رودادِ سفر حج : یونس مجاز ۔۔۔ (2)

یونس مجاز
یونس مجاز
رحمان کے مہمان
صاحبو ! گزشتہ کالم میں مناسک حچ کے پانچ دنوں پر بات کی تھی آچ اس پر تفصیلی تجربات و مشائدات پر بات ہو گی ۔7 ذوالحج کی شام آچانک کہا گیا کہ کھانے کے بعد احرام باندھ کر منی’ کے لئے تیار ہو جائیں۔تین گاڑیاں آ چکی ہیں یہ جائیں گی تو تین اور آجائیں گی میں نے ایک معاون سے کہا بھی کہ سب کو احرام نہ پہناو پہلے گراونڈ فلور سے شروع کرو باقی لوگ آرام کریں لیکن اس کا اسرار تھا سب لوگ تیار ہو جائیں افراتفری کے عالم میں سب حاجی احرام باندھ کر ہوٹل کے سامنے فٹ پاتھ پر کھڑے ہو گئے تین گاڑیاں بھر کر چلی گئیں باقی تین نہ آئیں لوگوں نے شور ڈالنا شروع کر دیا تو ہوٹل عملہ نے فٹ پاتھ اور ریسیپشن میں فالتو کرسیاں لگا کر دے دیں لیکن وہ بھی کم پڑھ گئی گاڑیوں کا معلوم کیا گیا تو پتہ چلا صرف یہی تین گاڑیاں ہیں جو حاجیوں کو لے کر گئی ہیں اور رش میں پھنس گئی ہیں۔کب نکلیں گی۔ کب واپس آئیں گی نامعلوم مکتب 91 کے معلم اور اس کے عملہ کی بے حسی اور غیر ذمہ دارانہ رویہ جو شروع دن سے اس نے پاکستانی حاجیوں سے اپنایا ہواتھا قائم دائم ہے اس کا پاکستانی نمائندہ پاس ہی ایک گاڈی میں موجود حاجیوں کی بے بسی کا تماشا دیکھ رہا تھا۔پاکستانی معاون بھی بے بسی کا مظہر تھے مجبورا” کمروں میں لوٹ جانا پڑا ڈیڈھ گھنٹے بعد فٹ پاتھ پر موجود انتظار میں کھڑے ایک حاجی نے ہمیں فون پر بتایا کہ جلدی آجائو ایک گاڑی آگئی ہے ۔بھاگم بھاگ نیچے آئے تو دو گاڑیاں آچکی تھیں جتنے ان میں سما سکتے تھے سوار ہو گئے لیکن ایک گاڑی کی سواریاں ابھی بھی باقی موجود تھیں۔ہم تو منی’ کی طرف چل دئیے لیکن بلڈنگ نمبر 907 بطحہ قریش کی آخری گاڑی میں آنے والوں میں سے عابد شاہ صاحب جو ہری پور میں سکول پرنسپل ہیں اور ہمارے حج کے ساتھی ہیں نے بتایا کہ ہماری گاڑی راستے میں خراب ہو گئی ہمیں پانچ گھنٹے انتظار کرنا پڑا مکتب کی طرف سے دوسری گاڑی فراہم نہ کی گئی۔مکتب کی بے حسی کا ماتم یہاں پر بس نہیں۔ دوبجے کے قریب منی’ میں پہنچے تودومنزلہ بیڈز پر مشتمل خیموں میں اپنے اپنے بیڈ پر سامان رکھنے کے بعد جو مسئلہ حاجیوں کو درپیش تھا وہ وضو خانوں کا تھا جو سینکڑوں خواتین و حضرات کے لئے محض 20 وضو خانے تھے وہاں پہنچے تو مردو خواتین کی لمبی قطاریں اپنی اپنی باری کا انتظارکئے ہوئے تھیں مجبورا” ہمیں بھی لائن میں لگنا پڑا مشکل سے فجر کی نماز کے وقت وضو کرنے کا نمبر آیا چار دام کے لئے چند ٹوٹیاں تھی لوگ وضو صحت سے کر سکے یا محض خانہ پری کی اس کا گناہ ثواب مکتب والوں کے سر ۔