نظم

دعا : سعیداشعر

مولا!
اب دکھ
میرے بس سے باہر ہے
دم گھٹتا ہے
انکھوں کا پانی
بے وقعت ہے
میرے فریادی لفظوں کو شاید
سیدھا رستہ بھول گیا ہے
کھڑکی میں تاریکی بیٹھی ہے
کوئی نیکی
کوئی صدقہ
جگنو بننے کے قابل نہیں ہے
اک جھوٹا سجدہ
میرے ماتھے سے چپکا ہے
اس کو روشن کر دے
مولا!
میری جانب چلنے والی ہواؤں میں
دشمن لمحوں کی سازش
سانسیں لیتی ہے
پیڑوں پر آگ لگی ہے
دھند، دھویں سے آلودہ ہے
ندیا کے پانی میں
تیزاب ملا ہے
مٹی کی خوشبو میں
لہو کی بو شامل ہے
میرے پھیلے ہاتھوں پر
بادل کا ٹکڑا رکھا ہے
اس کو بارش دے دے
مولا!
میری کمزوری کو
ظالم تیری لاچاری
سمجھ رہے ہیں
تیری لاٹھی کی خاموشی سے
وہ اپنے اندر
جراءت پاتے ہیں
تجھ پر ہنسنے کی
ان کو شہ ملتی ہے
انصاف کٹہرے میں
میری میت کا
سودا ہونے والا ہے
مولا!
مجھے بچا لے
تجھ پر ہنسنے والوں کی
میں چیخیں سننا چاہتا ہوں
سعید اشعر

younus khayyal

About Author

1 Comment

  1. گمنام

    فروری 15, 2021

    واااااااااااہ ۔۔۔۔بہت خوب صورت نظم

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

نظم

ایک نظم

  • جولائی 11, 2019
       از : یوسف خالد اک دائرہ ہے دائرے میں آگ ہے اور آگ کے روشن تپش آمیز
نظم

آبنائے

  • جولائی 13, 2019
         اقتدارجاوید آنکھ کے آبنائے میں ڈوبا مچھیرا نہ جانے فلک تاز دھارے میں گاتی ‘ نہاتی