علّامہ سید جلال الدّین آشتیانی کی ایک تحریر ۔۔۔ ترجمہ : ڈاکٹر معین نظامی


ڈاکٹر معین نظامی
علّامہ سید جلال الدّین آشتیانی (1925-2005) کے موضوعات دقیق اور اسلوبِ تحریر قدرے مشکل ہے۔ ان کی تصانیف پڑھتے پڑھتے کہیں کوئی تاثراتی عبارت، کوئی آسان ٹکڑا سامنے آ جاتا ہے تو مجھ جیسے کم کوش قاری کو ذرا سستانے کا موقع مل جاتا ہے۔
ان کی ایسی ہی ایک دردمندانہ تحریر کا ترجمہ ہدیہء احباب کیا جا رہا ہے۔ یہ عبارت مشارق الدُّراری، شرحِ تائیہء ابن الفارض، تالیفِ سعید الدّین سعید فرغانی، با مقدّمہ و تعلیقاتِ سید جلال الدّین آشتیانی، انجمن فلسفہ و عرفانِ اسلامی، مشہد، 1398ھجری قمری کے پیش گفتار کے صفحہ سات اور آٹھ سے منتخب کی گئی ہے۔ ایک دو مقامات پر اکا دکا جملے حواشی میں درج تھے جنھیں ترجمے میں متن کے ساتھ ہی ملا دیا گیا ہے۔ تقریباً پچاس برس پہلے لکھا گیا یہ تاثر بالکل آج کی تحریر معلوم ہوتا ہے۔
” مَیں نے 1966ء میں مشہد یونیورسٹی میں تدریس شروع کی تو یہ دیکھا کہ اگر ملک کے اعلیٰ تعلیمی اداروں کی صورتِ حال کے مطابق مَیں محض تدریس ہی کو کافی سمجھ کر بیٹھ رہا تو جو کچھ سمجھا سیکھا ہے، وہ سب بھول بھلا جائے گا۔ ماحول علمی مباحث سے متعلق تحقیق کا قطعاً کوئی مطالبہ نہیں کرتا تھا۔ اور اگر یہ محسوس ہو جاتا کہ کوئی شخص اپنی فطری صلاحیت اور مسلسل محنت کے نتیجے میں تحقیقی میدان میں نمایاں ہو رہا ہے تو اس کے خلاف باقاعدہ طور پر محاذ بنا لیا جاتا تھا۔
اعلیٰ تعلیمی اداروں کے آغازِ کار ہی میں علمی ترقّی کی استعداد رکھنے والے اساتذہ کے انتخاب میں سہل انگاری برتی گئی اور دانش گاہوں میں ایسے افراد گھس آئے جو صحیح علمی صلاحیتوں سے محروم تھے۔ تجربے سے ثابت ہو چکا ہے کہ جو شخص علمی صلاحیت سے محروم ہوتا ہے، وہ اپنی بقا کی خاطر اخلاقی معیارات کو بھی قربان کر دیا کرتا ہے۔۔۔ جن معدودے چند لوگوں نے زمانہء طالب علمی میں اچھے اداروں سے معیاری تعلیم و تربیت حاصل کی ہوتی ہے، وہ بھی دانش گاہوں کے عمومی ماحول کو علم دوست نہ پا کر کتابوں کو تدریجاً الوداع کہہ دیتے ہیں اور بہ مشکل چند ایک حقیقی علم دوست افراد ہی اپنے مطالعات جاری رکھ پاتے ہیں۔ انھی افراد کی بہ دولت علمی مراکز کی آبرو کا کچھ بھرم باقی رہتا ہے اور یہی لوگ اچھے طالب علموں کے ذوق و شوق اور حوصلہ افزائی کا سبب ہوتے ہیں۔
مَیں صراحت سے عرض کرتا ہوں کہ اگر کبھی یہ فیصلہ ہو جائے کہ ہمیں درست علمی و دانش گاہی ماحول درکار ہے تو ہمیں پہلے مرحلے میں ماحول کو اعلیٰ تعلیم یافتہ جاہلوں کے چنگل سے آزاد کروانا ہو گا اور دوسرے مرحلے میں غیر معیاری اخلاق و کردار کے حامل افراد سے جان چھڑانا ہو گی۔ اخلاق و کردار کی اصطلاح تو کافی حد تک ہو سکتی ہے لیکن جہالت، بے صلاحیتی، کاہلی اور بے کاری کی عادت وہ لا علاج بیماریاں ہیں جن کی وجہ سے علمی ماحول پر طرح طرح کی مصیبتیں ٹوٹتی ہیں۔ اس قبیل کے کئی لوگ ذمّہ دار قوّتوں کی مدد سے یونیورسٹیوں میں داخل ہو گئے ہیں۔ اس سانحے کی تفصیل بہت طویل ہے اور یہ ایک ایسا شرم ناک داغ ہے جس کا ایران کی تاریخ میں ثبت ہونا بہت ضروری ہے۔
قدیم دینی مدارس میں طالب علم محض حصولِ رزق اور مختلف اداروں میں نوکریاں حاصل کرنے کے لیے ڈگریوں کے طالب نہیں ہوتے، وہاں عقلی و نقلی علوم میں مہارت نہ رکھنے والے اساتذہ کا کوئی تصور نہیں ہے۔ جب ہم دینی مدارس میں پڑھتے تھے تو کبھی اتفاق سے اگر کوئی محقّق استاد کم مطالعہ کر کے آتا تو اسے خاصی مشکل کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ ان تعلیمی اداروں میں نوٹس پڑھ پڑھا کر کام چلا لینے والے اساتذہ نہیں ہؤا کرتے تھے کہ اگر کبھی ان کے نوٹس ان سے لے لیے جائیں تو بے چارے مصیبت ہی میں پڑ جائیں۔”

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post