لیکن ان کے لئے تو یہ روٹین ورک تھا بعینہ دیگر کاروباری حضرات کی طرح ۔بہت سے لوگ نماز فجر وقت پر ادا نہ کر سکے۔ناشتہ میں وہی چنے کی دال ۔دوپہر کا کھانا بھی کوئی مناسب نہ تھا ۔خیر یہ عنایت مشفقانہ اگلے پانچ چھ روز بھی ایسی ہی رہی باسی کھانے حاجیوں کو وضو خانوں کی قدر اور یاد دلاتے رہے دن افراتفری میں گزرا خیال تھا عشاء کی نماز کے بعد آج رات کچھ دیر آرام کر لیا جائے گا کہ گزشتہ رات بھی نہ سو سکے تھے حالانکہ صبح بھی منی’ میں لایا جاسکتا تھا لیکن بادشاہوں کی اپنی لاجک ہوتی ہے ۔نماز مغرب کے بعد حکم صادر ہوا کہ تیار ہو جائو عشاء کی نماز اور کھانے کے ساتھ ہی حاجیوں کو میدان عرفات میں بذریعہ الیکٹرک ٹرین پہنچایا جائے گا۔ لوگوں کی اکثریت مجبورا” تیار ہوکر ریلوے اسٹیشن کی طرف چل پڑی لیکن ہم نے احتجاج کیا کہ سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق نماز فجراور سورج طلوع ہونے کے بعد منی’ سے عرفات روانہ ہوں گے اور لمبی تان کر سو گئے لیکن بے سود ہر کارے دھمکی دے کر چل دئیے کہ رات 12 بجے کے بعد ہم عرفات میں پہنچانے کے ذمہ دار نہیں ہوں گے ۔کیونکہ سعودی علماء نے اجتحاد کر کے مدذلفہ کے ایریا میں نیو منی’ سجا لیا تھا اسی طرح ان کے نزدیک 9 ذوالحچ کی صبح طلوع سورج کے بعد کے بجائے 8 ذوالحچ کی رات کو ہی حاچیوں کو عرفات میں پہنچا دینا جائز ہے ۔اس فتوی ‘ کے آگے سر تسلیم خم کرتے ہوئے رات 12 بجے ہم بھی عرفہ کی طرف بذریعہ ٹرین کوچ کر گئے اس طرح دوسری رات کی نیند بھی ۔۔۔؟رات 1 بجے کے قریب میدان عرفات کے خمیوں میں جا پہنچے سوچا دو تین گھنٹے صبح کی نماز تک آرام کر لیں گے لیکن خیموں میں بجلی غائب تھی گرمی کی وجہ سے یہ خواہش بھی ادھوری رہی ۔صبح جا کر میکینک صاحب سو کر اٹھے تو خیموں میں بجلی آئی واضح رہے یہاں منی’ کی طرح خیمے نہیں تھے بلکہ عام بڑے بڑےٹینٹ لگائے گئے تھے ناشتے سے کھانے تک کا معاملہ حسب_ روایت پیسے دے کر بھی ہماری غلامی کی داستاں لئے ہوئے تھا دن کو میدان عرفات پر سورج آج کچھ زیادہ ہی مہربان تھا کالینوں پر چلنے سے بھی پائوں جلتے تھے خیموں میں لگے کولروں سے بھی ٹھنڈک ناپید تھی۔وقوف_عرفات، احرام وتلمیہ کے بعد حج کا دوسرا بڑا رکن (فرض) ہے جس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وقوف عرفہ کو بخشش اور دعائوں کی قبولیت کا وقت قرار دیا گیا ہے اس دن اللہ سے جومانگو گےملےگا سو مانگنے والے جھولیاں پھیلا پھیلا کر رو کر گڑ گڑا کر دعائیں مانگتے ہیں۔