تھکا ہوا بدن : فیض محمد صاحب

حدتِ آفتاب سے
جل رہے ہیں پتھر
درودیوار کا سینہ
لو سے آتش زدہ ہے
پیاسی چڑیاں بیری کے درخت سے
زمیں پہ اتر کر پانی سے بھری
بالٹی میں غوطہ زن ہوتی پھرتی ہیں
کھلی کھڑکی سے آتی ہلکی ہلکی ہوا
بدن پہ بکھرے پسینے کو خثک کرتی
تھک گٸی ہے
سخت دوپہر کے عالم میں
کچھ ڈاٸنیں محوِ صدا ہیں
کھلونے لے لو
بچوں کو کیسے سمجھایا جاۓ؟
یہ اک فریب ہے ؟
بھلا ڈاٸنیں کس کی ہوٸیں ؟؟؟
تیز ہوا چلے تو ہوا
کٸی دروازوں پہ
کھڑکیوں پہ دستک دیتی ہے
راہیں دیکھنے والے
کٸی گھنٹوں بچھڑے ہوۓ
ڈھونڈنے میں ضائع کر دیتے ہیں
کمرے میں ٹک ٹک کرتی گھڑی
رکتی ہی نہیں
اس سخت گرمی میں جب
شہر میں لو سے بچ کے
بسترپر شرابور
سستا رہا ہے تھکا ہوا بدن

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post