتا
سب منزلیں، سب راستے
مل کر مجھے اس کی جانب دھکیلتے
اور میں پھر ہار جاتا
میں ہار جاتا
اپنے زخمی وجود
اور زخمی روح سمیت
اور کہتا
میں ہاروں گا نہیں
میں اچھے جوتے پہنوں گا
قیمتی کپڑے خریدوں گا
میں خوبصورت ہو جاؤں گا
اور سب مجھے جانیں گے
مجھے چاہیں گے
مجھے اپنانے کی خواہش کریں گے
اور میں اسی خواہش میں نکل پڑتا
سڑکوں پر،
گلیوں میں،
جنگلوں میں،
قبرستانوں میں،
پھرتا، سوچتا، جاگتا، بھاگتا،
پتھروں سے ٹکراتا
دھول سے کھیلتا
راتوں سے پیار کرتا
چاند سے ناراض رہتا
سورج کو آنکھیں دکھاتا
اور آندھیوں کو ٹھوکریں مارنے کی کوشش کرتا
وحشتیں میرے ساتھ ہوتیں
دہشت مجھ پہ طاری رہتی
اور ویرانی میرے آگے آگے رہتی
میں نے دیکھا لوگ خوفزدہ ہیں
رات خوفزدہ ہے
میں خوفزدہ ہے
پورے کا پورا ماحول خوفزدہ ہے
میں نے جانا
لوگ تنہا ہیں
میں تنہا ہوں
رات تنہا ہے
شہر تنہا ہے
پورے کا پورا موحول تنہا ہے
میں نے محسوس کیا
سب اداس ہیں
میں بھی
تو بھی
یہ بھی
وہ بھی
کوئی بھی ایسا نہیں جو اداس نہ ہو
وہ بھی جو اداس کرنے والے ہیں
جو ڈراتے ہیں اور تنہا کر دیتے ہیں
اور یہ تو قانون فطرت ہے
جو ڈراتے ہیں وہ ڈرتے ضرور ہیں
جو اداس کرتے ہیں وہ اداس ہوتے ضرور ہیں
جو رلاتے ہیں وہ روتے ضرور ہیں
اس لئے تو سبھی اکیلے ہیں
میں بھی اور سرابی بھی
اور اس کے ارد گرد قیمتی کپڑوں والے بھی
18
یہ میں کیسے سفر پر نکل کھڑا ہوا ہوں
پیسے سے جسم کی تنہائی تو شاید دور کی جا سکے
لیکن روح کی تنہائی کیسے دور ہو
اور جب روح تنہا ہوتی ہے
تو کائنات تنہا ہو جاتی ہے
جب روح ویران ہو تی ہے
تو کائنات ویران ہو جاتی ہے
اور قیمتی کپڑے پہننے سے روح کی ویرانی کبھی دور نہیں ہوتی
بلکہ روح زیادہ کھوکھلی ہو جاتی ہے
روح کی ویرانی تو میلے کپڑوں سے بھی دور نہیں ہوتی
البتہ یہ اور بات ہے
کہ مزید کھوکھلی ہونے سے بچ جاتی ہے
میں نے دیکھا،
لوگ دکھی ہیں
اپنے اپنے دکھ میں
اپنی اپنی روحوں میں چھپائے
اپنی اپنی میتیں
اپنی اپنی دہلیزوں پر رکھے
چھپ چھپ کے روتے رہتے ہیں
میں گھبرایا!
یہ میں کیسے سفر پہ نکل کھڑا ہوا ہوں
یہ کیسا سفر ہے
لگتا ہے
سب کے سب اسی سفر پہ نکلے ہوئے ہیں
ساری دنیا
سارے لوگ
اپنے اپنے تلووں سے آبلے باندھے۔
مسافتوں کے نوکیلے دانتوں میں پاؤں دیے
قافلہ در قافلہ
فاصلہ در فاصلہ
اپنی اپنی طے شدہ منزل کی طرف بڑھنے کے دھوکے میں
اور دور ہوئے جاتے ہیں
ذرا اور آگے بڑھا
تو دیکھا
کچھ تھک گئے ہیں
اور مزار ڈھونڈتے پھر رہے ہیں
تا کہ کچھ دیر پناہ لے سکیں
یہاں پناہیں بھی تو صرف مزاروں ہی میں مل سکتی ہیں
چاہے اپنے ہوں
چاہے کسی اور کے
میں نے دیکھا
کچھ تھک گئے
اور کچھ تھک کے گر پڑے ہیں
اور چل نہیں سکتے
چل نہیں سکتے
بس پتھریلی اور سرد زمین پر
رخسار دھرے
آس پاس سے گزرنے والوں کے پاؤں دیکھتے جا رہے ہیں
اور لرز رہے ہیں
جانے کون سا پاؤں
کونسی ایڑی
سیدھی پیشانی پہ آ پڑے
ایڑی پیشانی پہ آپڑے
اور آنکھیں لہو سے بھر جائیں
آنکھیں لہو سے بھر جائیں
اور یہ آخری روشنی بھی جاتی رہے
اور پھر پتہ ہی نہ چلے
کب اور کیسے
کونسی ایڑی سینے پہ پڑی
اور کونسی دل پہ
آدھے دل،
آدھی ایڑیاں،
یا کُچلے جاؤ
یا کُچل دو
یا لرزتے رہو
کانپتے رہو
جب تک کُچلے نہیں جاتے
ایک اذیت سے دوسری اذیت تک
سسکاری سسکاری سسکتے رہو
تڑپتے رہو
19
محبت گرنے نہیں دیتی
اُس نے، اُسی صدیوں پرانی محبت والے لڑکے نے
اُسی دیواروں سے روٹھنے منانے کی باتیں کرنے والے
کنارا کنارا ٹوٹتے دل والے بچے نے
دیکھا
اور گھبرا کے اپنی ایڑیاں سمیٹ لیں
اور رُک رُک کے
ٹھہر ٹھہر کے چلنے لگا
ڈر ڈر کے کہ کہیں اُسکی اپنی ایڑی
کسی بے گناہ کے زخم
اور کسی مظلوم کے آنسو پر نہ جا پڑے
وہ چلنے لگا
قیمتی کپڑوں کی طرف
شفاف پیروں کی طرف
اپنے “ہونے” کی طرف
اور سرابی کی طرف
بہت کٹھن تھا ایسے چلنا بھی
قدم قدم پر نوکیلی کرچیاں بکھری تھیں
تیز دھار کانٹے تھے
اور ترچھے کونوں والے سنگریزے تھے
یا پھر سینے اور پیشانیاں تھیں
اس نے پہلا راستہ منتخب کیا
اور لہو لہو ہو گیا
لہو لہو ہو گیا
لیکن گرا نہیں
کہیں بیٹھا نہیں
گرتا بھی کیسے
محبت گرنے نہیں دیتی
اور نہ نفرت بیٹھنے دیتی ہے
کبھی بہت تھک جاتا
تو کسی اجاڑ رات کے دامن میں منہ چھپا کے رو پرتا
بہت روتا، بہت روتا،
اتنا، کہ رات بھیگ جاتی
اور پھر روتے روتے صدیاں بیت جاتیں
20
ابھی مجھے چلنا ہے
کپکپاتی ہوئی آنکھوں
اور لرزتے ہوئے ہونٹوں کی قسم
کبھی کبھی
آنسو بھی کتنے عام، کتنے سطحی
اور کتنے سرسری ہو جاتے ہیں
نہ کچھ بتا سکتے ہیں
نہ دکھا سکتے ہیں
کاش ایسا ہوتا
ہم جب چاہتے خون رو سکتے
اور میں ہمیشہ خون روتا
اور تمہیں یاد کرتا
تمہارے بغیر سفر کتنا نوکیلا ہو گیا ہے
قدم قدم پر روح چیر دیتا ہے
اور سانس سانس پہ دل
لیکن چیری ہوئی روح
اور چھدے ہوئے دل سمیت
ابھی مجھے چلنا ہے
اور چلنا ضرور ہے
21
ایک نئی رات جاگ رہی تھی
پھر ایک رات
اس کے اندر پہلا چراغ جلا
دکھ کو طاقت بنا لینے کا چراغ
اور جدائی کو ہمسفری پر تیار کر لینے کا چراغ
چراغ جلا
اور اس کی ذات نور سے بھر گئی
اسے وہ لوگ بھی نظر آنے لگ گئے
جو اپنے اپنے قیمتی کپڑوں میں اپنے اپنے ناسور چھپائے پھرتے تھے
اسے وہ لوگ بھی نظر آنے لگ گئے
جو اپنے اپنے کچے مکانوں میں
اپنے اپنے بھرم چھپائے پھرتے تھے
چراغ جلا
اور محبت بیدار ہوئی
اور بیدار ہو کے بلند ہو گئی
اور بلند ہو کے پھیل گئی
ہر طرف ہر سُو
چراغ ہی چراغ جل اٹھے
روشنی ہی روشنی پھیل گئی
اس نے سنا کوئی کہہ رہا تھا
تمہی تو مرکز تھے
تم سے ٹوٹا
اور کائنات میں بکھر گیا
اس نے پھر سنا
یہ تمہاری محبت ہی ہے
جو آنکھوں میں چاند
اور دل میں چاند
اور دل میں چہرے
اور روح میں سکھ کی خواہش
سجائے پھرتا ہوں
کوئی اس کے اپنے اندر ہی سے بول رہا تھا
کوئی بول رہا تھا
اور وہ سمجھ رہا تھا
بڑی آسانی سے سمجھ رہا تھا
کیونکہ اب وہ لڑکا نہیں رہا تھا
جوانی کی دہلیز پہ قدم رکھ چکا تھا
اس دہلیز پہ، جہاں ساری باتیں نا بھی سمجھ آئیں
لیکن کچھ نہ کچھ ضرور سمجھ آ جاتی ہیں
وہ سمجھ رہا تھا
سردیوں کی دھوپ کی تمازت
اور گرمیوں کی صحرائی رات
لذت خیز حدت اور نشاط خیز خنکی
وہ دہکتی ہوئی ریت
اور سن کر دیتی
یخ بستگی کا عادی تھا
نئے موسم اسے نئی کیفیتوں سے روشناس کرا گئے
اس نے اپنی روح پر پڑی ہوئی گرد جھاڑی
اور پہلی بار اِرد گرد کو ایک نئی
اور مخصوص نظر سے دیکھا
اس نے یہ بھی دیکھا
سرابی کی محبت تہہ در تہہ شکلیں بدل رہی ہے
ایک جہاں بدل رہا تھا
ایک نئی صبح انگڑائی لے رہی تھی
ایک نیا سورج طلوع ہو رہا تھا
ایک نئی رات جاگ رہی تھی
اور ایک نیا چاند چمک رہا تھا
اس نے بڑی حیرت سے سب کچھ دیکھا
اور خوفزدہ ہو گیا
یہ سوچ کر، کہ وہ اپنے اندر کیسے جھانکے
یہ سب کچھ ہے
تو پھر پرانا سب کچھ کہاں ہے
وہ بھی تو گیا نہیں
وہ بھی تو ختم نہیں ہوا
وہ بھی تو موجود ہی ہے
ایک خاموشی
ایک شور مچاتی ہوئی خاموشی
ایک سکوت، ایک بلبلاتا ہوا سکوت
ایک سناٹا،
ایک ویران سناٹا،
اور دھند، گہری اور پیلی دھند