کہ یہی قبولیت کی گھڑی ہوتی ہے۔اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے غروب آفتاب تک رکنے کا حکم دیا ہے۔ گرمی کی شدت یا روائتی بے حسی تھی کہ قیمتی لمحات سے ناواقفیت مجھے لوگ تلمیہ و اذکارکم اور آپس میں گپ شپ میں زیادہ مصروف نظر آئے ۔میرا یہ ِخیال تھا کہ مسچد نمرا سے تمام خیموں کو مربوط کیا جائے گا اور وقت_خطبہ امام کعبہ کو برائے راست خطبہ دیتے دیکھا نہ سہی سنا جا سکے گا لیکن اس وقت مایوسی ہوئی جب معلوم ہوا کہ ایسا کوئی سسٹم موجود نہیں حالانکہ اس جدید دور میں یہ مشکل نہ تھا اس
طرح اجتماعیت کا تصور غالب رہتا اور حاجی ہمہ تن گوش ہو کر خطبہ سنتے، ایک ساتھ نماز ظہرین ادا کرتے۔مجبورا” اپنے اپنے ِخیموں میں اپنے اپنے اماموں کے پیچھے ظہر اور عصر کی نمازقصر ادا کیں مگر یکسوئی اور خضوع مفقود تھا دعائوں میں گریا و زاری خال خال نظر آ رہی تھی۔لیکن رحمان اپنے دربار میں آئے ہوئےمہمان کو اپنی طرف متوجہ کرنا جانتا ہے۔ اچانک بادلوں نے میدان عرفات کو گھیرے میں لے لیا خوف ناک گرچ چمک اور طوفانی بارش نے میدان_ عرفات کو جل تھل کر دیا خیمے اکھڑ گئے طنابیں ٹوٹ گئیں طوفان_ بادوباراں میں حاجی کھلے آسمان تلے آگئے۔ہر طرف چیخ و پکار گریا وزاری استغفار وتلمیہ کی گونج بلند ہونے لگی رحمت جوش میں آئی خوب منیہ برسایا حاجیوں کوبھی خوب رونا آیا گناہوں کو بخشوایا، اپنی دعائوں کو اپنے رب سے تر آنسوئوں سے منوایا۔وقوف_ عرفہ کا لطف آٹھایا۔
صاحبو ! وقوف عرفات کے بعد حاجیوں نےمغرب کی آذان کے ساتھ ہی عرفات کو چھوڑنا شروع کر دیا.کیونکہ مغرب کی نماز یہاں ادا نہیں کی جاتی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب اور عشاء کو ملا کر مزدلفہ میں ادا کیا تھا اس لئے حاجی صاحبان حصور صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں مذکورہ دونوں نمازین مزدلفہ میں پہلے مغر ب کے تین فرض پھر عشاء کے دوفرض یعنی قصر اور پھر مغرب کی سنتیں ۔عشاء کی سنت اور وتر ادا کئے جاتے ہیں۔ بعض لا علم یا بد قسمت پانچ بجے سے ہی عرفات کو چھوڑ کر مزدلفہ کی طرف چل دئیے۔مزدلفہ کے لئے تین راستے اپنائے گئے تھے۔پیدل جانےوالے وہ لوگ جو غالبا” پرائیویٹ یعنی اپنے طور پر حج کے لئے آئے ۔دوسرے بسوں گاڑیوں کے ذریعے ان میں سرکاری اور پرائیویٹ(گورنمنٹ اسیکم مگر پرائیویٹ کوٹہ میں آنے والے) شامل ہیں ان کے عرفات چھوڑتے چھوڑتے مغرب کا وقت ہو ہی جاتا ہے۔