رہائی کے وقفے میں : سعید اشعر

ہم دونوں ننگ دھڑنگ
بے ہودہ حالت میں
اک دوجے کو
خوف سے دیکھ رہے تھے
یہ کیسے ممکن ہے
ہم دونوں کے بیچ ہزاروں میل کی دوری ہے
شاید آدھی رات کا
کوئی ان چاہا سپنا ہے
مرنے والوں سے باتیں کر کے
ڈر نہیں لگتا
کھڑکی کے باہر
ہو کا عالم ہے
کمرے کے اندر
یا ہو، یا ہو
فرش پہ ہر وقت مصلا
میرے ماتھے کی مٹی سے الجھا رہتا ہے
آنکھیں
بیزاری کے چلے سے باہر آنا چاہتی ہیں
سارے لفظ
ساری کتابیں
ورد سہارے
میں نے کھوٹے سکے کی طرح
میز پہ رکھ چھوڑے ہیں
مسجد کے بلاوے میں
انکار کا نوٹس ہے
کچھ لمحوں کا وقفہ بھی
ایک غنیمت ہے
آٹا چینی دال
روزمرہ کی چیزیں
آسانی سے مل جاتی ہیں
دکان میں وہ صاحب بھی ہیں
باقی لوگوں کی طرح
جن سے میں بھی ڈرتا ہوں
لیکن سب کچھ
الٹ چکا ہے
ماسک کے پیچھے
ان کے چہرے پر زردی
چشمے کے پیچھے آنکھوں میں
خوف کا پہرہ ہے
میں ان کی جانب بڑھتا ہوں
وہ پیچھے ہٹتے ہیں
مجھ کو اپنے اندر سے
ہنسنے کی آواز سنائی دیتی ہے
میں کمینہ بن جاتا ہوں

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post