آدھی صدی کے بعد : ڈاکٹروزیرآغا


ڈاکٹروزیرآغا
جھرنے
شب کا پچھلا پہر
پھڑپھڑاتے ستارے
گھنی گھاس کی نوک پرآسماں
سے اترتی نمی
اور پورب کے ماتھے پہ
قشقے کا مدھم نشاں
رات۔۔۔۔۔ اِک آبنوسی جواں رتھ
شرارے اگلتے ہوئے اَسپِ وحشی
کے پلّو سے بندھنے کو تیار!
ہلکی ہلکی ہوا
اور میں
اپنے معصوم دل میں
مسرت کی دولت چھپائے
شکستہ سی اک بیل گاڑی میں
خوشبو میں لپٹی ہوئی چھٹیّوں کو
کھلونوں کی صورت
دھڑکتے ہوئے اپنے سینے سے بھینچے
قلا قند اور شہد ایسے دنوں
رس بھری نرم جامن سی
تازہ رُتوں کے لیے
کتنا بیتاب!
اور منتظر!
منتظر اُس کی ہمکتی ہوئی ایک ساعت کا جب
بیل گاڑی
مِرے گاؤں کی گرم شہ رگ میں
اترے
معاًَ بیل گاڑی سے میں کود کر
بانہیں کھولے ہوئے اپنے گھر میں
لپک کر گھسوں
ماں کے سینے سے ٹکراؤں
ہونٹوں کے حیرت سے کھلنے کا
اور پوکے پھٹنے کا منظر
میں دیکھوں
مسرت کی زر تار کرنوں میں
لپٹے ہوئے
نرم بوسوں کی شبنم کو
الجھے ہوئے اپنے بالوں پہ
گرتے سنوں
پھر میں ہنسنے لگوں!
پھر میں ہنسنے لگوں
اور گزری رُتیں لَوٹ آئیں
پرندوں کی چہکار۔۔۔۔ مانوس
گائے کے نازک تھنوں سے
اُترتی ہوئی دُودھ کی دھار
تازہ
مہکتے ہوئے گرم تنور کی کوکھ سے
دن بدم جست بھرتی
سنہر ی چنگیروں
میں ٹپ ٹپ اُترتی ہُوئی
روٹیاں
روٹیوں پر جھپٹتے ہوئے
ہات
چھوٹے چھوٹے سے ہات!
گول بوٹی
رکابی کی دلہن
اُمڈتا ہوا سورماؤں کا لشکر
سوئمبر کا منظر
بدن کی کمانوں سے
نظروں کے تیروں کی
بھوکی لپک
جیت کے قہقہے
ہار کی سسکیاں
پھر قمیصوں کی اُڑتی ہوئی دھجّیاں
پھر کسی شے کے گرنے کی
آواز
اور بھاگتے دوڑتے پاؤں کی جوڑیاں
جوڑیوں کے تعاقب میں
دادا کی چیخوں میں ڈھلتی ہوئی گالیاں
پھر خموشی
خموشی کی اِک چادرِ آبگُوں
دوپہر تک سکوں!
دوپہر تک سکوں
دوپہر۔۔۔ دھوپ
اور آسماں
دھوپ کا سائباں
اور تلووں کے نیچے
دہکتی زمیں
نہر میں کودتے
ننھے منّے برہنہ بدن
’’گاچنی‘‘ایسے پانی میں
گرتی ہوئی تختیاں
مُردہ لفظوں کے بہتے ہوئے
پھول
اور پتیاں
دھوپ کی قاش ایسے
سنہری بدن
زرد پانی میں جیسے ہمکتا چمن
پھر وہ بادل کے پازیب کی
چھن چھنن
مست پُروا کا نازک ہنڈولا
ہنڈولے میں تتلی
چلو آؤ تتلی کو پکڑیں
چلو، ہاں چلو
سُرخ تتلی کے پیچھے چلو
اِک تعاقب، تجسس
پکڑنے کی خواہش
اسے ، جس کا کوئی بدن
اور نہ چہرہ
فقط اِک ہیولیٰ
فقط اِک ہیولیٰ کہ جس کے
تعاقب میں آدھی صدی
جیسے اِک پَل کی صورت
گزرتی گئی!
دن کا پچھلا پہر
اور اوڈیسسؔ کے جرار ساتھی
چری ،باجرے ،دھان اور نیشکر
کے پُر اسرار کھیتوں کا
کالا سمندر
سمندر میں لکڑی کے تختے
شکستہ سے تختوں پہ
کیچڑ کے چیچک نما داغ
چہروں پہ چپکائے
بالوں کے چھجّوں کے نیچے
چمکتی ہوئی تیز آنکھیں سجائے
ٹٹیری کے رنگین انڈوں
حَسیں چَھتریوں والی ’’کھُمبوں‘‘
چھنکتے ہوئے
ہریلوں
نیل کنٹھوں،بھجنگوں
کے اُجلے پَروں کے لیے
اک انوکھی تڑپ
ننھے سینوں
کے جھرنوں کے اندر
چھلکتی ہوئی
بے قراری
سمندر کے اندر
سمندر!
سرِ شام
سوندھی سی خوشبُو سے
سر شار
بھٹّی پہ بونوں کی یلغار
دانے ،
ہرے لانبے بھُٹّوں سے ٹوٹے ہوئے
زرد دانے
پٹاخے
سلگتی ہوئی ریت پر
زرد دانوں کا کھِلتا چمن
دور۔۔۔ مغرب میں
جلتی ہوئی شام
سرخ بھٹّی پہ جیسے کڑھائی
کڑھائی میں
ہنستے ، تڑختے ، اُچھلتے ستاروں کا گلزار
جلتی ہوئی شوخ آنکھوں کے گلزار پر
خندہ زن!