مسئلہ ان کے لئےہے جو ٹرین کے ذریعے جا رہے تھے اور بہت سوئوں نے 5 بجے سے ہی عرفات چھوڑ دیا تھا کیونکہ جوں ہی ٹرین پر پہنچتے گئے ٹرین ان کو چند منٹ میں مزدلفہ شفٹ کر دیتی تھی۔واضح رہے وقوف عرفہ فرض رکن ہے مغرب سے پہلے عرفات کو چھوڑنا فرض رکن چھوڑنا ہےجس کے بغیر حج ہو ہی نہیں سکتا تاہم واجب چھوٹ جائے تو دم لاذم ہو جاتا ہے لیکن حج ہو جاتا ہے۔جبکہ سنت چھوٹنے پر دم نہیں آتا لیکن گناہ ضرور ہوتا ہے جس کے توبہ کر لی جائے اور صدقہ یعنی حرم میں غریب مساکین کو کچھ رقم صدقہ کر دی جائے۔تو اللہ معاف کر نےوالا ہے۔بات ہو رہی تھی ٹرین کے ذریعے شفٹنگ کی تو سعودی گورنمنٹ کا یہ ایک زبردست منصوبہ اور سہولت ہے جس سے اکثریت حاجیوں کی عرفات۔ مزدلفہ۔منی’ یا جمرات شفٹ کر نے میں آسانی ہو تی ہے ۔ ہمارے سمیت اکثریت حاجی آذان مغرب کے بعد ہی مدذلفہ کے لئے ٹرین کے آسٹیشن کی طرف چل دئیے کیونکہ یہ بہت بڑی تعداد ایک ساتھ متحرک ہوئی اس سےمسائل کا پیدا ہونا لازمی امر تھا پھر بھی حکومت نے سخت حفاظتی اقدامات اٹھائے ہوئے تھے۔مثلا” مختلف جگہ رکاوٹیں قائم کر کے پیدل۔گاڑیوں اور ٹرین کے ذریعے سفر کرنے والوں کو ایک دوسرے کی حدود میں مداخلت ناممکن بنائے رکھی ۔کیونکہ ہم لوگ ایک دفعہ پیدل جانے کی سعی ناکام کر چکے تھے سولائن میں لگ کر ریلوے اسٹیشن کی طرف ہی جانا پڑا جہاں مختلف صبر آزما مرحلوں سے گزر کر ساڑھے تین گھنٹے میں ٹرین تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے یہی وہ مرحلہ تھا جب بہت سے بوڑھوں اور عورتوں کو خوار ہوتے ۔بے ہوش ہوتے دیکھا ۔تین چار گھنٹے یوں کھڑا رہنے سے ہماری ٹانگے جواب دے گئی تھیں۔پائوں سوج گئے تھے لیکن کیا ۔کیا جائے۔حکومت کی اپنی مجبوبوریاں تھیں۔جو پوری کوشش کے ساتھ عورتوں اور بوڑھوں ۔خاص کر ویل چہر والوں کےلئے لفٹ کا استعمال مسلسل کر رہی تھی۔مگر اتنی بڑی تعداد کو مینج کرنا آسان نہیں تھا ۔سعودی حکومت کے لئے ایک تجویز ہے کہ اگر سٹپ بائی سٹیپ ۔رکاوٹوں کو عبور کرنے کے بعد آخری سٹیپ پر کالین بچھا کر حاجیوں کو بیٹھنے کی سہولت فراہم کر دی جائے اور وہاں سے ٹرین تک جانے کے لئے سیڑھیوں پرحاجیوں کو ضرورت کے مطابق چھوڑا جائے تو کسی حد تک حاجیوں خصوصا” بوڑھوں اور عورتوں کی تکلیف کا ازالہ کیا جاسکتا ہے۔بہرحال کسی انفرادی کوتائی سے ہٹ کر سعودی حکومت کے انتظامات پر کوئی شک نہیں۔عملہ بھی اپنی بساط کے مطابق حاجیوں کے ساتھ اِخلاق کے ساتھ ساتھ ہر ممکن مدد پر آمادہ رہا۔