جیسے کسی نے بہت سارے خزاں رسیدہ پتوں کو بارک پیس کے
ہوا میں اڑا دیا ہو
اور سرابی کہیں دور سے کچھ پڑھ پڑھ کے پھونکتی سرابی
بہت دور سے بازو لہرا لہرا کر کچھ کہتی سرابی
سر اٹھا اٹھا کر آسمانوں کی کی طرف تکتی سرابی
سرابی اور روح کے کسی خلا میں گم ہوتی سرابی
سرابی اور چراغ،
چراغ اور سرابی
وہ ہنس پڑا
پھر رو دیا
روتے روتے پھر ہنس دیا
ہوا نے کہا پاگل
ہوا نے اسے پاگل کہا
اور وہ لکھنے بیٹھ گیا
اگر یہ پاگل پن ہے
تو دنیا کی سب سے بڑی سچائی
اور حکمت بھی پاگل پن ہے
پھر یونہی ہنستے روتے جانے کب
نیند نے اس کی آنکھوں پہ اپنے لب رکھ دیے
وہ سو گیا
وہ سو گیا
اور ایک نئی بیداری شروع ہو گئی
خوابوں اور سپنوں کی بیداری
اس نے دیکھا، ایک پہاڑ ہے
اور اس کے دل پہ پڑا ہے
ایک سورج ہے
اور اس کی آنکھوں پہ دھرا ہے
ایک صحرا ہے
اور اسکی پیشانی پہ جڑا ہے
ایک فاصلہ ہے اور اسکے سینے میں گڑا ہے
ایک دیوانہ ہے
اور اس کے سامنے کھڑا ہے
اور روئے جا رہا ہے، روئے جا رہا ہے
اس نے دیوانے کے آنسو پونچھنا چاہے
اس کی انگلیاں پتھر کی ہو گئیں
اس نے دیوانے کو دلاسہ دنیا چاہا
اس کی گویائی جاتی رہی
اس نے دیکھا
وہ دیوانہ، وہ خود ہے
اور کسی صلیب پہ مصلوب ہو چکا ہے
اور فضا میں معلق ہے
اس کے گرد لاکھوں لوگ سیاہ علم اٹھائے
ایک دوسرے کو دلاسے دے رہے ہیں
اور سب کے سب دیوانے ہیں
پھر اس نے ہر دیوانے کو غور سے دیکھا
اور چونک گیا
ان میں سے ہر ایک کے کپڑے میلے ہیں
اور پاؤں گندے
اور ان میں سے ہر ایک کی، ایک اپنی سرابی ہے
جو اجلے لباس والوں کے ساتھ کہیں جا رہی ہے
کہیں بہت دور
بہت ہی دور
بہت ہی دور
وہ تڑپا اور تڑپ کے بیدار ہو گیا
22
راکھ اڑتی ہے اور آنکھوں میں جا پڑتی ہے
میں نے جب بھی بیماری کاٹی ہے
بے وجہ نہیں کاٹی
کوئی نہ کوئی باعث بنتا رہا ہے
کسی نہ کسی نے کچھ نہ کچھ حصہ ضرور لیا ہے
بیماری بھی ایک ریاضت ہوتی ہے
اگر گزر جائے
تو پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط کر دیتی ہے
چاہے دل کی ہو
چاہے دماغ کی
اور وہ جو باعث بنتے ہیں، بہت چھوٹے رہ جاتے ہیں
بڑے حقیر
اور کبھی کبھی تو
سرے سے غائب ہوجاتے ہیں
اپنی اپنی سیہ نیتوں سمیت
اور اپنے اپنے تاریک ارادوں سمیت
اور اگر بیماری نہ گزرے تو۔۔۔۔
تو پھر راکھ اڑتی ہے، پوری آبادی میں
ہمت اور حوصلے کی راکھ
صبر اور برداشت کی راکھ
راکھ اڑتی ہے
اور لوگوں کی آنکھوں میں جا جا پڑتی ہے
ان کی آنکھوں میں بھی
جو باعث نہیں بنتے
اور ان کی آنکھوں میں بھی، جو باعث بنتے ہیں
چاہے دوست ہوں یا دشمن
رشتہ دار ہوں یا غیر
اپنے ہوں یا بیگانے
آشنا ہوں یا اجنبی
سب کی آنکھوں میں جا جا پڑتی ہے
چاہے کوئی بتائے، چاہے نہ بتائے
راکھ کی اپنی ایک الگ تاثیر ہوتی ہے
یہ جہاں اڑتی ہے
جہاں جہاں پڑتی ہے
اثر ضرور دکھاتی ہے
جیسے ایک بار اڑی تھی
تو سرابی کے سائبان پر جا پڑی
راکھ سرابی کے سائبان پر جا پڑی
اور وہ بے سائبان ہو گئی
بے چھت
بے آسمان
بے سایا
وہ پہلی مرتبہ اجڑی
اور بہے اجڑی
پہلی مرتبہ اس لیے
کہ یہ جو شہر ہوتے ہیں نا
اور یہ جو بستیاں ہوتی ہیں
کئی کئی مرتبہ اجڑتی
اور کئی کئی مرتبہ آباد ہوتی رہتی ہیں
وہ اس دن بہت روئی
دیواریں پکڑ پکڑ کے روئی
سر پہ بازو رکھ رکھ کے روئی
دلاسہ دینے والوں کے کندھوں سے لگ لگ کے روئی
شفقت کرنے والوں کے دامنوں میں سر رکھ رکھ کے روئی
رو رو کے سوتی رہی
جاگ جاگ کے روتی رہی
کمزور ہوگئی
نحیف و نزار،
بیمار،
لاچار،
ڈھئے سی گئی
میں اس اجڑی ہوئی بستی کے کنارے
جلی ہوئی ریت پر بیٹھا
واحد سوگوار تھا، جو رویا نہیں
اور جو دلاسہ دینے والوں کے ہجوم میں
سب سے زیادہ دکھی تھا
لیکن رویا نہیں، آج مجھے رونا بھی نہیں تھا
بلکہ اس کو
اس اجڑی ہوئی بستی کو
اس برباد شہر کو سہارا دینا تھا
اسے تھامنا تھا
اسے حوصلہ دیتا تھا
اسے پھر سے آباد ہونے میں مدد دینا تھی
سب کچھ بھول بھال کے
فراموش کر کے
سرابی بے سائبان سرابی
غیر محفظ سرابی
اور چالاک لومڑوں
اور خونخوار بھیڑوں کا شہر
غول کے غول
اور اکیلی سرابی
نازک، کمزور اور بے آسرا
بے آسرا سرابی اور طاقتور درندے
پورا شہر کا شہر،
پورا جنگل کا جنگل
میں نے اپنے بیمار وجود کو دیکھا
پتلی پتلی نازک انگلیاں
چھوٹے چھوٹے نفیس پاروں
آدھے صاف
آدھے خاک آلود
ہاتھ اور بازو
جیسے چھوٹی چھوٹی معصوم سی شاخیں
دھان پان سا،
کانچ کا بنا دبلا پتلا وجود
جیسے تیز ہوا سے بھی ٹوٹ جائے
نازک سی جان
اور طاقتور درندوں کا شہر
طاقتور درندوں کا شہر
اور بے چھت سرابی
سرابی۔۔۔۔۔سرابی۔۔۔۔۔۔سرابی۔۔۔۔۔۔
23
محبت روپ بدلا
دوسرا چراغ جلا
میرے اندر دوسرا چراغ جلا
اور محبت نے روپ بدلا
خیال نے اپنی تمام نزاکت جھاڑی
سپنوں نے لطافت اتار دی
تمناؤں نے لِبادے بدلے
آرزوؤں نے راستے تبدیل کیے
منزل وہی تھی
لیکن راستے تبدیل کیے
راستے تبدیل کیے
اور بینائیاں نئی روشنی سے بھر گئیں
ارادے،
ولولے
اور امنگیں بھی روشنی ہوتی ہیں
اگر قائم و دائم رہیں تو
ورنہ
اندھیرا بن جاتی
میرے ہر طرف روشنی اڑ رہی تھی
قوت اور طاقت اور توانائی
اور مضبوطی کی طلبگار روشنی
تحفظ اور اعتماد کی متلاشی روشنی
میں نے اپنے ماتھے سے پسینہ صاف کیا
ہاتھوں کی لرزش پر قابو پایا
دل میں اپنا اپنا سامان باندھتے ارادوں کے قافلے پر
آخری نگاہ ڈالی
اور نکل کھڑا ہوا
24
ایسی دیوانگی بھلا کب نظر آتی ہے
عجیب و غریب نوجوان تھا
بظاہر بہت کمزور اور ناتواں
لیکن آہنی برداشت کا مالک
اور پہاڑ عزم کا وارث
زیادہ بولتا نہیں تھا
بس سنتا رہتا تھا
اور کبھی تو سنتا بھی نہیں تھا
بس سوچتا رہتا تھا
اور کبھی تو سوچتا بھی نہیں تھا
کہیں کھویا رہتا تھا
کھویا رہتا اور بھاگتا رہتا، بھاگتا رہتا، بھاگتا رہتا
اسے بس ایک ہی دھن تھی
وہ ہوا سے زیادہ ہلکا
اور آندھی سے زیادہ تیز رفتار ہونا چاہتا تھا
پھر وہ اپنے کندھوں پہ بھاری بھاری بوجھ اٹھاتا
اور پھر بھاگتا،
بھاگتا رہتا
اپنے آپ کو بوجھ اٹھانے کا عادی بناتا
نوکیلے پتھروں اور سلاخوں پر سوتا
ایک نازک اور لطیف سابدن
ناز و نعم کا پالا ہوا
پھولوں اور کلیوں میں پرورش پانے والا
خوشبو کی باتیں کرنے والا
بارشوں کے خواب دیکھنے والا بدن
ساری ساری رات سلاخوں پر لوٹتا
اور جسم پر پڑنے والے زخم
اور زخموں کے کھرنڈ اور کھرنڈوں پر بن جانے والی گانٹھیں گنتا
گانٹھیں گنتا
اور کم پا کر زخموں کو دوبارہ سلاخوں پر بچھا دیتا
تلواروں سے کھیلتا
اور خنجروں کا مذاق اڑاتا
پتھروں سے ٹکراتا
اور لوہے سے طاقت آزماتا،
آزماتا رہتا، آزماتا رہتا
اور جب تھک جاتا
تو غصے میں اور زیادہ پر جوش ہوجاتا
ارادے فولاد ہوں
تو جسم کو فولاد بنتے کچھ دیر نہیں لگتی
وہ ساری ساری رات
اپنے بازوؤں اور جسم کو
ریاضت کی بھٹی میں تپاتا
اور اسے دیکھنے والے
اسے بتانے والے
اسے سکھانے والے
ششدر رہ جاتے
اور اسے،
پاگل،
دیوانہ
اور جنونی سمجھنے پر مجبور ہو جاتے
ایسی بے باکی
ایسی بے خوفی
ایسی برداشت، ایسا صبر
ایسی دیوانگی
بھلا کب نظر آتی ہے
ایسا شوق، ایسا شوق
ایسا جنون بھلا دیکھنے کو کب ملتا ہے
