آمادگی : یوسف خالد

 

ادھوری نظم کی شکوہ بھری آنکھیں
کئی روز سے
مجھ سے الجھ رہی ہیں

نظم سراپا استفسار ہے
میرا ادھورا پن کیوں ختم نہیں کرتے
میں اپنے اندر کی گھٹن سے بیزار ہو رہی ہوں
میری ذات ریزہ ریزہ ہو کر بکھر رہی ہے
میں مجتمع ہونا چاہتی ہوں
خود کو مکمل حالت میں دیکھنا چاہتی ہوں
تم میرے نیم وا ہونٹوں پر لفظ و معنی کا رس کیوں نہیں انڈیلتے
کیا تمہارے پاس لفظ ختم ہو گئے ہیں
کیا تمہارا فکری دھارا خشک ہو گیا ہے

یا احساس کے دھاگے الجھ گئے ہیں
میں اس کی بے قراری سے واقف ہوں

مجھے معلوم ہے نا مکمل رہنے کا احساس کتنا اذیت ناک ہوتا ہے
مگر میری اپنی مجبوریاں ہیں
میں نے کمرے کی تنہائی میں
لان میں کھلتے ہوئے پھولوں کے پاس ،
چہچہاتی چڑیوں کے شور میں
اوس قطروں کی نمی سے بھیگے ہوئے سبزے پر چلتے ہوئے
صبح کی تازہ ہوا کے سنگ گنگناتے ہوئے
خود کو تلاش کرتے وقت کئی بار
اپنے فکری وجود کے احساس سے اپنی لا تعلقی کو محسوس کیا ہے
میں کئی دن سے اپنی تلاش میں ہوں
میں جانتا ہوں کہ میرا میرے روبرو آنا کتنا ضروری ہے

میں زیادہ دیر تک خود کو خود سے منہا نہیں کر سکتا
میں ادھوری نظم کے تقاضے سمجھتا ہوں
ادھوری نظم کی سسکیاں سن رہا ہوں
مجھے معلوم ہے
بہت دور کہیں ایک بے چہرہ احساس
نظم کی پوروں میں اترنے کی خواہش لیے

اپنے خال و خد کی صباحت کو مس کر رہا ہے
کبھی کبھی اس کا مطالبہ خامشی کو توڑ کر

احتجاج کی صورت اختیار کر لیتا ہے
مجھے اب ہر حال میں خود کو تلاش کرنا ہے
گزشتہ شب سے میں نے ایک نئے عزم کے ساتھ اپنی تلاش شروع کر دی ہے
مجھے یقین ہے ادھوری نظم کی سسکیاں،احتجاج اور دعائیں رنگ لائیں گی
اور خلا کے بھرنے کی کوئی صورت نکل آئے گی
لفظ کب تک مجھ سے روٹھے رہیں گے
نظم کو تو مکمل ہونا ہے
ادھورا پن ہمیشہ کے لیے تو قائم نہیں رہ سکتا

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post