بلکہ میں نے ایک سعودی اہلکار کو پاکستانی حاجی کا مدد کے طور پرسامان اٹھا کر لے جاتے دیکھا ہے جس کے ساتھ تین بچے بھی تھے۔صبر آزما مرحلے کے بعد مزدلفہ پہنچے تو وہاں ہر مکتب کا اپنا اپنا حلقہ تھا ان کینمپوں تک پہچنے کے لئے سعودی اہلکار راہنمائی بھی کر رہے تھے۔ہمارا کینمپ ریلوے اسٹیشن کے ساتھ ہی تھا ۔یہاں حاجیوں نے کھلے آسمان تلے رات گزارنی تھی یہ ایک واجب رکن ہے۔
اور مغر ب اور عشاء کی نمازیں ایک ساتھ پڑھنی تھیں سو ہم نے بھی یہ فریضہ ادا کی۔ صبح نماز فجر اور وقوف_ مدذلفہ کے بعد جمرات کے لئے روانہ ہونا ہوتا ہے۔ہم نے بھی نماز فجر کے بعد وقوف کیا دعائیں مانگیں ۔اور پھر ایک بار چور راستوں کی تلاش شروع کر دی ۔ منی’ پہنچ کر سامان خیموں میں رکھنے کے بعد جمرات پر رمی کے لئے جانے کا پروگرام تھا لیکن بے سود ۔حسب_ پروگرام تمام راستے مسدود تھے ۔پھر وہی ٹرین کے ذریعے صبر آزما مرحلے سے گزر کر برائے راست جمرات پر جانا پڑھا۔دس ذوالج کو زوال سے پہلے بڑے شیطان کو کنکریاں مارنی تھیں جوحج کا واجب رکن ہے ہم تو کنکریاں مار کر بزریعہ ٹرین ہی واپس منی’ آگئے۔لیکن کچھ حاجیوں کو وہاں سے ہی طواف زیارت کے لئے لے جایا گیا جو فرض رکن_ حج ہے۔عام طور پر قربانی کے بعد۔ حاجی حلق/قصر کے ساتھ ہی احرام اتارنے کے بعد طواف زیارت کو جاتے ہیں۔لیکن سعودی علماء رش کی وجہ سے بہت سے معاملوں میں ترتیب و تاخیر کو جائز قرار دیتے ہیں۔اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔بہر کیف ہم نے قربانی کا انتظار کیا ۔پاکستانی سرکاری اسکیم کے تحت آنے والے حاجیوں کو نماز مغرب کے بعد کا وقت دیا گیا تھا۔نماز مغرب کے بعد حلق/قصر کا مرحلہ شروع ہوا تو بہت سے حاجیوں نے اپنی مدد آپ کے اصول پر ایک دوسرے کے سر گنجے کرنے شروع کر دیئے سر کیا مونڈنے تھے بس آدھا تیتر آدھا بٹیر سے کام چلایا گیا۔۔۔۔ملا نصرالدین کسی اناڑی حجام سے سر منڈوانے بیٹھ گئے جب آدھے سر پر حجام صاحب ہر زخم پر روئی لگاتے گئے تو ملا نصرالدین نے حجام کو سر مونڈنے سے روکتے ہوئے کہا ۔رہنے دو میاں باقی سرپر گندم کا بیج بونا ہے۔۔۔۔بہر کیف یہاں کچھ ایسا معاملہ نہیں۔میرا سر مونڈنے میں ہمسائےوالے بیڈ پر مقیم شعیب صاحب کام آئے جو چنگی بانڈی ہری پور کے رہائشی اور خوش مزاج آدمی ہیں۔ سڑک کے کنارے بیٹھ کر ہم نے یہ واجب ادا کیا ۔گیارہ کی صبح ناشتے کے بعد ہم لوگ طواف زیارت کے لئے روانہ ہوگئے۔منی’ ون اسٹیشن سے ٹرین پر سوار ہوئے منی’ تھری پر اتر گئے جہاں جمرات قریب ہیں لیکن گیارہ کو تینوں شیطانوں کو کنکریاں مارنے کا وقت زوال کے بعد کا تھا۔