صدیوں میں ایک آدھ بار جنم لینے والا عشق
قرنوں میں جاکے کہیں پیدا ہونے والا جنون
وہ سورج کی آنکھوں میں آنکھیں گاڑ دیتا
اور صحرا کے دل میں پاؤں
وہ درندوں پہ ہنستا
اور انہیں کمزوری کے طعنے مارتا، ان سے لڑتا
اور سیکھتا
ہار جاتا، تب بھی
جیت جاتا، تب بھی
عجیب و غریب تھا
وہ نوجوان
بہت عجیب و غریب
25
جاگنا آنکھوں کی ریاضت ہے
جب بچہ تھا
تب بھی ایسا ہی تھا
لا ابالی اور بے پرواہ
وہی کرتا جو اس کا دل چاہتا
اور اس کا دل ہمیشہ وہ چاہتا
جو جو غیر معمولی ہوتا
کبھی سارا سارا دن گلی میں بیٹھا رہتا
جیسے کسی راہ تک رہا ہو
جیسے کسی کا منتظر ہو
اور کبھی کئی کئی دن گھر سے ہی نہیں نکلتا تھا
ہر وقت دستک پر کان لگائے رکھتا
اسے بند دروازوں سے چڑ تھی
گھر والے دروازے بند کرتے
اور وہ کھول دیتا اور بار بار تکتا رہتا
اور جاگتا رہتا
بہت کم سوتا تھا
جیسے کوئی اندیشہ ہو
کوئی خدشہ
چپ رہتا
گُم سُم
کھویا کھویا سا
اور جاگتا
جیسے کوئی کشٹ کر رہا ہو
کوئی ریاضت
ریاضت روح کی بھی ہوتی ہے
اور دل کی بھی
آنکھوں کی بھی ہوتی ہے
اور زبان کی بھی
خاموشی زبان کی ریاضت ہے
اور روح کی بھی
جاگنا آنکھوں کی ریاضت بھی ہے
اور دل کی بھی
26
وہ ولی یا امام نہیں تھا
جوان ہوا
تو بدن کو بھی
ریاض کے پتھریلے مرحلوں سے گزارا
بلکہ اس نے کیا گزارا
سرابی نے گزارا
بلکہ سرابی نے بھی کیا گزارا
اس محبت نے گزارا
جو پیدا ہوتے ہیں
وہ اپنے ساتھ لے کے آیا تھا
جیسے کوئی ولی یا امام
اپنے ساتھ پیدائش ہی سے
کوئی منصب
کوئی ذمہ داری
کوئی معجزہ لے آتا ہے
وہ ولی یا امام نہیں تھا
لیکن محبت ساتھ لے کے آیا تھا
اور یہی سمجھتا تھا
سرابی لے کے آیا ہے
پاگل کہیں کا
ریاضتیں ہوں یا مسافتیں
دیوانگی مانگتی ہیں
دیوانگی اس کے پاس بہت تھی
محبت عشق میں بدل جائے
تو جنوں میں بدلتے، دیر نہیں لگاتی
وہ سب مرحلوں سے گزر رہا تھا
بار بار اور پلٹ پلٹ کے گزرتا
پھر لوٹ آتا
پھر گزرتا
وہ ایک دریا تھا
جسے آنا اور گزرنا تھا
وہ ایک موسم تھا
جسے بار بار پلٹنا تھا
تھوڑی بہت تبدیلی کے ساتھ
وہ لوٹ کے آیا تو بدلا ہوا تھا
اب وہ ہنستا تھا
بہت زیادہ
بات بات پہ ہنس ہنس پڑتا اور ہنساتا
جہاں جاتا
ایک ہنسی
ایک خوشبو بکھیر دیتا
اسے چھپ کے رونا آگیا تھا
وہ جان گیا تھا
چوری چھپے بہائے ہوئے آنسو
امر ہو جاتے ہیں
وہ یہ بھی جان گیا تھا
آنسو ہی صرف اپنے ہوتے ہیں
اور ہنسنا سب کا
اسے یہ بھی معلوم ہو گیا تھا
اپنا دکھ، بس اپنا دکھ ہوتا
27
اس کا دکھ سب کا دکھ کیوں نہیں
ایک خلش پھر بھی اس کے دل میں باقی رہی
سرابی کا دکھ اس کا دکھ کیوں ہے
اس کا دکھ سرابی کا دکھ کیوں نہیں
سب کا دکھ اس کا دکھ کیوں ہے
اس کا دکھ سب کا دکھ کیوں نہیں
پھر وہ ہنس پڑتا
اگر لوگوں میں بیٹھا ہوتا
ورنہ تنہائی ایسی باتوں پہ کب ہنسنے دیتی ہے
لوگوں میں وہ اور ہوتا
تنہائی میں اور
وہ بارونق شہر سے خالی لوٹتا
اور تنہائی میں اپنا الگ شہر بساتا
اور جی بھر کے روتا
اور شہر آباد کرتا
28
چند تکلیف دہ باتیں
چند تکلیف دہ باتیں کیا ہوتی ہیں
چند تکلیف دہ باتیں
بہت ساری اچھی باتوں پہ بھاری ہوتی ہیں
ان سے زیادہ شدید بھی
گہری بھی
تم سے میری اچھی باتیں کم وابستہ ہیں
تکلف دہ زیادہ
اور ان میں چند تو ایسی ہیں
جو اپنی اپنی انتہاؤں پہ کھڑی
میرے صبر کی انتہا پہ ہنستی ہیں
تمہیں یاد ہے؟
تم نے کسی سے کہا تھا
“وہ تو ایک پاگل ہے، اور ایک بیمار”
تم نے کہا تھا
“وہ تو بس ایسے ہی ہے، غیر اہم”
اور۔۔۔۔۔ اور تم نے جھوٹ بھی بولا تھا
اور۔۔۔۔۔ اور یہ بھی کہا تھا
کوئی کسی کے لئے کچھ نہیں کرتا،
کر بھی کیا سکتا ہے
اُف۔۔۔۔۔۔ میرے خدا
کیسی کیسی تکلیف دہ باتیں وابستہ ہیں میری تم سے
میں نے مشقت کی
اور تمہاری طرف بڑھا
مراقبے کیے،
بیگار کاٹی
اور تمہیں یاد کیا
تم سے ہر بار
تمہاری اپنی وجہ سے نفرت کی
اور دور چلا گیا
اور ہر بار خود اپنی وجہ سے
اور تمہاری ضرورت کی وجہ سے
تمہاری طرف لوٹ آیا
تمہیں پھر بھی ایسے لوگ عزیز رہے
جنہیں تم عزیز نہیں تھیں
پھر بھی تم نے ان کو مجھ پہ سبقت دی
اور میں۔۔۔ میں ایک مغرور اور انا پرست تکلیف میں
اترتا چلا گیا
اَنا
جس نے مجھے تمہارے گھر سے اکثر واپس لوٹا دیا
تم سے ملے بغیر
اور میں
روح کی گہرائیوں سے چاہنے کے باوجود، خالی لوٹ گیا
چند تکلیف دہ باتیں
بہت ساری اچھی باتوں پہ بھاری ہوتی ہیں
29
ایک شہ زور اداسی میں قید
ایک شہ زور اداسی میں قید
پل بہ پل جان مسلتے
پل بہ پل لرز لرز کے چونک اٹھتے
لمحہ بہ لمحہ دل پہ کسی دوسری توجہ کے چھینٹے مارتے
بے وجہ سفر کرتے
تم تک آجاتا ہوں
رہائی پھر بھی نہیں ملتی
اُداسی، ویرانی میں بدل جاتی ہے
اداس آتا ہوں
ویران واپس لوٹتا ہوں
کب تک کھنڈر کرتی رہو گی
کب تک راکھ اڑاتی رہو گی
وقت جاتے ہوئے بتاتا نہیں،
کہ جانے والا ہے
کھو جانے والی چیزیں بتاتی ہیں
کہ کھو گئی ہیں۔۔۔۔۔۔ گم ہو چکی ہیں
میں تمہیں کب تک دکھ کی لہر سے متوجہ کروں
میں بھی کسی اور کے اختیار میں ہوں
محبت کے اختیار میں
جو کسی کے اختیار میں نہیں
30
محبت کسی کے اختیار میں نہیں
محبت کسی کے اختیار میں نہیں
اور پھیلتی جارہی
تقسیم ہوتی جا رہی ہے
یہ اور بات ہے
کہ تمہارا حصہ اب بھی زیادہ ہے
دوسروں سے بہت زیادہ
31
ایک اجاڑ بے ترتیبی
ایک اجاڑ بے ترتیبی کتنی سنگدل ہوتی ہے
سب کچھ بے ترتیب کر دیتی ہے
رونا بھی اور ہنسنا بھی
جہاں ہنسنا ہوتا ہے
ہنس نہیں سکتے
جہاں رونا ہوتا ہے
رو نہیں سکتے
جہاں بولنا ہوتا ہے
چپ رہتے ہیں
میں تمہیں کبھی بتا نہیں سکوں گا
تم کبھی سمجھ نہیں سکو گی
میں تمہیں کبھی لکھ نہیں سکوں گا
تم کبھی پڑھ نہیں سکو گی
جو کچھ تمہیں سمجھنا ہے
وہی تم سمجھتی نہیں
جو کچھ مجھے چھوڑ دینا چاہئے
وہی میں چھوڑ نہیں سکتا
ایک اجاڑ بے ترتیبی
اور ایک بے بسی
بے بسی میں بھی ترتیب ہو، تو
کسی نہ کسی کنارے لگ جاتی ہے
جو تم نے سنا نہیں
وہی تو میں نے کہا تھا
میری ترتیبیوں میں، ایک تم ٹھیک نہیں
اور میری کوئی ترتیب ایسی نہیں
جس میں تم نہ ہو
32
شام ڈھلتی ہے، بخت ڈھلتا ہے، دکھ نہیں ڈھلتے
میں محبت کرنے نکلا
ایک محبت کے دائرے سے نکلا
اور اپنے آپ سے
میں اپنے دائرے سے نکلا
اور دیکھا
میرے گھر میں
خود میرے اپنے گھر میں
میری محبتوں کی ضرورت ہے
میرے گھر میں
جہاں ایک ناتواں
اپنے ہاتھوں
اور اپنے چہرے کی جھریوں میں
بیتی ہوئی تھکن گنتی رہتی ہے
تھکن گنتی ہے
اور زخموں سے نگاہیں چرا جاتی ہے
ایسی بن جاتی ہے، جیسے دیکھے ہی نہیں
شام ڈھلتی ہے
زندگی ڈھلتی ہے
بخت ڈھلتا ہے
دکھ نہیں ڈھلتے
دکھ نہیں ڈھلتے
اور نگاہ چرانی پڑ جاتی ہے
میں نے دیکھا میرے گھر کو میری ضرورت ہے
مجھے ہر اس جگہ دھنکی ہوئی روئی کے گالے
اپنے آنسوؤں میں بھگو بھگو کے رکھنے ہیں
جہاں موسم اپنی ہٹ دھرمیوں کے نشان چھوڑ گئے ہیں
مجھے اس ناتواں کے پیروں پر اپنی ہتھیلیاں ثبت کرنی ہیں
ان تلووں کے نیچے اپنے بوسے بچھانے ہیں
اور اسکے چاندی بھرے سر کو اپنی گود میں لے کر چومنا ہے
اور اسے کہنا ہے
مسافر ٹھہرو!
