نظم

اپنی محبت چاہیے : فیض محمد صاحب

کیا وقت لوٹ نہیں سکتا
کچھ زخم بھرنے ہیں
کہ جن کے رسنےسے
اب جینا وبال جاں ہے
تمہیں وہ خواب لوٹانے ہیں
کہ جو اب حشرتک ادھورے ہی رہیں گے
اور ویسے بھی اب یہ ادھورےخواب
میری آنکھوں پہ بوجھ ہیں
بھلا کوٸی بھی بوجھ
کب تک اُٹھایا جا سکتا ہے
سنو !!! تمہیں وہ نظمیں بھی سنانی ہیں
کہ جن میں میری محبت
تمہارے نام سے زندہ ہے
میں نہیں چاہتا
اب اُنھی نظموں کو کوئی
میرے دراز سے نکالے تو
خود سے منسوب کر بیٹھے
میں نظمیں لکھنے کا عادی ہو گیا ہوں
اور اب اور نہیں سنبھال سکتا
کہ میرے کمرے میں اب
بہت سے حسیں چہرے کھڑکیوں سے
جھانکیں تو مجھے ڈر لگتا ہے
کہیں تم نظموں سے اخذ ہوگئے تو
میں نہیں چاہتا
کوٸی تمہیں بے وفا کہہ دے
سنو ! تمہیں وہ سب دکھانا ہے
کہ جس دھن کی جستجو میں
تم نے مجھ سے منہ پھیرا تھا
کہ اب وہ سب تمہیں سونپ کر
مجھے اپنی محبت چاہیے

 

younus khayyal

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

نظم

ایک نظم

  • جولائی 11, 2019
       از : یوسف خالد اک دائرہ ہے دائرے میں آگ ہے اور آگ کے روشن تپش آمیز
نظم

آبنائے

  • جولائی 13, 2019
         اقتدارجاوید آنکھ کے آبنائے میں ڈوبا مچھیرا نہ جانے فلک تاز دھارے میں گاتی ‘ نہاتی