سو پہلے ہم طواف زیارت کا فرض ادا کرنےحرم پاک پیدل چل دئیے کہ گاڑیاں بند تھیں ۔پرائیویٹ سروس میسر تھی مگر بہت مہنگی۔ٹیکسی والے چند کلومیٹر فاصلے کے فی نفر 50 ریال طلب کر رہے تھے۔جب کے بڑی گاڑیاں 10 ریال۔لیکن خا ل خال دستیاب تھیں۔مجبورا” یہ شرف پیدل حاصل کرنا پڑا۔یہاں ساتھیوں سے بچھڑ جانا معمول کی بات ہے۔مجھ سے بھی ساتھی جاتے ہوئے راستےہی میں بچھڑ گیے۔ویسے اکیلے عبادات کا اپنا ہی مزا ہوتا ہے۔حرم پاک پہنچ کر طواف اور سعی کر کے سوا نو بجے تک فارغ ہو گیا۔کیونکہ یہاں حلق /قصر نہیں تھا جو رات کو قربانی کے بعد ہو چکا تھا۔سو دیگر تقاضے پورے کرنے کے لئے حرم سے باہر آگیا۔۔۔i: صاحبو!گیارہ بجےتک کاوقت مکہ ٹاور میں گزرا پھر وضو کیا اور واپس حرم پاک میں چلا آیا فسٹ فلور پر قالین بچھے ہو ئے ایک احاطے میں خانہ کعبہ کے سامنے تھوڑی دیر بیٹھ کر تلاوت کلام پاک کی اونگھ آگئی تو سستانے کے لئے لیٹ گیااور آنکھ لگ گئی سوا بارہ کے قریب پاس بییٹھے ایک ترکی حاجی نے نماز کے لئےجگایا فوری طور پر آب زم زم سے چار دام ( وضو )کیا۔امام کعبہ کے پیچھے جماعت کے ساتھ نماز ادا ئیگی کی سعادت حاصل کی۔ اب تھکاوٹ اس قدر زیادہ تھی کے واپسی پیدل جمرات تک جانا مشکل دکھائی دے رہا تھا جو ایک گھنٹے سے کم سفر نہ تھا ۔دل ہی دل میں اللہ سے دعا کی یا اللہ سواری کی کوئی سبیل پیدا کردے حرم سے نکل کر ابھی راستے کی طرف مڑا ہی تھا کہ ایک گاڑی کو سواریاں بیٹھاتے دیکھا بھاگ کر گاڑی میں جا گھسا کنڈیکڑ جو پاکستانی تھا سے پوجھا جمرات تک جاو گے اس کی ہاں سے کچھ تسلی ہوئی ۔تھوڑے فاصلے پر گاڑی والے نے اتار دیا کہ آگے سے راستہ بند ہے اتنا بھی غنیمت جانا کچھ دور پیدل جمرات پر پہنچا تو وہاں اتنا رش نہ تھا اور آسانی سے اس واجب رکن کا دوسرا مرحلہ بھی طے ہو گیا کیونکہ ذوالحج کی گیارہ کو تینوں شیطانوں کو مارنے کا آج پہلا دن تھا۔گزشتہ روزصرف بڑے شیطان کو کنکریا ماری تھیں۔ کچھ لوگ ہم سے پہلے کنکریاں مار کر چلےگئے تھے جو رات کو طواف زیارت کر چکے تھے اور کچھ ہم سے بعد طواف زیارت کے لئے گئے بعد میں آئے ۔ورنہ سنا تھا بہت رش ہو تا ہے۔زیادہ تر حادثات یہاں ہی رونما ہوتے ہیں یہاں بھی رمی کے لئے چار منزلیں بنی ہوئی ہیں۔