شب کی کالی قبا
اور درختوں کے بھاری ذخیرے کے پیچھے
گھسٹتا، محافظ شعاعوں کے
گھیرے میں، آگے کو آتا ہوا
چاند
گاؤں کے لڑکوں کی
تیر و تبر سے مسلح سپہ
اپنے سالار کے حکم پر
آگے بڑھتی
شعاعوں کے نیزوں سے ٹکراتی
پَل پَل اُلجھتی
سُموں سے اُڑاتی وہ ذرّے
جو دشمن کو بے بس کریں
پھر
زمیں سے فلک تک
کبڈی کی ’’ شُوکر ‘‘
مقفّل سے اِک دائرے میں
بکھرتے ، سمٹتے ہوئے
چاند جسموں کی لہریں
بپھرتا ہوا شور
چیخیں
مسرت بھری تیز چیخیں
ہوا میں معلّق
گھنی گرد کا نقرئی جال
اور بھوت ہی بھوت
بھوتوں کے گرداب میں
چاند کی لاش
نیزوں کی نوکوں پہ
ٹھہری ہوئی !
نصف شب
جیسے خوشبو بھری گود
رِ ستے ہوئے زخم پر جیسے پھاہا
بدن کو تھپکتی ہوئی چاندنی
سَر کے ژولیدہ بالوں میں پھرتی ہوئی
ریشمی انگلیاں
ماں کے ہونٹوں کی لَو پر
سلگتی ہوئی اِ ک کہانی کے پَر
سات رنگوں کے پَر
قافؔ کی اُس پری کے
جسے ڈھونڈنے کے لیے
شاہ زادہ
پہاڑوں کی جانب روانہ ہوا
پہاڑوں کا دامن تہی تھا
پری اُس کی اپنی ہی آنکھوں کی
پایاب سی باؤلی میں
مکیں تھی
مگر شاہ زادے کی آنکھیں تو باہر کی جانب
کھلی تھیں
پری اُس کی آنکھوں کے غُرفوں سے
تکتی تھی اپنے تعاقب کا منظر
تھکا ہارا شہزادہ
لمبا سفر!
آج آدھی صدی کی مسافت پہ
پھیلے ہوئے
ایک لمبے سفر سے
مَیں لوٹا ہوں
اور گاؤں
آنسو کے موٹے سے قطرے کی صورت
مِری بھیگی پلکوں کی
چلمن سے لگ کر کھڑا ہے
کسی صاف شفّاف بلّور
مرقد کی صورت مِرے سامنے ہے
مِری ماں کو رخصت ہوئے
جیسے لاکھوں برس ہو چکے ہیں
پرانے مکانوں،
درختوں، پرندوں میں
کوئی بھی باقی نہیں ہے
مِرے شوخ بچپن کی
اب راکھ تک
اُڑ چکی ہے
مگر چاروں جانب
مہکتے ہوئے گرم تنّور۔۔۔۔۔
نہر کی کوکھ۔۔۔۔۔۔
کھیت کی منڈھ۔۔۔۔۔
شب کی کالی قبا
ہر طرف
ہرجگہ
اُلجھے بالوں، چمکتی ہوئی
تیز آنکھوں میں بچپن
خنک چاندنی کی طرح
آج بھی موجزن ہے
زمانے کی رفتار پر خندہ زن ہے !
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ندی
زمانے کی رفتار پر خندہ زن ہے ؟
زمانہ تو بھیگا ہوا ایک چابک ہے
میرے بدن پر
مسلسل
انوکھے سفر کی کہانی سی اِک
لکھ رہا ہے
مجھے لوحِ محفوظ گردانتا ہے
کہ شاید
میں خود ایک لنگڑاتا رِستا قلم ہوں
زمانے کے اوراق پر
زخم چسپاں کئے جا رہا ہوں
مِرا کام
اس کے سوا کچھ نہیں ہے
کہ جب وقت بولے
میں لکھنے لگوں
پھر میں جو کچھ لکھوں
اپنے اخبار کو بھیج دوں
جب وہ خاموش ہو۔۔۔۔۔
پر وہ خاموش ہوتا نہیں ہے
پرندے کی منقار پر بیٹھ کر
چہچہاتا ہے
دیپک کی لَو پر ہُمکتا ہے
تارے کے بھیگے پَروں پر
زباں کی لرزتی ہوئی نوک پر
اُس کی روشن صدا
گونجتی ہے
کبھی چوڑیوں کی چھنک میں
وہ آواز دیتا ہے
گاہے وہ سر اپنا دیوار سے مار کر
چیختا ہے
کبھی رونے لگتا ہے
یا زور سے بولتا ہے
کبھی قہقہہ بن کے
دیوار کو توڑتا ہے
گلی میں اُتر کر
کسی بھولے بھٹکے ہوئے
خشک جھونکے کے جاروب کی
زد میں آئے ہوئے
کل کے اخبار کو ڈھونڈتا ہے
کبھی گھر کی دہلیز پر بیٹھ کر سوچتا ہے
کبھی خود کو پڑھتا ہے
بچپن کے اُجلے ورق کو اُلٹ کر
جوانی کی تصویر کو دیکھتا ہے
جوانی کی تصویر کو دیکھتا ہے
تو عارض کی رنگت میں گھل کر
چنبیلی کی خوشبو میں ڈھل کر
دھڑکتی ہوئی سانس بن کر
پگھلتی ہوئی موم بتّی کی
رِستی ہوئی آنکھ میں
ڈولتا ہے
معطّر سی ، میٹھی سے سرگوشیوں میں مجھے
اُس زمانے کا منظر دکھاتا ہے جو
مجھ سے اوجھل بھی ہے
اور ہر دم نگاہوں میں لرزاں بھی ہے
مجھ سے کہتا ہے :
وہ دن بھی کیا دن تھے جب
گھاس کی باس میں
نیلے فلک پر تھرکتی پتنگیں
چمکتی ہوئی سائیکل
گیند، ریکٹ
ربڑ کے چمکتے ہوئے بوٹ
تانگے کے آدھے بدن پر
سیہ رنگ چادر
سیہ رنگ چادر کے گھونگھٹ سے
تکتی ہوئی شوخ آنکھیں
۔۔۔۔ ہر اِک شے سے جیسے
ترے دل کے سب تار
جُڑ سے گئے تھے
گلی سے گزرتے ہوئے
جب کوئی چِق لرزتی
تو دل تیرے سینے کی دیوار سے
ٹکریں مارتا
اور گردن کی رگ
اس قدر زور سے پھڑپھڑاتی
کہ جیسے کوئی تازہ پنچھی
شکاری کی مُٹھّی میں محبوس ہو!
