تین عمریں گزرنے کے بعد بھی : منیرنیازی

یہ شجر جو شامِ خزاں میں ہیں
جو مکاں ہیں ان کے قریب کے
کسی عمر کی کوئی یاد ہیں
یہ نشان شہرِ حبیب کے
انھیں دیکھتا ہوں مَیں چپ کھڑا
جو گزر گئے انھیں سوچتا
یہ شجر جو شامِ خزاں میں ہیں
جو مکاں ہیں ان کے قریب کے
انہی بام و در میں مقیم تھے
وہ مکین شہرِ قدیم کے

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post