اس سے بھی رش کا تقسیم ہو جانا فطری بات ہے لیکن 12 ذوالج کو بھی تینوں شیطانوں کو کنکریاں مارنی تھیں اورسب نے منی’ سے زوال کے بعد آنا تھا سو اس روز رش بڑھ گیا تھا لیکن اللہ نے کرم کیا دھکم پیل نہیں ہوئی تسلسل کے ساتھ لوگ کنکریاں مار کر آگے نکلتے گئے دوسرے جمرہ پر اور رش کم تھا کہ کچھ لوگ پہلے چھوٹے شیطان کو کنکریاں مار کر دعا مانگنے میں مصروف ہوگئے کہ یہاں پہلے دو شیطانوں کو کنکریاں مار کر دعا مانگنا حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے اور قبولیت کی گھڑی بھی۔ یوں تیسرے یعنی بڑے شیطان کو رمی کرنے والوں کا رش اور کم ہو گیا تھا کہ یہاں دعا نہیں مانگی جاتی۔اس واجب رکن سے فارغ ہو کر واپس منی’ خیموں پہنچے جہاں سنت کے مطابق غروب آفتاب سے قبل منی’ چھوڑنے کی تیاریاں کی جا رہی تھیں اور گاڑیوں کے انتظار میں حاجی صاحبان سامان لےکر سڑک کنارے آگئے لیکن مکتب 91 کی بے حسی یہاں بھی عروج پر تھی۔سب مکتب کی گاڑیاں تسلسل کے ساتھ آرہی تھیں لیکن مکتب 91 کہیں نظر نہیں آرہا تھا پہلے تو معلم بھی غائب تھا مغرب سے گھنٹہ قبل نمودار ہوا حاجیوں کے احتجاج پر یہ کہہ کر پھر غائب ہوگیا کہ حکومت س
ے پوچھیں۔ ادھر مکتب 91 کے حاجیوں نے متفقہ حکومت پاکستان سےمطالبہ کیا ہے کہ اس معلم کو بلیک لسٹ کیا جائے۔ تین گاڑیاں مغرب سے کچھ دیر پہلے اور ایک گاڑی عین مغرب کے وقت آئی جن میں عورتوں اور بوڑھوں کو سوار کر کے بھیجا کچھ جوان بھی بے صبری میں گھس گئے۔یہ بھی خیال نہ کیا کہ سنت کو توڑنے کے گناہ گار ٹھہریں گے کیونکہ مغرب کے بعد علماء کے مطابق منی’ کو نہیں چھوڑ سکتے بلکہ منی’ میں ہی رک کر 13 ذوالحج کو بھی کنکریاں تینوں شیطانوں کو مار کر آتے ہیں ورنہ دم لازم آجاتا ہے اگر کنکریاں نہ ماری جائیں تو۔ لیکن اگر مغرب کے بعد منی’ چھوڑا تو فجر کی نماز سے پہلے پہلے تک دم لازم تو نہیں ہوتا البتہ سنت چھوڑنے کے گناہ گار ہوئے۔لیکن نماز فجر کی منی’ میں ادائیگی پر رمی واجب ہو جاتی ہے ۔کچھ لوگ تو اختیاری طور پر رکے ہوئے تھے کہ 13 کو رمی کر کے جا نا ہے جس کی اجازت ہے ۔اور آدھے سے زیادہ لوگوں کو گاڑیاں بروقت نہ ملنے پر منی’ میں رکنا پڑا ۔سو اس کوتاہی پر میں اورطاہر ایڈوکیٹ جو حویلیاں کے رہنے والے ہیں نے معلم سے مسلسل احتجاج کر کے اسے اس بات پر مجبور کیا کہ وہ رہ جانے والے حاجیوں کو نہ صرف تین وقت کا کھانا بلکہ 13 کو واپس جانے کے لئے گاڑیاں بھی فراہم کرے گا جس پر اس نے اتفاق کیا ۔اس نے رات کو گاڑیاں منگوا کر کھڑی کر دیں۔