رک جاؤ،
بیٹھ جاؤ،
سستا لو،
گو سفر ابھی ختم نہیں ہوا
لیکن کچھ آسان ضرور ہو گیا ہے
اسے کہنا ہے
مسافر!
اپنے پیروں کے کچھ چھالے مجھے بھی دے دو
مجھے بھی تمہارے ساتھ چلنا ہے
اپنے ضعیف کندھوں کا بار
کچھ میرے کندھوں پر بھی
تمہاری میری منزل ایک ہی ہے
گو ستاروں کا بوجھ بانٹا نہیں جا سکتا
لیکن ساتھ تو چلا جاسکتا ہے
مسافر!
ناتواں!
مجھے دیکھو، میرا چہرہ دیکھو
میری آنکھیں پہچانو
میری روح پہچانو
میں لوٹ آیا ہوں
میں نے زیادہ دیر نہیں کی
مجھے پہچانو
اور اگلے سفر پر روانگی کی اجازت دو
33
میرا دل درد سے بھر گیا
میں نے گھر کے آنگن میں اگے ہوئے بوڑھے پیڑ کی طرف دیکھا
اور دیکھ نہ سکا
میری آنکھیں احتراما جھک گئیں
کیسے کیسے موسم جھیلے تھے اس نے
اور اس کی استقامت میں فرق نہ آیا تھا
میں نے اس پیڑ کی طرف پھر دیکھا
اور اس کے قدموں میں بیٹھ گیا
میں نے اسے بوسہ دیا
اس کی کمزور اور بھربھری جلد
میرے ہونٹوں سے چپک گئی
سایہ کرتے کرتے
چھاؤں دیتے دیتے
کیا عالم ہو گیا تھا اس کا
میرا دل درد سے بھر گیا
ایک شاخ
ایک دبلی پتلی اور سالخوردہ شاخ
میرے سر پر جھک آئی ہے
کتنی شفقت، کتنا تحفظ تھا
اب بھی اسی میں
میرے ارد گرد، پتے آنسوؤں کی طرح گرنے لگے
زرد اور خزاں رسیدہ آنسو
آنسو تو پہلے ہی آنسو ہوتے ہیں
اور اگر زرد بھی ہوں
تو جہاں گرتے ہیں وہاں پت جھڑ کے سوا کچھ نہیں اکتا
میں نے جلدی سے اپنا دامن پھیلالیا
اور سارے آنسو
اپنی جھولی میں سمیٹ لیے
میرا دامن زرد ہو گیا
لیکن میں خوش تھا
چلو میں نے بھی کچھ سمیٹا تو سہی
پیڑ ہوتے ہی ایسے ہیں
شفیق اور مہربان
مہربان اور میٹھے
اپنے حوصلے اور اپنی چھاؤں میں
پیڑ کیا کیا کچھ ہوتے ہیں
نہ رہیں تو پتہ چلتا ہے
میں نے کہا
پیڑ!
میرے وارث!
میرے بادشاہ!
مجھے دعا دو!
میں جانا چاہتا ہوں
میں محبت کے سفر پہ جانا چاہتا ہوں
مجھے رخصت کرو
مجھے وداع کرو
مجھے مسکرا مسکرا کے وداع کرو
کوئی پتّا نہ گرے
کوئی آنسو چھلک نہ پڑے
آنسو چھلک نہ پڑے
اور میرے حوصلے بھیگ نہ جائیں
وداع کرو
ابھی کہ مجھے واپس لوٹنا ہے
34
عذابوں کے ہاتھوں مفتوح شہر
میں محبت کرنے نکلا
میں نے دیکھا وہ گلی جس میں میرا گھر ہے
بڑی ویران گلی ہے
گلی کے ہر گھر کے ہر دروازے پر
شکست لکھی ہے
مجھے لگا جیسے میں کسی مفتوح شہر میں آگیا ہوں
عذابوں کے ہاتھوں مفتوح شہر
ہر دروازے پر شکست لکھی تھی
اور شکست سے قید جھانکتی تھی
اور قید میں زندگی سسکتی تھی
زندگی سسکتی تھی
اور سکتہ طاری ہو جاتا تھا
زندگی سسکتی تھی
اور خاموش پھیل جاتی تھی
پھر میں آگے روانہ ہوا
اور چونک گیا
ہر گلی ہی ایسی تھی
ہر گھر، ہر دروازہ ہی ایسا تھا
میں نے ایک دروازے سے کان لگا کے سنا
اندر سے کسی کے کھانسنے کی آواز آئی
اور ساتھ ہی خون اگلنے کی
میں کانپ گیا
خون کی بُو میرے نتھنوں سے ہوتی ہوئی
میرے وجود میں اتری
اور یوں لگا
جیسے کسی نے شریانوں میں پگھلا ہوا سیسہ انڈیل دیا ہو
میں نے ایک اور گھر کے دروازے سے کان لگا کے سنا
کوئی بڑبڑارہا تھا
کسی شدید خوفزدہ مظلوم کی طرح
شدتِ خوف کی وجہ سے
جس کے منہ سے کچھ بھی ٹھیک طرح نہ نکل رہا ہو
لایعنی بڑبڑاہٹ، بڑبڑاہٹ، گو، لا یعنی تھی
پھر بھی دیوار کے اندر اتر رہی تھی
اور دروازہ چیرتی جا رہی تھی
پھر میں ایک اور دروازے سے لگا
اندر سے آنے والے بین صاف سنائی دے رہے تھے
وہ بین ہی تھے
لیکن بہت مختلف
بالکل اور طرح کے
جیسے بہت سارے میّت مل کے
کسی زندہ آدمی پر بین کر رہے ہوں
اس کی زندگی پر
اس کے جیون پر
بین بھی
اور ماتم بھی
اگلے دروازے سے کان لگانے کی ضرورت ہی نہ پڑی
کھلا دروازہ،
بلکہ ٹوٹا پھوٹا بے کِواڑ دروازہ
اور خاموشی،
گہری اور بوجھل خاموشی،
موت کی سی
35
مجھے کوئی رنگ دیا ہوتا
کتنا بے بس کر دیتے ہو
مجھے کوئی رنگ دیا ہوتا
میں ان کی بے رنگ آنکھوں میں بھرتا
مجھے کوئی چہرہ دیا ہوتا
میں ان بے چہروں کو سونپ دیتا
مجھے مرہم دیا ہوتا
میں ان کے زخموں پر لگاتا نہ تھکتا
مجھے مسیحائی دی ہوتی
میں اپنے آپ کو وقف کریتا
مجھے بینائی دی ہوتی، میں شہر بھر میں تقسیم کر آتا
مجھے حوصلہ دیا ہوتا
میں تسلی دینے کے قابل تو ہوتا
مجھے محبت دی ہے
اور۔۔۔۔۔۔
اور زیادہ کمزور کر دیا ہے
36
مجھے منزل بتائی ہوتی
محبت جتنی طاقتور ہے
اس سے زیادہ کمزور بھی ہے
جس سے پیار ہو
اس کا دکھ برداشت کرنے کی طاقت کہاں رہتی ہے
مجھے راہ دکھلائی ہوتی
میں انہیں ساتھ لے کے چلتا
مجھے منزل بتائی ہوئی
میں انہیں راستے سمجھاتا
کس کے دروازے پہ رکوں
کس کے دروازے سے گزر جاؤں
اب جس سفر پہ نکلا ہوں
میں نے ہٹنا نہیں ہے
میں تو کشتیاں جلا آیا ہوں
لیکن کشتیاں جلانے سے
شکتی کہاں ملتی ہے
مجھے شکتی دے
محبت دی ہے تو محبت کا معجزہ بھی
مجھ سے یہ سب دیکھا نہیں جاتا
اور نہیں تو مجھے کوئی پڑاؤ ہی دیا ہوتا
میں یہاں سے کہیں بھی نہ جاتا
37
ان دروازوں کا کیا کروں
ان دروازوں کا کیا کروں
جن کے پیچھے رشتوں کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے خواب
اور تعلق داریوں میں الجھا ہوا احساس
اور وفاداریوں میں محصور تمنائیں
چیخنا چاہتی ہیں،
چیخ چیخ کے پکارنا چاہتی ہیں
پکار پکار کے رونا چاہتی ہیں
رو رو کے آزاد ہونا چاہتی ہیں
اور ان دروازوں کا کیا کروں
جن کے پیچھے دھڑ دھڑاتے ہوئے سینوں میں
وحشتیں چن دی گئی
آرزوؤں کی کھیتیاں بوکے
گھٹن کے سپرد کر دیا گیا ہے
اور ان دروازوں کا کیا کروں، جن کے پیچھے
نہ جانے کون کون سی سرابی
اپنی اپنی بے سائبانی کی راکھ مانگ میں سجائے
اچھے وقت کے انتظار میں پتھر ہو گئی ہے
38
جہاں صرف میرے دکھ نہیں تھے
ہم جو دکھی ہیں
کہیں نہ کہیں
کسی نہ کسی کے لیے
خود بھی دکھ کا باعث بن جاتے ہیں
اور وہ جو ہمیں
صرف دکھ دینے والے نظر آتے ہیں
کہیں نہ کہیں
اتنے ہی بے بس ،
اتنے ہی مجبور،
اتنے ہی محبوس
اور اتنے ہی محصور ہیں
جتنے کہ ہم
یا شاید ہم سے بھی زیادہ
ہماری نظریں،
ہماری، بینائیاں
صرف ہمارے اپنے اندر جھانک سکتی ہیں
ہمیں صرف وہی نظر آتا ہے
جو ہمارے ساتھ بیتے
میں ایک شہر سے نکلا
اور دوسرے میں داخل ہو گیا
ایک دھند سے دوسری دھند کے حصار میں
ایک دہشت سے دوسری دہشت کے جنگل میں
جہاں صرف میں نہیں تھا
دوسرے بھی تھے
جہاں صرف میرے دکھ نہیں تھے
دوسروں کے بھی تھے
جہاں صرف میری اپنی آہیں،
کراہیں
اور سسکیاں نہیں تھیں
دوسروں کی بھی تھیں
میں ایک چُپ سے نکلا
اور دوسری میں داخل ہو گیا
ایک شہر سے خود کو چھڑوایا
اور دوسرے میں جکڑا گیا
ایک ہجوم سے بچ کے نکلا
دوسرے ہجوم سے بچ کے نکلا
دوسرے ہجوم کے ہاتھ آگیا
ہر طرف ایک مہیب بے چہرگی
اپنی اپنی گمشدگی اور تلاش
ہجوم اور تنہائی
شانہ بشانہ
شناخت اور جستجوئے شناخت
اور خانہ پُری
اور وہم
اور بے اعتباری،
بے یقینی
39
اپنی تمام تر دانش سمیت
پہلی سڑک،
پہلی گلی،
پہلا گھر،
ایک دانش کدہ تھا
جس میں ایک دھیمے لہجے میں بات کرنے والا
اپنی تمام تر دانش
اور حکمت سمیت سویا ہوا تھا
میں نے اسے جگانے کی کوشش کی،
