تیری کمی : فیض محمد صاحب

مر گیا ہے کوٸی
آنسوٶں کو دیکھا
آٸینے میں جب
خیال آیا وہ میں ہوں
میں کافی دیر پھر سوچتا رہا
پھر میں کہاں ہوں ؟؟؟
وقت کی ڈوری
غمِ دوراں میں یوں الجھی پڑی ہے
کہ اب مجھے بھوک سے زیادہ
چاہت کی حدت محسوس نہیں ہوتی
ہو بھی کیسے ؟؟؟
جب تم بضدِ الفت تھے جاناں
تو میرے پاس اس وقت
سواۓ محبت کے کچھ نہ تھا
اور جب امتحانِ الفت آ پڑا تو
تم نے دھن و دولت کو چن لیا
بس انھی دنوں سے
میں نالاں ہو خود سے
نا جانے کیوں
میری آنکھوں سے اشک
نہیں رکے پھر
پر نہ جانے کیوں؟؟؟
احساس ہوتا ہے اب
تیری کمی کھا گٸی
مجھے جاناں

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post