ہمارا اصرار تھا کہ صبح گاڑیاں یہاں سے جمعرات تک اور وہاں سے ہو ٹل لیں جائیں جس پر وہ رضا مند تھا لیکن کیا کیا جائے اس بے اتفاقی قوم کا معلم کے پاکستانی ملازموں کے ورغلانے پر(ان میں سے رات کو میں ایک ملازم کو خفا بھی ہوا تھا کہ تم غلط گائیڈ کر کے حاجیوں کی مشکلات بڑھا رہے ہو) صبح سویرے ہی بڑی تعداد حاجیوں کی ٹرین کے ذریعے رمی کر کے واپس آکر منی’ سے ہی بیٹھ بیٹھ کر ہو ٹل پہنچنے لگی ۔صبح جب ہم معلم کے آفس پہنچے تو اس وقت تک تین گاڑیاں یہاں ہی سے حاجیوں کو واپس ہوٹل لے جا چکی تھیں اور چوتھی پر لوگ سوار ہو رہے تھے۔سو میں اور عابد شاہ صاحب نے اسی پر اتفاق کیا خاموشی ہی میں عزت ہے۔واپس آکر خیموں میں دوستوں کو بتایا کہ تم لوگ بھی ٹرین کے ذریعے رمی کر کے واپس آجائو گاڑیاں یہاں ہی سے ہوٹل لے کر جائیں گی ۔اس طرح سب لوگ بذریعہ ٹرین جمعرات پہنچ گئے سب لوگ چوتھی منزل پر رمی کے لئے جارہے تھے تو میں نے گرائونڈ پر رمی کرنے کا فیصلہ کیا کہ کیا خبر دوبارہ آنا نصیب ہو نہ ہو ۔سیڑھیوں کے ذریعے گرائونڈپر پہنچ گیا ابھی زوال ڈھلنے میں پانچ منٹ پاقی تھے ادھر نظر دوھڑائی تو ایک مسجد کے مینار قریب ہی نظر آئے پوچھنے پر معلوم ہوا مسجد خیف ہے جہاں حضورصلی اللہ علیہ والہ وسلم نےحج کے لئے سب سے پہلے منی’ میں پڑائو ڈالا تھا ۔اور کئی انبیا نے اس جگہ پر نماز ادا کی ۔اس سے بڑی میرے لئے سعادت کیا ہو سکتی تھی سو میں نے رمی کے بعد نماز ظہر اس مسجد میں ادا کرنے کا فیصلہ کیا اور پہنچ گیا ۔نماز اس چبوترے کے نیچے ادا کی جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہرے تھے واپسی پر ٹرین تک پہنچنے کا راستہ طویل اور معلوم نہ ہونے کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا گاڑی کے چھوٹ جانے کا ڈر بھی لاحق تھا جو ڈھائی بجے نکلنی تھی سو قاضی رشیدصاحب کو فون کر کے صورت حال سے آگاہ کیا اور میرا سامان بھی گاڑی میں ساتھ لے جانے کی درخواست کی ۔جو وہ لے گئے ۔پوچھ گچھ کر ٹرین تک پہنچا تو سانسیں پھولی ہوئی تھیں۔ٹرین میں سوار ہوئے تو ایک ترک نے چہرے کی گھبراہٹ اور تھکن محسوس کر لی پہلے ایک اور پھر دوسرا سیب کھانے کو دیئے جو بھوک کی وجہ سے کسی نعمت سے کم نہ تھے۔اترتے ہوئے لسی کی بوتل بھی دے دی۔خدا خدا کر کے ٹرین سے اتر کر لفٹ کا استعمال کیا کہ سیڑھیوں کا راستہ لمبا تھا ۔گاڑی بھی تیار کھڑی تھی پس رش کی وجہ سے رکی ہوئی تھی بھاگم بھاگ پہنچ کر سوار ہو گیا۔ہوٹل پہنچے کھانا کھایا نمازعصر ادا کی اور آرام کے لئے کمرے میں آگئے ۔اس طرح حج کے یہ مبارک مراحل بخیرو عافیت مکمل ہوئے۔
………..   باقی احوال انشاء اللہ اگلی نشست میں .

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post