وہ نیم بیدار ہوا
اور کہا
میں عظیم ہوں،
ماحول ناموافق ہے،
آؤ سو جائیں
ساتھ والے کمرے سے
کچھ اور نیند میں ڈوبی ہوئی آوازیں آئیں
بہت سارے لوگ
بیک وقت
اپنی اپنی آواز بلند کرنے کی فکر میں تھے
ہر ایک یہی کہہ رہا تھا
میں عظیم ہوں
اور بس میں ہی ہوں
اور یہاں کچھ بھی اچھا نہیں
ایک نے کہا
“یہ لوگ اچھے نہیں”
ایک نے کہا
“یہ شعر اچھا نہیں”
ایک نے کہا
“یہ زمین اچھی نہیں”
ایک نے کہا
“یہ کائنات اچھی نہیں”
ایک نے کہا
“یہ خدا اچھا نہیں”
سب نے مل کے کہا
آؤ سب مل کے اپنی اپنی دکان چمکائیں
آؤ سب مل کے سو جائیں
یا بس، اپنا اپنا حصہ لے کے خاموش ہو جائیں
انہوں نے کہا
اور ایک ایک کر کے سونے لگے
جو پہلے سو جاتا ، دوسرا اس پر ہنستا
اور اس کے نتھنوں میں تنکے چبھوتا
اور لطف لیتا
سونے والا تھوڑا کسمساتا
دو چار ننگی گالیاں دیتا
اور دوبارہ سو جاتا
پورے کا پورا محلّہ ہی ایسا تھا
جو مختلف تھے
بس اتنے، کہ دوسروں کو کہتے
جاگ جاؤ اور خود فوراً ہی اونگھ جاتے
کیسے لوگ تھے
میں تھوڑا قریب گیا
لیکن زیادہ قریب نہ جا سکا
میں نے ڈھونڈنا چاہا
لیکن وہاں سرابی ہوتی تو ملتی
اور اگر سرابی ہوتی
تو سب سو نہ رہے ہوتے
بے قرار ہوتے، بے چین ہوتے
مارے مارے پھرتے
کیونکہ جہاں سرابی ہوتی ہے
وہاں نیندیں بھلا کب ہوتی ہیں
40
کتابوں اور لوگوں میں کتنا فرق ہوتا ہے
ایک اذیت
دوسری اذیت سے جا ملی
دل اور ویران ہو گیا
اعتماد اور زخمی ہوا
شیشہ اور زیادہ چُور ہوا
کرچیاں اور زیادہ پھیل پھیل کے
دور دور تک چبھتی رہی
دلوں اور جذبوں کی باتیں کرنے والے
اتنے پتھریلے نکلیں گے
کبھی سوچا بھی نہ تھا
ظرف کے موازنے کرنے والے
اتنے کھوکھلے ہونگے
گمان ہی نہیں تھا
وضع داری
اور آ گہی، اور شعور کے قصے سنانے والے
اتنے ہی نیند زدہ لوگ ہیں
یقین ہی نہیں آتا
کتابوں اور لوگوں میں کتنا فرق ہوتا ہے
ایک عجیب اور حیران کر دینے والی بات
ایک زخم
اور ایک گہرا گھاؤ
لوگ
اور انہیں لوگوں کی لکھی ہوئی باتیں
سیاہ لوگ
اور سفیدی ملے حروف
چونا لگے الفاظ
اجلی مسکراہٹوں کے دھوکے سجائے
شفاف عبارتوں کا چکمہ دینے والے
مُردہ تخیّل
اور زندہ روشنائی
حریص افکار
اور بے غرض اَوراق
کتابوں اور لوگوں میں کتنا فرق ہوتا ہے
41
تمہاری فطرت اپنی جگہ
میں نے کہا
تمہاری فطرت اپنی جگہ
مجھے بتاؤ
میں تمہارے لیے کیا کروں
کہنے لگے
اپنی سماعت ہمیں دے دو
ہم اس میں چھید کریں گے
پگھلا ہوا سیسہ
اور اُبلتا ہوا لاوا ڈالیں گے
اپنی انگلیاں ہمیں دے دو
ہم ان سے ناخن کھینچ لیں گے
ان کی پوریں تراش کے قلم بنائیں گے
اور ٹپکتے ہوئے خون سے
اپنے احساسات تحریر کریں گے
اور بتائیں گے
شعور کیا ہے
فکر و ادراک کی کتنی منزلیں ہیں
جذبے لطیف ہوں،
احساس نازک ہو،
تو کتنے رنگ کھلتے ہیں
اور یہ بھی بتائیں گے
کہ ہم کیا ہیں
اور کتنے عظیم ہیں
42
قلم اٹھایا اور بہت کچھ پھینک دیا
میں نے دیکھا، فکر و ادراک
اور شعور کی روشنی بانٹنے کے دعویدار
اپنی اپنی پیچیدگیوں میں الجھے ہوئے
ایسے جینئس ہیں
جن کے پاس کوئی ہمت
کوئی رخ نہیں ہے
جن کے پاس کوئی بڑا مقصد نہیں ہے
میں نے عزم کیا
اور قلم اٹھا لیا
قلم اٹھایا
اور بہت سے ہتھیار پھینک دیے
جھوٹ پھینک دیا
حرص پھینک دی
غرض پھینک دی
خوف پھینک دیا
خوشامد پھینک دی
اور ڈپلومیسی بھی
مصلحت بھی
اور شک بھی
ایسے بہت سے کار آمد ہتھیار پھینک دیے
جو مجھ سے پہلے دانشوروں نے اٹھائے ہوئے تھے
میں نے قلم اٹھایا تو وہ مسکائے
اور جب ایسے تمام ہتھیار پھینک دیے
جو ان کے پاس تھے
تو سب بے اختیار کھلکھلا کر ہنس دیے
اور سب نے مل کر
مجھ پہ انگلیاں تاں لیں
وہ دن اور آج کا دن
جہاں جاتا ہوں
سچ کی پاداش میں
بہت سی زرد اور سیاہ انگلیاں
مجھ پر اٹھ جاتی ہیں
اور کوشش کی جاتی ہے
کہ بہت ساری چیزوں سے محروم کر دیا جاؤں
راستوں سے،
نقشوں سے،
سمت پیماؤں سے،
بادبانوں سے،
کشتیوں سے، پرندوں کی پرواز کے منظر
اور ستاروں کی استقامت سے
جہاں جہاں، جس جس کا بس چلتا ہے
راستہ روک دیتا ہے
یا کالی بلی بن کے
راستہ کاٹتے ہوئے
گزر جاتا ہے
یہ پہاڑ اٹھا سکتے،
تو میرے ہر طرف لا کر کھڑے کر دیتے
اور ایک آدھ میرے سر پہ بھی دھر دیتے
پہ ہلکے،
بے وزن
اور کھوکھلے لوگ
43
دوراہا
اس نے دیکھا
اپنے آپ سے نکل کے
سرابی سے نکل کے
یہ دنیا اور بھی زیادہ کٹھن تھی
وہ تھوڑا رُکا
تھوڑا سستایا
اور ذرا کمزور پڑا
تو راستوں کی سازش کا شکار ہو گیا
وہ سستانے کے لئے جہاں بیٹھا تھا
وہ دوراہا آپ ہی مسکرادیا
دونوں طرف سے آنے والے راستے، کنگھوں ہی کنگھیوں میں
کبھی اسے دیکھتے
اور کبھی ایک دوسرے کو
ایک دوسرے کو دیکھتے
تو ایک منچلی سی مسکراہٹ
زورازوری ان کے ہونٹوں پہ مچلنے لگ جاتی
اور وہ اسے چھپانے کی کوشش کرتے ہوئے
انجان نظر آنے کی کوشش بھی کرتے
44
دل کی تال پہ لہو کا رقص
وہ تھوڑا سستا چکا
تو اٹھنے کے بارے میں سوچنے لگا
ابھی اس نے سوچنا شروع ہی کیا تھا
کہ اس کا دل کسی خاص جذبے سے دھڑک اٹھا
لیکن یہ دھڑکن
بے نام ہوتے ہوئے بھی
اس کے لئے انجان نہیں تھی
بڑی ہی آشنا
بڑی ہی شناسا دھڑکن تھی
تیز اور شدید دھڑکن
اور ہلکی ہلکی لرزش
اور کپکپی
ہوا نے ایک خاص دُھن چھیڑ دی تتھی
بڑی جانی پہچانی
اور درد انگیز دُھن
اُداس اور میٹھی دُھن
روح میں اتر جانے والی
فضا میں ہر طرف خوشبو ہی خوشبو پھیل گئی
اپنی اپنی سی، بھیگی بھیگی سی
آنسوؤں کی ہلکی ہلکی سی نمی لیے ہوئے
اور ہلکی ہلکی سی تلخی
اور ترشی لیے ہوئے
لہو نے دل کی تال پہ
شریانوں میں دیوانہ وار
ایک عجیب اور والہانہ رقص شروع کر دیا
خاموشی خود اپنی ہی لے پر جھومنے لگی
خیالوں کو پر لگ گئے
اور وہ روح ہی روح میں
رنگ برنگے کبوتروں کی طرح
اپنے اپنے پروں سے تالیاں بجا بجا کے
اِدھر سے اُدھر اُڑنے لگے
آس پاس سے گزرتی ہوئی
کجراری بدلیاں
بے وجہ ہنس ہنس پڑیں
اور اسے چپ لگ گئی
ہمیشہ کی طرح
اسے آج پھر چپ لگ گئی
آنسوؤں سے لبریز نگاہ کی نم آلود دُھند میں
دور سے ایک ہیولا ابھرا
بہت عجیب موسم ہو گیا تھا
جیسے صبح کی پہلی پہلی دھوپ میں
کسی نے چودہویں رات کی چاندنی ملا دی ہو
خوب چٹکی ہوئی چاندنی،
جوان اور اَلہڑ چاندنی،
ہیولا آہستہ آہستہ واضع ہونے لگا
اور سورج آہستہ آہستہ مدھم
پھول جھینپ کے
آپس میں ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوگئے
اور آسمان نے دم سادھ لیا
ہمیشہ۔۔۔ ہمیشہ ایسے ہی ہوتا تھا
وہ جب بھی آتی ماحول ہی بدل جاتا
سرابی جب بھی ملتی
وہ ہر شئے سے بچھڑ جاتا
آسمان سے
زمین سے
وقت سے
اور خود اپنے آپ سے
ہر شئے سے
وہ بچھڑ جاتا
اور سرابی لاعلم رہتی
وہ سوچتا کہ اسے بتائے
میں بچھڑ گیا ہوں
دلاسے دینے والے موسموں سے
آگ بجھانے والی بارشوں سے
ساونوں اور برساتوں سے
گلے لگا لینے والی شاموں سے
دامن میں بھر لینے والی راتوں سے
جلن بجھانے والے دکھوں سے
ہر شئے سے بچھڑ گیا ہوں
وہ سوچتا
کہ اسے بتائے
لیکن بس سوچتا ہی رہتا
ہیولا آہستہ آہستہ قریب آ رہا تھا
اور اب ہیولا نہیں رہا تھا