ہاں۔۔۔۔ وہ پاگل زمانہ
عجب شان سے آ گیا تھا
جوانی نے
بچپن کو اِک کینچلی کی طرح
اپنے تن سے علیٰحدہ کیا
اور خود
گھر کی دہلیز کو پار کر کے
کھُلے شہر میں
تیز خوشبو بنی مشتہر ہو رہی تھی
نگاہوں میں نشّہ
لبوں پر دہکتی ہوئی ایک لرزش
ہر اِک شے کو چھونے کی
اور چوم لینے کی بے نام خواہش
لہو بن کے
نیلی رَگوں میں رواں تھی
اُدھر شام،
پھولوں کا گجرا بنی
رُو برُو آ کے رُکتی
اِدھر میں
بڑے باغ کے
سرد پھولوں کی جانب،
لپکتا
گلاب ایسے مہکے ہوئے پھول کو
اپنے ہاتھوں کے پیالے میں لے کر
بڑے غور سے دیکھتا
پھر دہکتے ہوئے اپنے عارض کو
برفاب سے پھول کے گال پر رکھ کے
خوشبو میں سرشار
مدہوش
سَپنوں کی بارش میں بھیگا
یُونہی۔۔۔۔ ایک بُت سا بنا
شام کی رخصتی تک
وہیں باغ کے نیم روشن سے گوشے میں
محبوس رہتا
اچانک
شبِ تار اُونچے درختوں
کی شاخوں سے نیچے اترتی، مجھے چھیڑتی،
نرم سپنوں سے بیدار کرتی
یہ کہتی:
اُٹھو، یوں نہ پاگل بنو
گھر کو لَوٹو
کہ جب رات آئے
تو کوئی مسافر بھی زیر فلک
یوں ٹھہرتا نہیں!
مگر میں تو جیسے
ہوا کے سمندر میں
ٹھہرا ہوا اِک جزیرہ تھا
مرکز تھا
ہر دم اُبھرتے ہوئے دائروں کا
مِرے گرد
لمحوں کی چنچل جواں گوپیاں
رقص کرتی تھیں
ہونٹوں سے میرے جو تانیں اُترتیں
منقش سے دھاگوں میں
ڈھل کر
زمانے کی جانب لپکتیں
میں سورج تھا
اور سبز ریشم میں ملبوس
ماتھے پہ جھومر سجائے
یہ دھرتی
مِرے گرد پھرتی تھی
گلیوں کے غاروں
مکانوں کی درزوں
کلس اور مینار کی رفعتوں سے
مجھے جیسے آواز دیتا تھا کوئی
یہ کہتا تھا:
تُو
شہر کا دل ہے
دل میں
لہو کی تڑپتی ہوئی بُوند ہے
تجھ پہ سارے جہاں کی نگاہیں جمی ہیں
تُو پلکیں اُٹھا
دیکھ
سارا زمانہ تُجھے دیکھتا ہے !
اور میں
جیسے مَیں خُود بھی
حیرت میں ڈوبے زمانے کی
آنکھوں سے بس خود کو ہی
دیکھتا تھا
بدن میرا
جادو کی نگری تھا
آئینہ صورت تھا
مجھ کو دکھاتا تھا
میرا ہی منظر
کبھی ایسے لگتا
کہ جیسے یہ دھرتی بھی
اِک آئینہ ہے
کبھی رات جب بھیگتی
نیند
رُوٹھی دلہن کی طرح
آنکھ کے گرم بستر سے
باہر نکل کر ٹہلتی
تو میں گھر کی چھت پر
کھلے آسماں کے تلے
کھردری چارپائی پہ لیٹا
ستاروں کے
بکھرے ہوئے مقبروں پر
دیئے ٹمٹماتے ہوئے دیکھتا
مجھ کو احساس ہوتا کہ سارا فلک
ایک ٹوٹا ہوا آئینہ ہے
ستارے
چمکتی ہوئی کرچیاں ہیں
میں خود
ہر ستارے کی کِرچی میں ہوں
جیسے کمسن زمیں
اور بوڑھا فلک
اور معصوم تارے
سبھی میرے ہمراز
سب میرے اپنے ہیں
مَیں
سبز مخمل کی مسند پہ
بیٹھا ہوں
تینوں زمانے
مرے سامنے
دست بستہ کھڑے ہیں!
مگر پھر
کوئی اُڑتی سرگوشی۔۔۔۔ تتلی
نجانے کدھر سے
مِری سمت آتی!
مِری سمت آتی تو مسندسے اُٹھ کر
میں تینوں زمانوں کو
بچپن کے ہمجولیوں کو
گلے سے لگاتا
گلے سے لگاتا تو وہ
مجھ کو پہچان جاتے
چمکتی ہوئی کرچیاں
پھر سے آئینہ بن کر
مجھے گھورتیں
اب وہ مجھ میں
میں اُن میں تھا
لمحوں کا ٹوٹا ہوا ہار،
جُڑ سا گیا تھا
نظر میں
انوکھی سی پہچان آنے لگی تھی
میں حیران تھا
دیکھتا تھا
کہ اندھے خلا میں
زمیں ایک کنکر ہے
کنکر پہ تازہ پھپھوندی لگی ہے
حیات
اِک پھپھوندی ہے
ڈائن ہے
اپنے ہی اعضا کو
رغبت سے کھاتی ہے
کیڑے ، مویشی، پرندے
زمیں پر بچھی گھاس
پودے
ہر اِک زندہ شے کا نوالہ بنی ہے
عظیم اور جی دار انساں
تو اپنا بھی قاتل ہے
اپنے ہی ساتھی کا
تازہ لہو پی رہا ہے
یہ عفریت
گالی ہے
بدبو ہے
دھبّہ ہے
اپنی غلاظت میں ہر روز
اشنان کرتا ہے
اپنے تعفّن کا
خود پاسباں ہے !
