دھی رانی کے لیے ایک نظم : سعید اشعرؔ


“بابا جان”
“جی بابا کی جان”
“ڈر لگتا ہے”
“دھی رانی ڈر کیسا
دن روشن ہے
رستہ اجلا ہے
سارے تیرے اپنے ہیں”
“بابا جان
روشن دن
میری آنکھ کا کانٹا ہے
کوئی مجھ کو
مجھ سے چھین رہا ہے
میرے بدن پر
یہ نیلے دھبے کیسے ہیں”
“دھی رانی
میں ہوں نا”
دور سے آتی
میں نے اپنی آواز سنی
“ایسا کرتے ہیں
مشعل اس کے ہاتھ میں دیتے ہیں
جس کا کوئی ہاتھ نہیں”
“بابا جان”
“جی بابا کی جان”
میں اکثر
کھڑکی سے باہر دیکھتی ہوں
میری کھڑکی کے نیچے
عبائے بکتے ہیں
مجھ کو اچھے لگتے ہیں
میری الماری میں
تیس عبائے ہوتے تو
نئے عبائے میں
ہر دن یونی جاتی
لیکن یہ دس ہیں”
“ایسا کرو
ہر ایک عبائے پر
بدل بدل کے
سٹالر لو”
میں کھڑکی کے پیچھے بیٹھا
نیچے دیکھ رہا تھا
کھڑکی کا شیشہ دھندلا تھا
“بابا جان”
“جی بابا کی جان”
“کچھ بھی نہیں
ایسے ہی پکارا”

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post