وہ سرابی تھی
اس کی روح،
اس کا وجدان،
اس کی عبادت،
اس کا عشق،
اس کی دیوانگی،
اس کا مسلک،
اس کا ایمان،
اس کی کائنات
سرابی
وہ آئی،
اور آتے ہی پوچھا
یہاں بیٹھے کیا کر رہے ہو؟
وہ بولا
سستا رہا ہوں
کہنے لگی
چھوڑو،
کیا سستانا
چلو میرے ساتھ
بس تھوڑی ہی دور تک
مجھے کہیں پہنچنا ہے
وہاں پہنچا دو
پھر جہاں جی چاہے چلے جانا
وہ اس کے ساتھ چل پڑا
45
آرزو لمبی تھی، ہمسفری مختصر
وہ چل پڑا، آہستہ آہستہ
اور وقت اڑنے لگ گیا
بہت تیزی سے راستہ چھوٹا تھا
آرزو لمبی تھی
ہمسفری مختصر
مسافت بہت طویل
قدم قدم پر وحشتِ جاں کی یلغار
قدم قدم پر
اضطراب کا ایک نیا قافلہ ہمراہ ہو جاتا تھا
اس کی سماعت قریب قریب بند ہو گئی تھی
آس پاس کی آوازیں اسے بہت دور سنائی دے رہی تھیں
وہ صرف اپنے دل کی دھڑکن سُن رہا تھا
جو ہر طرف ہر سُو گونج رہی تھی
اور اک شور
بے چینی اور اضطراب کا شور
خاموشی کا شور
بہت کچھ کہنے کی خواہش اور نہ کہہ پانے کا شور
اس نے سوچا
میں اسے کہوں
میں تو ہمیشہ تمہارے ساتھ ہوتا ہوں
کب میں نے تمہیں اکیلا ہونے دیا ہے
اس وقت بھی تمہارے ساتھ ہوتا ہوں
جب تم دھوپ میں نکلتی ہو
تم کبھی اپنے اندر تو جھانکو
دہلتے، سلگتے سورج کے نیچے
وہ جو تمہارے اندر
ایک نرم اور ٹھنڈا احساس لہریں مارتا ہے
وہ میں ہی تو ہوتا ہوں
تاریک اور اندھیرے راستوں میں
وہ جو ایک روشن چراغ
تمہارے اندر جگمگاتا ہے
وہ میں ہی تو ہوتا ہوں
بُرے اور خراب موسموں میں
وہ جو ایک چادر سی تمہارے سر پہ تن جاتی ہے
وہ جو ایک حفاظتی حصار سا
تمہارے گرد قائم ہو جاتا ہے
وہ میں ہی تو ہوتا ہوں
بھلا میں نے تمہیں کب اکیلے چھوڑا ہے
تم جاگتی ہو
تو ایک پوشیدہ اعتماد کی صورت
تمہارے اندر رہتا ہوں
اور سو جاتی ہو
تو خوابوں کا پس منظر بن کے
تمہاری حفاظت کرتا ہوں
46
تمہیں یاد ہے؟
تمہیں یاد ہے
ہم دونوں آپس میں کتنا لڑتے تھے
میں تمہیں کہتا
اپنی آزادی سے ڈرا کرو
اور لوگوں کے چھپے ہوئے جبر سے
خوف کھایا کرو
میں تمہیں کہتا
سفر ایک ہی راستے پر اچھا لگتا ہے
بہت سارے راستوں پہ سفر
بھٹکنا بن جاتا ہے
میں تمہیں کہتا
روپ ایک ہی سجتا ہے
ورنہ بہروپ ہو جاتا ہے
میں تمہیں کہتا
موسم ایک ہی خوبصورت لگتا ہے
دھوپ اور بارش
بیک وقت پڑیں
تو زمین کُملائی لگتی ہے
میں تمہیں کہتا
موجود سے آگے بھی ایک وقت ہے
اور اگلے وقت سے آگے ایک اور وقت بھی ہے
47
مستقل خود فریبیوں میں
تمہیں یاد ہے
میں تمہیں آدھی باتیں کہتا
اور آدھی کہنے سے پہلے
تم مجھے روک دیتیں
اور جھنجھلا جاتیں
پھر تم لڑ پڑتیں
اور میں خاموش ہو جاتا
اور چلا جاتا
کبھی دنوں کے لئے
کبھی مہینوں کے لئے
اور کبھی سالوں کے لئے
میں چلا جاتا اور تم پھر محصور ہو جاتیں
لمحاتی خوشیوں میں
اور مستقل خود فریبیوں میں
تمہیں یاد ہے
میں اور تم
یر بار کسی تیسرے باعث لڑے
اور ہر بار یہ تیسرا کوئی اور ہوتا
اپنے گوار ا ہونے کی بات ہے
تمہیں یہ سب ایسے ہی گوارا تھا
مجھے نہیں تھا
میں تمہارے پاس ہوتا
بارشیں برس برس کے جھومتی رہتیں
اور جھوم جھوم کے برستی رہتیں
تم سے دور ہوتا
تو آسمان رو دیتا
آسمان روتا اور بارش ہوتی
پھر میں روتا
بارش اور تیز ہو جاتی
پھر میں تھک جاتا
بارش رک جاتی
اور ہوا چلنے لگتی
تیز اور نم آلود ہوا
دل سے ہو کر گزرتی
اور خون آلود ہو جاتی
زخم ایک ایک کر کے کھلنے اور جلنے لگتے
پور پور درد سے بھر جاتی
رُواں رُواں لرزتا
اور لمحہ لمحہ عذاب ہو جاتا
اور عذاب پھیل جاتا
دور دور تک
وسیع و عریض اور محیط
روح تڑپتی
اور اِدھر اُدھر بھاگتی
گِرتی، پڑتی، بھاگتی اور ٹکراتی
تمہارے ہجر کے آہنی در و دیوار سے
اور تمہاری یادوں کے سنگی ستونوں سے
اور ان کی پتھریلی چٹانوں سے
روح انا سے ٹکراتی
اور چٹانیں اور بلند ہو جاتیں
چٹانیں بلند ہوتیں، بلند ہوتیں
اور پہاڑیاں بن جاتیں
پھر لمحہ لمحہ پھیلتے عذاب کے کنارے کنارے
پہاڑیاں پھیلنے لگتیں
کیا تمہیں یاد نہیں؟
48
زخمی اور تھکا ہوا پرندہ
کہاں ہو تم؟
تم کہاں ہو؟
میں نے کہا تھا
میں نے تمہیں کہا تھا
اس پہاڑی سلسلے کو اتنا نہ بڑھنے دو
اسے روک لو
اور تم ہنس پڑیں
اور تم نے کہا
پہاڑیاں رینگنے والوں کے لیے ہوتی ہیں
اُڑنے والوں کے لئے نہیں
تم نے کہہ تو دیا
لیکن یہ بھول گئیں
زخمی اور تھکے ہوئے پرندے کو
ریت کی ایک ڈھیری بھی پہاڑ لگتی ہے
تم کہاں ہو؟
میرے زخمی اور تھکے ہوئے پرندے۔۔۔ کہاں ہوا
مجھے آواز دو
میں نے کبھی کبھی ان پہاڑیوں کی طرف سے
تمہیں اوجھل ہونے دیا
اور اچھا کیا
ورنہ مجھے تم ہی تم نظر آتے
اور پہاڑیوں کے اس طرف
سب کچھ اوجھل رہتا
سب کچھ اوجھل رہتا
اور دنیا محدود ہو جاتی
کائنات سمٹ جاتی
اور دل چھوٹا ہو جاتا
اور دل چھوٹا ہو جاتا
تو تم سرابی نہ رہتیں
پہاڑی کی دوسری طرف کی دنیا تمہیں مبارک
49
عذاب نصاب بنائے
پہاڑی کے اس طرف
میں کتنا زخمی کتنا تھکا ہوا تھا
میں نے تھکن اوڑھی
زخم زیبِ تن کیے
عذاب نصاب بنائے
اور نئے خواب بسانے چل دیا
پرانے خواب ناسور بن گئے
گہرے اور پرانے
روشنیاں مُرجھا گئیں
دھوپ ماند پڑ گئی
سورج ناراض ہو گیا
اور چاند اجنبی
راتیں زیادہ لمبی ہو گئیں
اور شامیں زیادہ زرد
زردیاں
آہستہ آہستہ
آنکھوں سے وجود میں اتر گئیں
زردیاں آنکھوں میں
اور ویرانیاں روح میں
اُداسی ہمسفر ہوئی اور دکھ ہمراز ہوگئے
بارش ہوتی
دل اور سلگ اٹھتا
دھوپ نکلتی
سانسیں اور یخ ہو جاتیں
ساون دشمن ہو گئے
اور صحرا ساتھ آ لگے
اور لگ کے اندر اتر گئے
اور اندر اتر کے بس گئے
50
صحرا بھی آباد ہوتے ہیں
صحرا بھی شہروں کی طرح آباد ہوتے ہیں
ویرانی اور بیابانی سے آباد
دھوپ اور ریت سے آباد
دور دور تک تنہائی
اور خاموشی سے آباد
آندھیوں اور بگولوں سے آباد
سرابوں اور بھول بھلیوں سے آباد
مسافتوں اور تھکن سے آباد
میرے اندر صحرا بس گئے
اور میں شہروں کی طرف،
آباد اور بارونق شہروں کی طرف بھاگ پڑا
اندھا دھند اور دیوانہ وار
بے اختیار
بے بس
بھاگ پڑا
میں شہروں کی طرف بھاگ پرا
اور شہروں نے میرے لیے اپنے بازو کھول دیے
51
داسی
جب کسی کے لوٹ آنے کی کوئی امید نہ ہو تو دروازے بڑی
سختی سے بند ہو جاتے ہیں
جڑ جاتے ہیں
آپس میں پیوست ہو جاتے ہیں
اور ایسے میں جب زنگ آلود بھی ہو جائیں
اور کوئی دستک ہو
تو سنائی نہیں دیتی
اور اگر سنائی دے بھی تو جائے
تو دھوکہ لگتی ہے
گمان، شائبہ، یا وہم
لیکن مسلسل ہو
تو آخر چونکنا ہی پڑتا ہے
کون ہے
میں نے دروازہ کھولے بغیر پوچھا
داسی
باہر سے آواز آئی
عجیب، شکستہ، دھیمی
لیکن پر عزم آواز تھی
کیا ہے؟
میں نے پوچھا
دروازہ کھولو
اس نے کہا
لیکن یہ تو بند ہے
اور بند ہو کے جُڑ گیا ہے
اور جڑ کے پیوست ہو گیا ہے
اور پیوست ہو کے زنگ آلود ہو گیا ہے
میں نے کہا
ٹھیک ہے، میں دور سے آئی ہوں
بہت دور سے
اس پورے شہر میں
بس ایک یہی دروازہ ہے
جس کے باہر کوئی بھنور نہیں
کوئی جال، کوئی پنجرہ نہیں
ایک یہی دروازہ ہے
اس بھرے شہر میں
جس پر بھوک نہیں لکھی
جس پہ کسی آنکھ کی حرص
اور خواہش کی ہوس کندہ نہیں
