تیرا راستہ : فیض محمد صاحب

پیشن گوٸی ہے کل بارش کی
سوچ رہا ہوں
جب پہلی بارش ہوٸی ساون کی
تمہیں میری اُلفت کے وہ دن
یاد تو آٸیں گے جاناں
کہ جب پہلی بار
دل اُلفت سے دھڑکا تھا
اور پھر اسی ساون میں
بچھڑ کے
خوب روۓ تھے پہلی بار
خیر اب تو ہجر کی عادت ہے
پر تم کو یہ بتلانا ہے
میں اب تک تنہا
ساون کی پہلی بارش میں
نہ جانے کب تک
تیرا راستہ تکتا ہوں

 

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post