اچانک مجھے جیسے اُبکائی آتی
غلاظت
مِرے مُنہ سے باہر اُچھل کر
مجھے ڈانٹتی
اور تعفّن
مجھے اپنی مٹھّی میں لے کر
مَسلتا
مِرے چاروں جانب
مکانوں کے پنجر
کتابوں کے معبد
دعاؤں کے گنبد
بسیں، گاڑیاں
اور فقیروں کے گلّے
مِرا منہ چڑاتے
یہ کہتے :
کہاں پھر رہے ہو؟
یہاں لفظ کا کوئی معنی نہیں ہے
یہاں تو فقط گیلی مٹّی ہے
مٹّی کی شکلیں ہیں
بارش کا پہلا ہی چھینٹا پڑا تو
پگھل جائیں گی
اور کیچڑ سے بازار
بھر جائیں گے
تم بھی مٹی کے پتلے ہو
برکھا کے آنے تلک
اپنی صورت کو باقی رکھو
تم بھرم اپنے ہونے کا
باقی رکھو!
اور میں سوچتا
اس قیامت سے
کوئی بھی زندہ نہیں بچ سکے گا
تو پھر فائدہ؟
کیوں میں بے کار
رسّی کے زینے پہ چڑھتا رہوں؟
مجھ کو لگتا
زمیں اور فلک میں
فقط لاکھوں رسّی کے زینوں کا
اِک سلسلہ ہے
سبھی
جھولتے ڈولتے نرم زینوں پہ
پاؤں رکھے
آسماں کی طرف اُٹھ رہے ہیں
سبھی
باری باری
زمیں کی طرف گر رہے ہیں
نشستوں پہ بیٹھے تماشائی
مُردوں کے پنجر ہیں
آنکھوں کے بے نور غرفوں سے
سرکس کے بازی گروں کو
خموشی سے تکتے چلے جا رہے ہیں
تو کیا مَیں بھی
اِن روزنوں کے لیے
اِک تماشہ دکھاؤں
نہیں!
مَیں تماشہ نہیں ہوں
کھلونا نہیں ہوں
مَیں بجھنے کی
خود کو بجھانے کی
شکتی ہوں
اپنا مقدر
مَیں خود ہوں۔۔۔۔۔
مجھے
تب مجھے
موت کے لمس کی آرزو
ہر گھڑی گدگداتی
میں خوشبو کی صورت ، بدن سے نکل کر اُڑوں
سب پکڑتے رہیں
میں نہ ہرگز رکوں
یا کسی شام ، آوارہ پھرتے ہوئے
رہگزر میں کہیں
گِر پڑوں، میرے ماتھے سے تازہ لہو
ایک فوّارہ بن کر ، ابلنے لگے
پھر کہیں سے
کوئی آ کے ، نازک سے ہاتھوں سے
مجھ کو اُٹھائے
مِرے سر کو آغوش میں لے کے ، رونے لگے
پر میں رُوٹھا رہوں
موت کی وادیوں کی طرف چل پڑوں،
اور چلتا رہوں
مجھ کو محسوس ہوتا
ہر اِک دل میں خطرہ پھڑکتا ہے :
’’ یہ مرکز ہست
مجھ سے جدا ہو نہ جائے
جدا ہو نہ جائے۔۔۔‘‘
مگر مَیں
خدا سے
زمیں سے
فلک سے
میں تینوں سے رُوٹھا ہوا تھا۔
مجھے گندگی میں
گھٹن میں
شکستہ سے رشتوں کی
بپھری ہوئی گرم منڈی میں
اِک پَل بھی رکنے کی
خواہش نہیں تھی
میں اِک سرد جھونکے کی صورت
مقفّل گھروں پر، بس اِک ہلکی دستک سی دے کر
کہیں دور۔۔۔۔۔۔
بجھتے دلوں کے ، پر اسرار ساحل سے
ٹکرا کے ، رُکنے کا خواہاں تھا
میں تیرگی
بیکراں تیرگی کے لیے
کیسا پاگل ہوا تھا !
میں پاگل ہوا تھا
گھنی تیرگی کی گُپھا میں
اترتا چلا جا رہا تھا،
کہ تاریکیوں میں
کوئی اپنے چاندی سے ہاتھوں پہ
شمعیں جلائے
ستاروں سے نیچے ، اترنے لگا
روشنی کا مدھر دائرہ
میری جانب اُمڈنے لگا
اور پھر ایک دن ، میں نے دیکھا
میں اِک نور کے دائرے میں
کھڑا تھا
مِرے گرد
سونے کے کنگن کا
حلقہ بنا تھا !!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دریا
مِرے گرد
سونے کے کنگن کا حلقہ بنا تھا
زمانہ
سُلگتا ہوا تیر
قوسِ عدم سے نکل کر اُڑا تھا
اُڑا تھا کہ کنگن کو
کنگن سی دھرتی کو
تاراج کرنے میں اِک
کرب انگیز لذّت تھی
اِک جان لیوا خوشی تھی
مگر میں نے دیکھا
زمانے کی رفتار ، مرنے لگی
اور اُڑتا ہوا تیر ، رنگیں پروں کو سمیٹے
درختوں کی پھیلی ہوئی، سبز جھولی میں
بے بس سا ہو کر گِرا
ایک تابندہ لمحہ
ازل سے ابد تک کھنچا ایک پُر نور جُملہ
ہزاروں سلگتی ہوئی، ساعتوں
ننھے منّے کروڑوں ،
چمکدار لفظوں میں
ڈھلنے لگا
تب ہَوا نے ، بیاضِ زمیں کھول دی
اور رنگین اوراق، اُڑنے لگے
لفظ ،
جملوں کی شاخوں سے نیچے
اُترنے لگے
مکڑیوں
شہد کی مکھّیوں
اور ریشم کے کیڑوں میں ڈھل کر
تھرکنے لگے
سُرخ چڑیاں سی بن کر
پھُدکنے لگے
اپر پاروں
گُلابی پتنگوں کی صُورت
فلک کی طرف اُٹھ گئے
قطرہ قطرہ
زمیں کے بدن پر
انوکھی، پر اسرار بھاشا میں
اِک ساتھ جینے کی مرنے کی ،
تحریر لکھنے لگے
میں نے دیکھا ، پُر اسرار سی روشنی
پھیلتی جا رہی تھی
پہاڑوں، درختوں، کتابوں
کی خوشبو مجھے چھیڑتی تھی
زمیں پر بچھی ندیاں
بے قراری سے ، اِک دوسری کی طرف
آ رہی تھیں ، گلے مل رہی تھیں
کشادہ،
سجل
بانکے دریا کو
گھیرے میں لے کر
مہکتی چلی جا رہی تھیں!
