اگر وبا ہے : یاسر عباس فراز

ہماری دھرتی کو کیا ہوا ہے
نہ اس کی سڑکوں پہ گاڑیاں ہیں
نہ اس کے بازار کھل رہے ہیں
یہ ریل گاڑی
سکول کالج کا شور
سنگیوں کا جھرمٹ
یہ کیا ہوا ہے کہ ماہِ شعبان
دس محرم بنا ہوا ہے
نہ محفلِ شاد شادیوں میں
نہ کوئی مسجد کھلی ہوئی ہے
مشاعرے، شادیاں ،مسرت کے جشن سارے ہوئے معطل
یہ کون ہے جس نے ایک پل میں نظامِ ہستی بدل دیا ہے
فقط وبا ہے
کوئی وبا ہے کہ جس کے ڈر سے
نہ ہاتھ ہاتھوں میں آ رہے ہیں
نہ یار یاروں سے مل رہے ہیں
نئی نویلی جو ماں ہے بیٹے کو بس اشاروں سے چومتی ہے
عجیب وحشت کا سلسلہ ہے
ہر ایک جانب ہے ہو کا عالم
ہے بستیوں سے جو جانبِ شہر اک روش وہ
وبا کے نرغے میں آ گئی ہے
وہاں پہ بس خوف کا سفر ہے
کوئی وبا ہے
فرشتہِ موت راستوں پر چلا ہوا ہے
اجل کی رسی دراز ہوتی ہی جا رہی ہے
سبھی کو اپنی پڑی ہوئی ہے
نہ بھائی بھائی کو جانتا ہے
جو اس وبا کے شدید حملے میں آ گیا ہے
وہ مر رہا ہے
کوئی وبا ہے
وبا کے سارے مریض پیاروں کو ہاتھ دینے سے ڈر رہے ہیں
کسے کہیں کون ہے مسیحا
کوئی بچائے
میں مر رہا ہوں
خبر طبیبوں تک آ گئی ہے
شفانگر ہے بس ایمبولینس لینے آ رہی ہے
یہ سبز وردی میں کچھ فرشتے
کسے اٹھا کر
چلے گئے ہیں
ریسپشنسٹ ، نرس ،ڈاکٹر اور طبی عملہ
وہی مسیحا ہی بچ گئے ہیں
وبا کی وحشت سے لڑ رہے ہیں
انہیں نہیں زندگی پیاری
یا ان کے بیٹے جواں نہیں ہیں
یا ان کو ماوں سے پیار کم ہے
ذرا خرد سے جو کام لو تم
تو خود کو گھر میں ہی قید کر لو
وبا سے لڑ لو
مگر جو گھر سے نکل رہا ہے
وہ شخص قاتل ہے
اس کے آنے سے سب ہوا ہے
اگر وبا ہے
یاسر عباس فراز
Aa

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post