دربدر خواب میں میں : فیض محمد صاحب

آج ساون کی پہلی بارش
برسی تو مجھے یاد آیا
تم مجھ سے اسی موسم میں
مل کے بچھڑے تھے
بہت تیز بارش کے بعد
اچانک پھر سے
حدت آفتاب سے پھر
زندگی حرارت سے شرابور ہو گئی
بادل ٹہلتے ٹہلتے شام کر بیٹھے
میں آنکھیں جمائے چاند پر
پرندوں کے غول گھروں کو
لوٹتے دیکھ کر سوچتا رہا
ان منزلوں کو جو کھو گئیں
پھر دھیرے دھیرے
آفتاب کی آنکھوں کی سرخی
مجھے رت جگے کا اشارہ کرکے
مدھم پڑ گئی
اندھیرا دھیرے دھیرے
سب منظروں میں پھیلنے لگا
میں بہت دیر تک جب
بھولی ہوئی محبت یاد کرتے
تھک گیا ۔۔۔۔۔۔اور پھر
اپنے جسم میں پڑی تنہائی سے
بغل گیر ہو کر شکستہ دل
اپنے کمرے میں اتر کر
ہجر میں نظم میں
دھڑکنیں بھرنے کی جستجو میں
زخموں کو کرید بیٹھا ہوں میں
اب مجھے خبر ہے
شب بھر مجھے نیند نہیں آنے والی
اور اگر آ بھی گئی تو
تمہیں ڈھونڈتا پھروں گا
دربدر خواب میں میں

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post