معاً میں نے
پھُولوں کے گجروں کی درزوں سے دیکھا
میں ندیوں کے جھُرمٹ میں محصُور
پلکوں کی ٹھنڈی سلاخوں کے پیچھے
کھڑا تھا
پیازی سے گالوں کے
بلّور میں
میرا چہرہ چھُپا تھا
چمکتی ہوئی سرخ بندیا
مِرا نام جپتی تھی
خوشبو
گلابی لبادوں سے باہر نکل کر
مجھے سونگھتی تھی
لبوں سے ٹپکتے ہوئے بول
مصری کی ڈلیاں تھے
کانوں میں گھل کر
مِرے تن کی شریانوں
ننھی رگوں تک کو
میٹھی تمازت سے مسحور کرتے تھے
چاروں طرف
ریشمیں ڈوریاں، ندّیاں
مجھ کو تھامے کھڑی تھیں
مِرے سامنے
ایک بانکا، سجل ، تیز دریا تھا
دریا
جو ریشم کا دھاگا تھا
سوزن تھا
اپنے ہی دونوں کناروں کو
پیہم رفو کر رہا تھا
زمیں کے اُدھڑتے ہوئے چاک کو
سی رہا تھا!
عجب روشنی تھی
مہکتے ہوئے سبز باغات
پنچھی
کِسانوں کے گھر
کھیتیاں
میرے دامن پہ
گوٹے کناری کی صورت
دمکتی تھیں
میں ساری دھرتی کو
سینگوں پہ اپنے اُٹھائے
کھڑا تھا
مِرے دَم سے
گندم کے خوشوں میں دانے تھے
اشجار بارِ ثمر سے جھکے تھے
سفیدی کے دھبّے
ہَری گھاس میں چر رہے تھے
میں ہَل کی اَنی تھا
درانتی کی کُبڑی زُباں تھا
اُگاتا تھا مَیں
خود ہی پھر کاٹتا تھا
پُرانی سی اِک بیل گاڑی میں پھر
خود کو میں لادتا تھا
سڑک بن کے
شہروں کے پھولے ہوئے پیٹ تک
رینگتا تھا
رگوں میں لہو بن کے پھر
دوڑتا تھا
قلم کی اَنی
مُو قلم کی زباں سے
لرزتی ہوئی انگلیوں کی کماں سے
شبیہ اِک بناتا تھا ایسی
کہ جو اصل پر خندہ زن تھی
مَیں دھاروں کا سنگم
گلوں کی روانی تھا
رنگوں کی سیّال حدّت میں
بھیگا پڑا تھا !
کبھی۔۔۔ جب ہَوا
کالے مردہ پہاڑوں سے
پلّو چھُڑا کر
مری سمت آتی
تو رنگین فرغل پہنتی
دَبے پاؤں چلتی
مِرے گھر کی چوکھٹ سے ٹکرا کے
رُکتی
شگوفوں سے ، بچّوں سے
میرا پتہ پوچھتی
اور مَیں
اپنی آنکھوں کے پَٹ بھیڑ کر
ہلکی ہلکی تھکاوٹ کی تہہ
اپنے سارے بدن پر جمائے
اُسے اُس کے قدموں کی
بڑھتی ہوئی۔۔۔۔ اور گھٹتی ہوئی چاپ سے
پاس آتے
پلٹ کر کہیں دور جاتے ہوئے
دیکھتا
ساری دنیا
نہ سوئی پڑی تھی نہ بیدار تھی
اِک نشیلی سی، جادو بھری اُونگھ
تینوں زمانوں پہ چھائی ہوئی تھی
زمیں
آسماں
ابر پارے
پَروں میں سروں کو چھپائے ہوئے
جَل کے پنچھی
کھجوروں کے سایے میں
نرجل کے باسی
بس اِک اونگھ تھی
جو میری بند آنکھوں سے
صحرا کے ٹیلوں
ستاروں کے بکھرے ہوئے محملوں تک
ہر اِک شے کو
زر دوز لوری کے
زر ناب دھاگوں میں
جکڑے ہوئی تھی!
سحر
روز، کمرے کی چِق کو ہٹاتی
مِرے پاس آتی
مِرے نرم بستر کی چادر بدلتی
مجھے ، جیسے پَر مار کر
گھر سے باہر نکلنے پہ
مجبور کرتی
یہ کہتی:
بہت سو لیے تم
اُٹھو
گھر سے باہر نکل کر بھی دیکھو
ہوا کیسی تازہ ہے
کومل ہے
اور دھوپ کے لمس میں
کتنا نشّہ ہے
لذّت ہے
کب تک یونہی
پوستی بن کے
بستر میں لیٹے رہو گے ؟
سحر
روز، ایسے ہی بکتی
مگر شام ہوتے ہی
کہتی:
بہت تھک گئے ہو
چلو
اپنی آرام کرسی میں لیٹو
اتارو
یہ چمڑے کے
سُوکھے ہوئے بُوٹ
دیکھو
یہ بالوں میں پھر
’’ ڈینڈرف ‘‘ آ گیا ہے
بہت تھک گئے ہو
یوں ہی۔۔۔اپنی آرام کرسی میں
لیٹے رہو
بس۔۔۔ اسی طرح لیٹے رہو!
