دریائے نیل کی نظم : صدیق الرضی…اردوترجمہ : اقتدارجاوید


اقتدارجاوید
(صدیق الرضی ۔۔۔ پیداٸش 1968ء ۔۔۔ سوڈان )
دریائے نیل کی نظم
( تمہید)
عشقِ پیچاں پہ دیواریں چڑھتی ہیں
خرطوم
خوش رنگ پیروں پہ
اپنے بدن کو سنبھالے ہوئے گیت گاتا ہے
” کیا نیل ایسے ہی ہوتا رہے گا “
مجھے کس قدر تم اہَم جانتے ہو
تمہیں میں زمیں کی علامت سمجھتا ہوں
نزدیک آو
بتاو
کہ دکھ کیسی تکلیف دیتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور ہم جدا ہو گئے
سورہ
نیل خاموشی سے بہتا ہے
شہر کی چپ میں رِستا ہے
جلتا ہے قصبوں کے گہرے دکھوں میں
دمِ صبح
دوست اک دوسرے سے
محبت سے ملتے نہیں ہیں
وہ اک دوسرے کو بھی پہچانتے تک نہیں ہیں
سبھی لوگ
پیغمبروں کی زیارت میں مشغول
تکتے ہیں غربت کے ماروں کو
پیتے ہوئے چائے
بھرتے ہوئے اشکوں کے گھونٹ!
نیچے اترتی خموشی کی بکّل میں
ملفوف بوسیدہ کپڑوں میں جیسے
چھپاتے ہوئے موت
بچوں سے کہتے ہیں
خاموش،
بس صبر،
تھوڑا تحملّ!
وہ پیڑوں کی رنگت میں اڑتے ہیں
خود کشیاں کرتے ہیں
جب رات آتی ہے
بیکار جنگوں پہ
وہ بحث کرتے ہیں
تب بیویوں کے جلو میں
نمازوں سے کتراتے ہیں
اور اوجھل نگاہوں سے ہو جاتے ہیں!
عشقِ پیچاں پہ دیواریں چڑھتی ہیں
خرطوم
کیفے میں جیسے دھوئیں کو اڑاتا ہے
ایسے اندھیرے میں غارتگروں سے کوئی بات کرتا نہیں
پہلے ایسے ہی غارتگروں نے
محبت کے ماروں کے رستے کو کاٹا تھا
ہم تم، محبت کے مارے ہوئے 
اپنے بچّوں کو
تنوّر کے اک دہکتے گلے میں اترتا ہوا دیکھتے ہیں
کسیا بیکری کے بھڑکتے الاو سے آتش چراتے!
مجھے کس قدر تم اہَم جانتے ہو
تمہیں میں زمیں کی علامت سمجھتا ہوں
میں تم کو شعلے کی حدّت سمجھتا ہوں
آو ذرا میرے نزدیک آٶ
بتاو بھلا راکھ کا ذائقہ کیسا ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور ہم جدا ہو گئے
سورہ
آگ پانی کی دشمن ہے
کڑوا دھواں راکھ ہونے کی پہلی نشانی ہے
لہریں وہ نقشے ہیں
پوری زمیں پر جو لہریں اٹھاتے ہیں
اور لڑکی
دل اور چاقو نما شہر کے
بیچ
گندم کا لذت بھرا ایک خوشہ
جو
غارتگروں اور غلاموں کے تجاّر کے سلکی بٹووں میں
گرتا
ہے
بڑھتے چلے آ رہے ہیں سیہ فام!
اے نیل
کس دم بدم پھیلتے، لمبے صحرا تلک
مجھ کو لے جاو گے
تم جدا ہو گئے اور میں
گھوڑوں کے درمیاں رکتا
لمبے مقدس سفر پر نکلنے کو بیتاب
مرے اور تمہارے محبت بھرے درمیاں پھیلی خاموشی تحلیل ہوتی ہے
خاموشی
ایسی زباں خلق کرتی ہے
جو
خوشبوٶں سے بھرے، خوبصورت زمانوں سے لبریز۔۔۔۔۔۔ماضی کے اجڑے مزاروں پہ اڑتی ہے
اے نیل
کیا پیڑ وہ کھڑکیاں تھیں
جو عورت کے دکھ قاش کرتی ہیں
کیسے تمہارے المناک پانی نے
عکس ان کے غارت کیے
اور عورت کی تاریخ تک غرق کی
کن چراگاہوں نے رنگِ غربت کو گہرا کیا؟
دیکھو
غربت لپکتی ہے
بچوں کی جانب، اداسی سے لبریز کھیلوں کے میداں کی جانب
اثاثہ ہے بچوں کا
بیزاری، نفرت، تحمّل،
عقیدوں کی اڑتی ہوئی دُھول
الزام لے جاتے ہیں ننھے بچوں کو تنہائی، بیزاری کی سمت!
دریائے نیل
اپنی بانہوں کو پھیلاتا ہے
دوران دیسوں سے آئے پرندے سے کیا بات کرتا ہے
خاموش ہوتا ہے
آتا ہے غالب
نہیں ہوتا خاموش
خاموش ہوتا نہیں ہے
دبیز ہوتے صحرا کو پیتا ہے
مستی میں اٹھتا ہے
لکھتا ہے تاریخ اپنی
ڈرم صبح ہوتے ہی بجتے ہیں
اور روح میں پھیل جاتے ہیں
چھن چھن کے آتی ہے
دریا کی پانی بھری روشنی
نیل
پانی کی سطحوں کو کم کر کے کشتی بچاتا ہے
کم گہرے پانی میں کشتی کو لاتا ہے
آ کر سیہ فام میلا سجاتے ہیں
اونچا الاو جلاتے ہیں
تاریخ کی تہہ سے پھٹ کر ابھرتا ہے نیل۔۔۔۔۔۔۔مملکت
اک محبت بھری سامنے آتی ہے اور نیوبا کے عشّاق ہوتے ہیں ظاہر
اداسی بھرے پانیوں کے کنارے
کوٸی کیسے چلتا ہے
گھوڑوں کو گھڑسواروں کو آخر کہاں ڈھونڈتا ہے
بزرگوں کے خوں کی لکیریں
کہاں پر کھنچی ہیں
کہاں سے مٹی ہیں
بزرگوں کے خوں کی لکیریں
عزیزِ جہاں
تاج پوشی کے اوقات میں
چپ کی گھمبیرتا توڑتے
بادشاہا
بڑے آہنی گیٹ سے
اصطبل سے سیہ رنگ گھوڑوں کو پانی پلاو
نٸی سرحدیں کھینچو
نقشے ابھارو
زمیں گم نہیں ہونی
امروز و فردا مالک ہے نیل
وہ کیسے شہروں کی بے حرمتی بھول سکتا ہے
وہ سب جانتا ہے
مگر بولتا تک نہیں ہے
یہ نیل ہے
یہاں اس کے روشن کناروں پہ
نسلوں نے، مستی بھرے بچوں نے خوب ہنسنا ہے
جشنِ مسرت منانا ہے
بچوں کی نسلیں یہاں منتظر ہیں !!

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post