ایک یہی در ہے جہاں خوب کی بُو
اور غرض کا تعفّن نہیں
ایک دکھ زدہ اپنائیت
اور پناہ ہے
ایک چھاؤں اور ایک امان ہے
ایک کرب آلود آسودگی ہے
میں بہت دور سے آئی ہوں
اور تھکی ہوئی ہوں
اور اجڑی ہوئی ہوں
ایک تھکن اور ایک وحشت
اور ایک ڈر
اور ایک خزاں
میرے تعاقب میں ہے
دروازہ نہیں کھلتا
تو نہ کھلے
لیکن مجھے یہاں رہنا ہے
اسی بند دروازے کے پاس
اسی خاموش دہلیز سے لگ کے
اسی زنگ آلود طاق پہ سر رکھ کے
وہ بول رہی تھی
اور آنسوؤں سے میرا اجڑا ہوا گھر بھیگ رہا تھا
اور در و دیوار ڈوب رہے تھے
52
کسی کا کیا پتہ، ہم کیسے ہیں
کسی کو کیا پتہ
ہم کیسے ہیں
ہم ایسے ہی ہیں
جیسے، جلا ہوا وجود
جیسے تازہ زخم
جیسے دکھا ہوا دل
جو ہوا سے بھی دکھ جائے
اور شبنم سے بھی
ہم نے بلانا چایا
کوئی آیا نہیں
ہم نے لوٹانا چاہا
کوئی لوٹا نہیں
ہم نے تلاش کرنا چاہا
کوئی ملا نہیں
ہم نے گُم کرنا چاہا
کوئی ہوا نہیں
کسی کو کیا پتہ
ہم کیسے ہیں
ہم ایسے ہی ہیں
جیسے کوئی خالی لوٹائی گئی دعا
جیسے کوئی بے منزل مسافر
کسی کو کیا پتہ
ہم تو قیدی ہیں
ایسے قیدی
جن کے وجود آزاد ہوں
تو روحیں قید ہو جائیں
جو آزادی کے خواب بھی دیکھیں
تو ہر طرف زنجیریں جھنجھنا اٹھیں
53
میں دیوتا نہیں تھا
وہ خود کو داسی
اور مجھے دیوتا کہہ رہی تھی
وہ بھلے داسی ہی ہوتی
میں دیوتا نہیں تھا
میں کتراتا رہا
وہ راہ میں آتی رہی
میں بھاگتا رہا
وہ پیچھے بھاگتی رہی
میں ڈرتا رہا
وہ ڈراتی رہی
کبھی کبھی ہم بہت ڈر جاتے ہیں
اپنی اپنی رحمدلی سے
اپنی اپنی خدا ترسی سے
اپنے اپنے دکھوں سے
ہم ڈر جاتے ہیں
اور لوگ بہادر ہوجاتے ہیں
وہ پوجتی رہی
میں لرزتا رہا
وہ مانگتی رہی
مجھ سے میرا اپنا آپ
میں انکار کرتا رہا
میرے پاس تھا ہی کہاں
میرا اپنا آپ
سونپا ہوا
بٹا ہوا
تقسیم شدہ
کھویا ہوا
میرا اپنا آپ
وہ مانگتی رہی
میں ڈھونڈتا رہا
میں ڈھونڈتا رہا اور روتا رہا
اپنی تلاش پر
اپنی مجبوری پر
اپنی مہجوری پر
میں ڈھونڈتا رہا
اور ڈھونڈتے، ڈھونڈتے
ڈھونڈتے
دور نکل گیا
بہت دور
دُھندلا گیا،
اوجھل ہوگیا
54
شہر تو سرابی تھی
سرابی نے ہجرت کی اور شہر ویران ہو گیا
بلکہ ویران کیا ہوا
تھا ہی ویرانہ
شہر تو سرابی تھی
نہ رہی تو ویرانہ رہ گیا
پُر ہول،
سُنسان،
بیابان،
لَق و دق ویرانہ
ہر طرف ایک اجاڑ خاموشی پھیل گئی
خاموشی کی بھی قسمیں ہوتی ہیں
خوبصورت اور شرمائی ہوئی خاموشی
میٹھی اور کجلائی ہوئی خاموشی
بھیگی اور سنولائی ہوئی خاموشی
سرابی چلی گئی
تو ہر طرف ایک اجاڑ خاموشی پھیل گئی
میں نے دیکھا
لوگ ہیں،
گلیاں ہیں،
گھر ہیں،
بازار ہیں
سرابی نہیں ہے
سرابی نہیں ہے
اور لوگ بدل گئے ہیں
ایک دوسرے کے گریبان پھاڑتے ہوئے،
خاک اچھالتے ہوئے،
آدھے ایک گلی میں
آدھے دوسری گلی میں
آستینیں چڑھائے،
خنجر تانے،
آنکھوں میں سرخی پھیلائے،
ماتھوں پہ سیاہی ملے،
سینے پہ زردی سجائے،
آدھے ایک گلی میں
آدھے دوسری گلی میں
اپنے اپنے شیطانوں کے پیچھے
شیطان
لمبی لمبی داڑھیوں
اور عماموں والے
چھوٹی شلواروں
اور موٹی ٹوپیوں والے
ہوس کے پجاری
ایمان کے نام پہ قتل
اور خدا کے نام پہ ظلم کرنے والے
عبادت گاہوں پر بارود
اور مقدس کتابوں پر آگ پھینکنے والے
اپنی اپنی دوکانداری کی خاطر
درود اور پاک کلام بیچنے والے
وہ کہتے!
اسے پکڑو
اور باندھ دو
عریاں کرو
اور تھوڑا تھوڑا کاٹنا شروع کرو
اسے تھوڑا تھوڑا کاٹنا شروع کرو
اور چیخنے دو
یہ بے ایمان ہے اور ہم ایمان والے
اسے چیخنے دو اور خود قہقہے لگاؤ
وہ کہتے
شیطان کہتے اور منواتے
اپنی منواتے
اور سب کچھ کرواتے
اور آنکھوں سے دیکھتے
اور جھومتے
پاگل حیوانوں اور دیوانے درندوں کی طرح
اور کہتے
دونوں گلیوں والے کہتے
یہ دوسری گلی والا ہے یہ بے ایمان ہے اور ہم ایمان والے
اس کا پیٹ پھاڑو
اور انتڑیاں نکلواتے
اور گلے میں ڈال لیتے
اور انہیں نچوڑ نچوڑ کے ان میں جما ہوا خون
اور غلیظ گودا چُوستے
گودا چُوستے
اور داڑھیوں پہ ہاتھ پھیرتے
داڑھیوں پہ ہاتھ پھیرتے
اور زور زور سے ہنستے
ہنستے رہتے،

ہنستے رہتے،
کریہہ اور منحوس ہنسی
جب تک انتڑیاں نکلتی رہتیں
جب تک گودا چُوستے رہتے، ہنستے رہتے
وہ معصوم بچوں کی
آنکھیں نکلواتے
اور انہیں جیبوں میں ڈال لیتے
ان کے بازو کتواتے
اور جوتوں کے نیچے مسل دیتے
وہ نصیبوں کی ماری ہوئی ماؤں کے
جوان بیٹوں کی گردنیں کٹواتے
اور خون سے ہاتھ دھوتے
اور ہونٹوں پر ملتے
اور ہونٹوں پر زبان مارتے
اور پھر ہنستے
ہنستے رہتے، ہنستے رہتے، ہنستے رہتے
اور کہتے
مارو
جلاؤ
آگ لگا دو
قتل کر دو
گردن اڑا دو
راکھ کر دو
کافروں کو مارو
دونوں گلیوں والے شیطان کہتے
اور لوگ کرتے
میں نے دیکھا
سب کا سب دیکھا
اپنی پتھر آنکھوں سے
دیکھا
لیکن پاگل نہ ہوا
بس پوچھتا رہا
ایک ایک کو روک رک کے پوچھتا رہا
کسی کے پاس سرابی نہ تھی
ہر کوئی انکار کرتا رہا
میں نے سوچا
ان کے پاس سرابی ہوتی
تو یہ ایک دوسرے کے خون سے ہاتھ رنگتے
ایک دوسرے کا گھر جلاتے
یوں شہر کا شہر برباد کرتے
کبھی نہ کرتے اگر سرابی ہوتی
سرابی چلی گئی
کہیں اور جا بسی
اور جنگل رہ گیا
اور حیوان رہ گئے
پاگل اور خوفناک
میں ڈرا
بہت ڈرا
اور بھاگا
اور شہر چھوڑ گیا
55
ایک جنگل سے دوسرے جنگل تک
شہر چھوڑنے سے کیا ہوتا ہے
نہ خوف پیچھا چھوڑتے ہیں
اور نہ بدنصیبی
نہ یادیں، نہ فریادیں
اور نہ بنیادیں
بے قراری تو خود اپنی بنیاد میں تھی
سو، ساتھ رہی
ایک شہر چھوڑا دوسرے میں آباد ہونے کی خواہش
ہانپتی کانپتی ایک ایک لمحے کا چہرہ تکنے لگی
پتہ چلا
ایک جنگل سے دوسرے جنگل میں آگیا ہوں
زیادہ بڑا اور زیادہ خوفناک جنگل
یہاں زیادہ مکّار
اور زیادہ عیّار درندے گھومتے پھر رہے تھے
بڑے ڈاکو، بڑے لٹیرے
دوست کوئی نہیں تھا
بے وفائی ہر طرف موجود تھی
کسی نے کہا
میرے ساتھ رہا، میں فارخ ہوں
کسی نے کہا
میں تمہارے ساتھ نہیں رہ سکتا، میں فارغ نہیں ہوں
کسی نے کہا
تم حفاظت کر سکتے ہو، مجھے اپنے ساتھ رکھ لو
کسی نے کہا
میں تمہارے ساتھ نہیں رہ سکتا، مجھے تمہاری بھی حفاظت کرنی پڑتی ہے
کسی نے کہا
میرے پاس چالاکی ہے، اگر تم خرید سکو
کسی نے کہا
تمنا بیچ دو
میں گھبرا گیا
میں نے سوچا
آنکھیں بند کر لوں
آنکھیں بند کر لوں
اور سمجھ لوں محفوظ ہو گیا ہوں
خواب بھی کتنے سنگ دل ہوتے ہیں
سنگ دل اور سچے
سچے اور ہمدرد
میں نے آنکھیں بند کیں
خوابوں نے اپنے دروازے کھولنے شروع کر دیے
کبھی کبھی آنکھیں کھل بھی جاتیں
اور کھلی کی کھلی رہ جاتیں
لیکن دروازے بند نہ ہوتے
میں نے دیکھا
ایک شہر ہے
نیم روشن
اور نیم تاریک
نیم اداس
اور نیم سوگوار
آدھی امیدیں،
آدھے یقین
اور آدھے ارادے
ہر طرف اپنا آدھا آدھا سفر طے کرتے پھر رہے ہیں
کبھی کسی آدھی ٹوٹی ہوئی سڑک پر
تو کبھی کسی آدھی تعمیر شدہ عمارت پر
کبھی کسی آدھے گھر میں
تو کبھی کسی آدھے انسان میں
انسان تو شاید آدھے بھی نہیں تھے
ایک شور،
ایک افراتفری اور ایک حرص
ہر کوئی ہر چمک دار شے کی طرف دوڑتا ہوا