اور مَیں۔۔۔۔
اپنی آرام کرسی میں لیٹا ہوا
آتے جاتے زمانوں کو تکتا تھا
اور اُونگھتا تھا
پھر اِک دن
مِرے دَر پہ دستک ہوئی
اِک ہیولے نے
نیلے فلک سے اُتر کر
بڑے زور سے میرے شانے
ہلائے
ہلائے۔۔۔۔ تو مَیں
شانگری لا کا باسی
ذرا کسمسایا
بکھرتی ہوئی دھُند کے چاک سے
میں نے دیکھا، زمانے کا موسم بدلنے لگا تھا
گھنی کھیتیاں
سبز جنگل
کسانوں کے گھر
سب کو
کائی میں لپٹے ہوئے لجلجے کیکڑے
اپنے پنجوں میں لے کر کُترنے لگے تھے
ہرے ، مدھ بھرے
میرے دونوں کنارے
سلگنے لگے تھے
خوشی
سر برہنہ، اکیلی، جواں
اِک کنارے پہ روتی تھی
اور بین کرتی تھی
دُکھ
اپنا لشکر لیے
دوسرے گھاٹ پر
خیمہ زن، شادماں
اور میں
دُکھ کی ننگی خوشی
اور خوشی کی سُلگتی ہوئی پِیڑ
کے درمیاں
اِک نشاں
جیسے لچھمنؔ کی ریکھا
جسے پاؤں کی نوک چھُو لے
تو تاریخ کا رخ بدلنے لگے !
تو۔۔۔ تاریخ کا رُخ
بدلنے لگا
وہ دریا کہ اپنے کناروں کے اندر تھا
بادل کے بے رحم چابُک
کی ضربوں سے
پاگل ہوا
تند لہریں
دمکتے ہوئے صاف ماتھے کی
شکنیں بنیں
جُست بھر بھر کے
دونوں کناروں کو
تکنے کی کوشش سی کرنے لگیں
جَڑ سے اُکھڑے درختوں کے پنجر
پرندوں کے پَر
اور بچوں کے نازک کھلونے
غضبناک، وحشت زدہ،
تیز غرّاتی موجوں کے راکب بنے
ڈھور دھرتی سے کٹ کر
سیہ مچھلیاں بن کے رہنے لگے
اینٹ گارے سے دامن چھڑا کر
مکاں، کشتیاں بن کے بہنے لگے
سانپ پتوار، بچھو مُسافر بنے
آدمی غرق ہونے لگے
ہر طرف چادرِ آب بچھتی گئی
پھر خموشی نے
ہر شے کو خاموش رہنے کی تلقین کی
اور زمیں چُپ ہوئی
آسماں چُپ ہُوا
اور دریا
خود اپنے بدن سے لپٹ کر
سسکنے لگا
پھر وہ اپنے ہی مرکز کے
ٹیلے سے نیچے اُتر کر
اُترتے ہوئے پانیوں کے
سیہ دائرے سے نکلنے لگا
اُس نے دیکھا، وہ سارے نشیب
اور خالی کنویں
جن کے سینوں پہ بھاری قدم رکھ کے
اُس نے
اُفق کی بھڑکتی ہوئی زرد جھالر کو
چھُونے کی کوشش سی کی تھی
وہ سب ، اُس کے سیّال تن سے
گھڑے ، کُوزے ، کشکول
لاکھوں جُگوں کی جلی خشک مشکیں بھرے
ہنس رہے تھے ، مگر اُس نے دیکھا
وہ دریا نہیں تھے
فقط چھوٹے چھوٹے سے جوہڑ تھے
ٹھہرے ہوئے باسی پانی کے
اندھے گڑھے تھے
سنگھاڑوں، جڑی بوٹیوں
سُوکھے گنجان جھاڑوں سے
لِپٹے پڑے تھے
اُسے یوں لگا
جیسے پانی رواں ہو تو پانی ہے ،
ورنہ غلاظت سے لبریز
اندھا گڑھا ہے
فقط ایک اندھا گڑھا !
اور پھر۔۔۔ یوں ہوا
سرسراتی سی پرچھائیں
یم راجؔ کی
میری پیہم روانی پہ ،
برہم ہوئی
میرے پیچھے ،
دبے پاؤں آنے لگی
ہر قدم پر مجھے ،
برف ہاتھوں سے چھُو کر
گزرنے لگی
ایک دن
بھاری بھر کم،
ربڑ کے گھِسے تیز پہیّوں پہ بیٹھی
مجھے
اپنے لوہے کے جُثّے سے نابُود کرنے کو آئی
مگر سوچ میں پڑ گئی
اُس نے اک قرمزی پھول
ہاتھوں میں میرے تھمایا
رُکی
ایک شیشے کا نازک سا گلدان بن کر
سڑک پر گری
ریزہ ریزہ ہوئی!
دوسری بار
اونچے فلک سے
کسی بھوکے گدھ کی طرح
اپنے گندے پروں کو سمیٹے ، سیہ چونچ کھولے
وہ اک چیخ سی مار کر، مجھ پہ جھپٹی
گری
پھر مکانوں کے ملبے پہ اِک پُل رکی۔۔۔ رُک کے
تیزی سے آگے بڑھی
مجھ کو کھا جانے والی، عجب
لال پیلی نگاہوں سے تکتی ہوئی!
تیسری بار
ساون کی اِک گنگناتی ہوئی
کالی شب میں
وہ دُزدانہ آئی
میری کھاٹ سے لگ کے تا دیر بیٹھی رہی
پھر اندھیرے میں
اُس کا بدن
مجھ سے ٹکرایا
طوفان آیا
وہ کُنڈلی سے باہر کو لپکی
چمکتی ہوئی ایک شُوکر بنی
پھر نہ جانے اُسے کیا ہوا، وُہ مُڑی
اور دہلیز کو پار کر کے
گھنی، گہری جنگلی گلابوں کی اِک باڑ میں
گُم ہوئی،
اپنی ہی ذات میں
چھپ گئی!
