نظم

تیرا راستہ : فیض محمد صاحب

پیشن گوٸی ہے کل بارش کی
سوچ رہا ہوں
جب پہلی بارش ہوٸی ساون کی
تمہیں میری اُلفت کے وہ دن
یاد تو آٸیں گے جاناں
کہ جب پہلی بار
دل اُلفت سے دھڑکا تھا
اور پھر اسی ساون میں
بچھڑ کے
خوب روۓ تھے پہلی بار
خیر اب تو ہجر کی عادت ہے
پر تم کو یہ بتلانا ہے
میں اب تک تنہا
ساون کی پہلی بارش میں
نہ جانے کب تک
تیرا راستہ تکتا ہوں

 

younus khayyal

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

نظم

ایک نظم

  • جولائی 11, 2019
       از : یوسف خالد اک دائرہ ہے دائرے میں آگ ہے اور آگ کے روشن تپش آمیز
نظم

آبنائے

  • جولائی 13, 2019
         اقتدارجاوید آنکھ کے آبنائے میں ڈوبا مچھیرا نہ جانے فلک تاز دھارے میں گاتی ‘ نہاتی