نظم

اعداد کی چوری : سعیداشعر

سعید اشعر
سعیداشعر
"کھل جا سم سم” کہنے سے
اب کوئی دروازہ نہیں کھلتا
دروازرے
ہاتھ کا لمس اور آنکھ کی پتلی کو پہچانتے ہیں
نوٹوں کا تھیلا
ہاتھ میں لے کر چلنے والے
احمق کہلاتے ہیں
اعداد کی چوری کرنے والے
سات سمندر کی
دوری پر بیٹھے ہیں
مٹی کا سودا
اب بھی
قحبہ خانوں میں طے پاتا ہے
ہم اپنے گلے میں مقدس لوحیں ڈالے
کوئی کجھوروں کی بستی ڈھونڈ رہے ہیں
ہم سے پہلے
غار کے دہانے پر
دشمن آ بیٹھا ہے
پیڑ میں چھپنے والا
خاموشی سے
دو ٹکڑوں میں تقسیم ہوا تھا
ستو کا تھیلا
پانی کی چھاگل
اور ناقہ کے کوہان کی چربی
آدھے رستے کے ساتھی ہیں
ہماری ہجرت
آدھے سے زیادہ دنیا
اپنے اپنے ٹی وی پر
لائیو دیکھ رہی ہے

km

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

نظم

ایک نظم

  • جولائی 11, 2019
       از : یوسف خالد اک دائرہ ہے دائرے میں آگ ہے اور آگ کے روشن تپش آمیز
نظم

آبنائے

  • جولائی 13, 2019
         اقتدارجاوید آنکھ کے آبنائے میں ڈوبا مچھیرا نہ جانے فلک تاز دھارے میں گاتی ‘ نہاتی