آخری بار
اُس نے مجھے
قہر آلود نظروں سے اس طور گھُورا
کہ میں آج تک
خوف کی کپکپی
اپنے سارے بدن میں رواں دیکھتا ہوں
میں پٹڑی پہ بیٹھا تھا
وہ
اِک سیہ فام عفریت کے روپ میں
ساری دنیا کو لرزاتی
پٹڑی کی چیخوں کے کُہرام میں
ایک وحشت زدہ تیز سیٹی بجاتی
مِری سمت آئی
بس اِک لمحہ
جانے مجھے کس نے پٹڑی سے جیسے اُٹھا کر
ہوا میں اچھالا
نجانے وہ کب
دَن سے
میرے لبادے کو چھوتی ہوئی
برق کے ایک کوندے کی صُورت
گزرتی گئی
پھر افق کی سیاہی میں
دھبّہ سا بنتی گئی
آخرش
مٹ گئی!
مٹ گئی
نیلے آکاش کا
آخری ابر پارہ بنی
اپنے اندر اُتر کر
فضاؤں میں تحلیل ہوتی گئی
اور میں
اپنے بوجھل پپوٹوں کے محبس سے
آزاد ہو کر
ہزاروں برس کی گھنی نیند سے
جیسے بیدار ہو کر
تحیّر میں ڈوبا
انوکھی چکا چوند کے
رُو برو آ گیا
میں دیکھا کہ ہر چیز
خود اپنے ہونے کا اعلان تھی
اپنی خوشبو کے اندر بسی تھی
خود اپنی ہی لَو سے منّور تھی
چاروں طرف
قُرب کی موہنی دلکشی میں
حِنائی سا اِک دستِ نازک بنی
ہر کسی کو نظر آ رہی تھی
نظر آ رہی تھی
مگر ریت پر
’’ جانے والی‘‘ کے قدموں کے گہرے نشاں
اب بھی باقی تھے
بیمار کتّوں کی آواز میں
بین کرتے تھے
روتے تھے
دریا مگر مطمئن تھا
گھِسے تیز پہّیوں، پروں
سیٹیوں کے
لگاتار حملوں سے
محفوظ
پانی کے بے نام دھاروں میں
ڈھلتا
سمندر کی تہہ میں
اُترنے لگا ٹھا
کسی طفلکِ گمشدہ کی طرح
ہاتھ پھیلائے
روتی ہوئی مادرِ مہرباں کی طرف
جا رہا تھا
پہاڑوں کے دامن سے
اُدہڑے ہوئے ساحلوں تک
وہ ہر دم سفر میں تھا
ہر دم
رُکا بھی ہُوا تھا
سمندر کی جانب رواں تھا
مگر خود
سمندر کا پھیلا ہوا ایک بازو بھی تھا
سب نے دیکھا، پہاڑوں کے شانوں پہ
اِک ہاتھ رکھے
وہ اپنی ہی سوچوں میں
گُم
اِک فروزاں سے لمحے میں
ڈوبا ہُوا
کِس قدر شانت
کتنا بڑا ہو گیا تھا!!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سمندر
وہ چھِن بھر میں
کتنا بڑا ہو گیا تھا!
اُچھلتے ہوئے شوخ جھرنے
جواں ندّیاں
سُست دریا
سبھی دست و بازو تھے اُس کے
مہک اُس کی
کھیتوں ، گھنے جنگلوں
سبز چوغوں میں ملبوس ٹیلوں
دھڑکتے مکانوں
چمکتے ہوئے تازہ جسموں میں
پھیلی ہوئی تھی
وہ تارے کی لَو میں لرزتا تھا
آنسو کی بھیگی ڈلک میں نہاں تھا
فلک
اُس کے شفاف سے آئینے میں عیاں تھا
جھمکتی، جھلکتی ہوئی مچھلیاں
اُس کی پایاب لہروں میں
ہر دم اُسے ڈھونڈتی تھیں
اُسے اپنے سینوں سے چمٹائے
پھرتی تھیں
اُس کے لیے
کیسی پاگل ہوئی تھیں!
وہاں۔۔۔ جس جگہ آج
ایک صحرا بچھا ہے
کبھی، صدیوں پہلے
وہاں بڑؔ کا اِک پیڑ رہتا ٹھا
ہر روز۔۔۔ مَیں
آگے بڑھ کر
چَرن اُس کے چھُوتا
وہ ہر روز مجھ کو اُٹھا کر
گلے سے لگاتا
یہ کہتا:
’’مجھے اپنے تَن سے جُدا مانتے ہو؟
سنو!
مَیں کوئی خشک بے برگ پنجر نہیں ہوں
جسے تم اُٹھا نے کو ہر روز آؤ
مَیں زندہ ہوں
ہر دم تمہیں
اپنی شاخوں، جڑوں
سبز پتّوں میں
نیلے سمندر کی صورت!
رواں دیکھتا ہوں
مگر تُم تو کچھ جانتے ہی نہیں ہو۔۔۔۔۔۔۔‘‘
وہ ہر روز مجھ سے یہ کہتا
مگر میں تلاطم تھا
اپنی ہی آواز میں گُم
مجھے بڑ کی باتیں
فقط ایک مجذوب کی بَڑ لگی تھیں
وہ بڑ
کب کا صحرا کے سینے میں گُم ہو چکا ہے
مگر آج میں جانتا ہوں
وہ میری ہی تصویر تھا
میرا اوتار تھا
میرا چہرہ تھا وہ
میں نے خود اُس کو بھیجا تھا
اپنی طرف
اُسے خود بُلایا تھا اپنی طرف!