اور سب سے پہلے جھپٹ لینے کی خواہش سے مغلوب
شاید یہ خواب نہیں تھا
سچ تھا
کھلی آنکھوں سے دیکھا ہوا سچ
اور میں اسے ماننا نہیں چاہتا تھا
میں نے دیکھا
ایک گروہ ہے
چار چار آنکھوں والے
اور سو سو ہاتھوں والے لوگوں کا گروہ
جن میں سے ہر ایک کے
کئی کئی پیٹ ہیں
لیکن سینے اور پیشانیاں نہیں ہیں
سینوں کی جگہ دلدل
اور پیشانیوں کی جگہ ٹیلے
میں نے دیکھا
گروہ ایک ہی ہے
حصے کئی ہیں
کئی حصوں میں بٹا ہوا
لیکن
خصلت اور آنکھوں میں لہراتی ہوئی ہوس
ایک ہی ہے
میں نے دیکھا
ان کے ہاتھوں میں بڑے بڑے نیزے ہیں
ان کے اپنے بڑھے ہوئے ناخنوں
اور دانتوں سے بنے ہوئے نیزے
اور وہ سب باری باری
کبھی شہر کے سینے کے عین درمیان میں گھونپ دیتے ہیں
اور کبھی پیٹھ میں
کبھی آنکھوں میں اتارتے ہیں
اور کبھی پیشانی میں
کبھی پیٹ کاٹ ڈالتے ہیں
اور کبھی بازو
جہاں جہاں گوشت نظر آتا ہے
جھپٹ پڑتے ہیں
اور نوچنا شروع کر دیتے ہیں
اپنے سو سو ہاتھوں سے
اور نوچ نوچ کے
اپنے پیٹوں میں بنی ہوئی بھٹیوں میں ڈالنا شروع کردیتے ہیں
شہر کو نوچتے جاتے ہیں
اور لوگوں کو تسلیاں دیتے جاتے ہیں
آدھے اور ادھورے لوگوں کو
پھر انہیں اکٹھا کرتے ہیں
اور کہتے ہیں
سب کے سب اپنی اپنی آنکھیں پوری طرح کھول دو
وہ آنکھیں کھولتے ہیں
اور یہ ان میں ریت ڈال دیتے ہیں
اورہ وہ چلّانا شروع کر دیتے ہیں
آدھے خوشی سے
آدھے دکھ سے
میں نے آنکھیں کھولنا چاہیں، تو کھل نہ سکیں
پتہ چلا، تھک گئی ہیں
پھر بند کرنا چاہیں، تو بند نہ ہو سکیں
پتہ چلا،
ہر طرف خون ہی خون بھر گیا ہے
میں نے اپنے دل کی طرف دیکھا
وہاں دل نہیں تھا
بس ایک زخم رہ گیا تھا
سدا بہار اور تازہ
پھر خواب بدل گیا
اور ایک بڑی دنیا میرے سامنے آگئی
اور ایک بڑا گروہ
اور زیادہ بڑے ناخنوں اور دانتوں والا
وہ اس جیسے کئی شہروں کو نوچ رہا رتھا
اور نوچ نوچ کے اپنی بھٹیوں میں ڈال رہا تھا
میرے صبر کی انتہا ہو گئی
میں اٹھا
اور سب سے پہلے نظر آنے والے
آدھے آدمی کا گریبان تھامنا چاہا
وہاں گریبان نہیں تھا
سیاہی اور کیچڑ تھا
میرا ہاتھ اس کالے اور مکروہ کیچڑ سے آلودہ ہو گیا
میرا ہاتھ آلودہ ہو گیا
تو میں چیخ اٹھا
چیختا رہا، چیختا رہا، چیختا رہا
اور میرے گرد
لوگ اکٹھے ہونے لگ گئے،
ہجوم
میں نے پوچھا
کیا تم میں سے کسی نے سرابی کو دیکھا ہے
کیا تم میں سے کوئی سرابی کو جانتا ہے
کیا تم میں سے کسی کے پاس سرابی ہے
کیا تم سرابی کے بارے میں سوچ سکتے ہو
سب خاموش تھے
اور میری دیوانگی بڑھتی گئی
اور ہر طرف سرخ خاموشی
اور زرد دھواں پھیلا ہوا تھا
اور صرف میری آواز گونج رہی تھی
سرابی، سرابی، سرابی
میں پوچھتا
خاموشی اور زیادہ گہری ہو جاتی
سناٹا اور زیادہ پھیل جاتا
سکوت اور زیادہ طاری ہو جاتا
56
وصال
سرابی چلی گئی تھی
شہروں سے بھی، اور لوگوں سے بھی
نہ گھروں میں تھی، نہ گلیوں میں
نہ راہوں میں تھی، نہ شاہراہوں میں
بے قراری بڑھنے لگی
اضطراب سوا ہو گیا
بے چینی وسیع ہو گئی
گھٹن پاس آگئی،
گھٹن پاس آگئی
اور میں بچھڑ گیا
بچھڑتا چلا گیا
گھر بار،
شہروں،
لوگوں،
ہواؤں،
درختوں،
زمینوں،
آسمانوں،
اور جہانوں
سب سے
میں بچھڑتا چلا گیا
اور سرابی دور ہوتی گئی
اور زیادہ دور
بہت دور جا بسی
شاید کسی جنگل
کسی صحرا
کسی ویرانے میں
میں چل پڑا
گلیوں گلیوں،
بستی بستی،
شہر شہر،
جنگل جنگل،
صحرا صحرا،
چلتا رہا
چلتا رہا اور پکارتا رہا
پکارتا رہا اور روتا رہا
بھاگتا رہا اور ڈھونڈتا رہا
ڈھونڈتا رہا اور پکارتا رہا
میں نے اسے پکارا
بڑے بڑے صحراؤں میں
اور دور دراز کی وادیوں میں
اسے پکارا اور تلاش کیا
کبھی درختوں میں
کبھی دریاؤں میں
کبھی سمندروں میں
کبھی گھاس میں
کبھی تنکوں میں
اور کبھی پہاڑوں میں
کبھی لفظوں میں
اور کبھی کتابوں میں
میں ڈھونڈتا رہا، ڈھونڈتا رہا
کہیں رکا نہیں
میں گِر گِر پڑا ، لیکن رکا نہیں
میں گھسٹتا رہا، لیکن تھکا نہیں
میں بکھر بکھر گیا، لیکن مرا نہیں
میں بھٹک بھٹک گیا، لیکن لوٹا نہیں
میں رکا نہیں،
تھکا نہیں
ہارا نہیں
اور وہ مل گئی
میں نے اسے پکارا
اس نے جواب دیا
میں نے کہا، سرابی۔۔۔۔
اس نے بھی کہا سرابی۔۔۔۔۔۔
وہ اسی کی آواز تھی، بالکل اسی کی
اور ہر طرف گونج رہی تھی
میں نے پوچھا کہاں ہو
اس نے کہا ہر جگہ
میں رو دیا
اور بولا
میں نے تمہیں کہاں نہیں ڈھونڈا
معصوموں کے خون سے ماؤں کی
کرلاہٹوں تک
غریب کے حوصلے سے مظلوموں کے آنسوؤں تک
شیطانوں کے قہر سے ایوانوں کی زنجیروں تک
بھوک کی بھوک سے بھرے ہوئے کے شکر تک
میں نے تمہیں کہاں نہیں ڈھونڈا
اور اب تم کہتی ہو میں ہر جگہ ہوں
ہاں۔۔۔۔۔
میں ہر جگہ ہوں۔۔۔۔۔ وہ بولی
لیکن کوئی ڈھونڈے تو سہی
کوئی تلاش تو کرے
تم نے دیکھا؟
اتنی بھیڑ میں کوئی تلاش کرنے والا نہیں
تلاش کیا کرے
کوئی جانتا ہی نہیں
جانے کیا
کوئی جاننا ہی نہیں چاہتا
چاہے کیوں
اپنے آپ سے ہی فرصت نہیں
اپنا آپ
ہونہہ
آدھا اور ادھورا اپنا آپ
تم آدھے نہیں رہے
سنو! لوٹ جاؤ
انہیں ادھورے لوگوں میں لوٹ جاؤ
انہیں تمہاری ضرورت ہے
سارے ہی ادھورے نہیں ہیں
تم جیسے کچھ اور بھی ہیں ان میں
تم بھی لوٹ جاؤ
ان کے درمیان رہو
میں سنتا رہا
اور چلتا رہا
واپس اسی شہرِ آزار کی طرف
انہیں لوگوں کی طرف
اور وہ بولتی رہی
وہ بولتی رہی
میں سنتا رہا
سنتا رہا اور لکھتا رہا
لکھتا رہا، لکھتا رہا، لکھتا رہا
اور سنتا رہا
میں سنتا رہا
اور وہ بولتی رہی
وہ ہر جگہ تھی
نہیں تھی، تو سکون میں نہیں تھی
کسی ٹھہراؤ اور کسی پڑاؤ میں نہیں تھی
لیکن وہ تھی
سفر، اور سفر کے نصیب میں تھی
بے چینی، اور بے چینی کی خواہش میں تھی
بے قراری، اور بے قراری کی آرزو میں تھی
اضطراب، اور اضطراب کی چاہ میں تھی
سینے کی گھٹن
اور روح کی حبس میں تھی
اور حبس کے خواب میں تھی
غم اور غم کے حُسن میں تھی
دکھ اور دکھ کے صبر میں تھی
اور ایسی تمام گہری
اور وسیع
اور بلند جگہوں پر تھی
سرابی
میری اپنی سرابی

You might also like
  1. younus khayyal says

    واااااااااااااہ ۔۔۔۔۔۔ کیانظم ہے ۔ بولتی ہوئی ، زندہ اور توانا نظم ۔ طویل لیکن اتنی مختصرکہ پڑھتے ہوئے وقت کااحساس ہی نہ رہے ۔ تواناجسم میں تواناروح کی طرح (پیٹرن اورموضوع یک جان) ۔ ’’ نظمیت ‘‘ کے متلاشیوں کے لیے قابلِ توجہ ۔۔۔۔۔۔۔ ایسی نظموں سے متعلق میں کہتاہوں کہ عمدہ تخلیق اپنے پیٹرن بلکہ نام تک کاانتخاب خودکرتی ہے ، شاعرتوواسطہ ہے بس :
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سرابی چلی گئی
    کہیں اور جا بسی
    اور جنگل رہ گیا
    اور حیوان رہ گئے
    پاگل اور خوفناک
    میں ڈرا
    بہت ڈرا
    اور بھاگا
    اور شہر چھوڑ گیا
    ایک جنگل سے دوسرے جنگل تک
    شہر چھوڑنے سے کیا ہوتا ہے
    نہ خوف پیچھا چھوڑتے ہیں
    اور نہ بدنصیبی
    نہ یادیں، نہ فریادیں
    اور نہ بنیادیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سلامت رہیں ہمارے اچھے شاعر

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post