اور پھر۔۔۔ یوں ہُوا
مَیں نے اِک بار پھر
بَڑ کا بہروپ بدلا
خود اپنے ہی اندر سے باہر نکل کر
وہاں، جس جگہ اب سے پہلے
خُنک ریت کا ایک صحرا بچھا تھا
مَیں پتوں کا اِک تاج
سر پر سجائے
کھڑا ہو گیا
پھر مَیں
اپنے ہی چھتنار کی ٹھنڈی چھاؤں میں
اپنی ہی ریشِ مبارک کے سائے میں
دھرتی کی مسند پہ
تشریف فرما ہُوا
آلتی پالتی مار کر
ایسے بیٹھا کہ جیسے ازل سے
یہی میرا مسکن تھا
آنکھوں کو میچے
مَیں اپنے ہی محور پہ
گردش سی کرنے لگا
اپنے ’’ ہونے ‘‘ کے ٹوٹے ہوئے آئینے میں
خُود اپنے ہی منظر کو
تکنے لگا!
مَیں نے دیکھا
ہَوا ہر جگہ تھی
مگر جب ہلاؤ
تو بیدار ہوتی
ہر اِک شے کو بیدار کرتی
سجل اوس کی کرچیوں کو
زمیں پر گراتی
پرندوں کو
اُوپر کی جانب اُڑاتی
’’ یہاں ‘‘ کو ’’ وہاں‘‘ سے جُدا کر کے
لمبی مسافت کا منظر دکھاتی
حسیں بادباں اپنے سینے پھُلائے
کنارے اُسے اپنی جانب بُلاتے
وہ چلتی تو لگتا، کڑے کوس
جھانجھن سی بن کر چہکنے لگے ہیں
ہر اِک شے ، خود اپنی جدائی کا نوحہ بنی ہے
لرزتی ہوئی گھنٹیوں کی صدا
مُشکی گھوڑے کے ٹاپوں کی آواز
کالے بادل کی بوجھل خوشی
رعد کی چیخ
بھاری لبادوں کے نیچے
گھُٹے تنگ سینوں کے ساگرمیں
بپھری ہوئی شارکیں، خواہشیں
سارا منظر، ہَوا کے سفر کا کرشمہ تھا
ہر فاصلہ اُس کی کروٹ سے
پھوٹا تھا
وہ
ہر جگہ تھی
مگر اُس کے ہونے نہ ہونے میں
اِک سرسراہٹ کا پردہ سا
حائل تھا
سب فاصلے
نرم ریشے تھے
اُس کے بدن سے نکل کر
سمندر کی چھاتی
بیاباں کی ریگِ رواں پر بچھے تھے
لرزتے ہوئے
لاکھوں مکڑی کے باریک دھاگے بنے تھے !
کبھی دن ڈھلے جب
ہَوا
تازیانے کی صُورت
سمندر پہ گرتی
تو سینے کے زنداں میں
دبکی ہوئی موج
باہر کی جانب اچھلتی
پہاڑوں سے ٹکرا کے
بپھرے ہوئے تُند دھاروں کی صُورت
زمیں کی ہتھیلی پہ آوارہ پھرتی
ہتھیلی پہ ریکھائیں بن کر چمکتی
پلٹ کر
زمیں کی لرزتی ہوئی اوک سے
قطرہ قطرہ
سمندر کے مُنہ میں اُترتی
سدا دائروں میں
سفر کے مراحل کا منظر دکھاتی
دلوں کو لُبھاتی!
معاً
مَیں نے دیکھا
زمیں پر ہَوا تھی
ہَوا کے تڑختے ہوئے فاصلے تھے
مگر سبز دھرتی کی
ٹھنڈی تہوں میں
جڑوں کی پُر اسرار وحدت تھی
سب فاصلے
ایک نقطے میں سمٹے ہوئے تھے
ہزاروں جڑیں
ایک ہی جڑ سے پھُوٹی تھیں
آگے بڑھی تھیں
مگر جڑ سے ایسی جُڑی تھیں
کہ چلنے کے عالم میں
ٹھہری ہوئی تھیں
یہ ساری جڑیں
سب دھرتی کی اپنی جڑیں تھیں
جو خود اُس کے گیلے بدن میں
اُترتی گئی تھیں
کہو کون تھا وُہ؟
کہ جس نے کہا تھا:
ستارے فقط پات ہیں
کہکشائیں
گندھی نرم شاخیں ہیں
آکاش
اِک سبز چھتنار
ہر شے پہ سایہ کُناں ہے
مگر اس کی جڑ
اس کے اپنے بدن میں
نہیں ہے !
کہو کون تھا وہ
کہ جس نے ہَوا کی حسیں سرسراہٹ
لرزتی ہوئی گھنٹیوں کی سہانی صدا
مشکی گھوڑے کے ٹاپوں کی آواز
اور خواہشوں کے تلاطم کو
دکھ کا سبب کہہ دیا تھا؟
وہ جس نے
خود اپنے ہی پانچوں حواسوں کو
اپنی جڑوں کو
فریبی ، سیہ کار، جھوٹا کہا تھا؟
مرا اُس سے
کوئی تعارف نہیں ہے
مجھے تو فقط
اپنے ’’ ہونے ‘‘ کا عرفان ہے
میں تو بس اس قدر جانتا ہوں
پَروں کو ہلاتی
حسیں قوس بن کر
مِری سمت آتی ہوئی
فاختہ
پھڑپھڑاتے ستارے
گھنی کھاس کی نوک پر آسماں
سے اُترتی نمی
اور پُورب کے ماتھے پہ
قشقے کا مدھم نشاں
تیرگی کی گُپھا سے نکلتا ہُوا
روشنی کا جہاں
دھرتیاں، کہکشائیں، جھروکے
جھروکوں میں اطلس سے کومل بدن
بھیگی پلکوں پہ دکھ کی تپکتی چُبھن
سبز شبدوں کی بہتی ہوئی آبجُو
اِ ک انوکھے پُر اسرار معنیٰ کے
گھاؤ سے رِستا لہو
مُسکراتے ہوئے لب
یہ سب
میرے اوتار ہیں
میری آنکھیں ہیں
مُجھ کو ہمیشہ سے تکتی رہی ہیں
سدا مجھ کو تکتی رہیں گی!

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post