ترقی یا پروموشن ۔۔۔۔ خوش قسمتی یا کچھ اور

ترجمہ : حمیداللہ خٹک

کون ہے جوزندگی میں ترقی نہ چاہتاہو؟ تقریباًہرفرد ترقی کی زینے پر چڑھنے کا خواب دیکھتا ہے.دراصل اس جذبے اور خواہش کے پیچھے تنخواہ میں وہ اضافہ ہےجوترقی کے ساتھ جُڑاہوا ہے لیکن پروموشن کےساتھ کام کی نوعیت یا رول کی تبدیلی پربہت کم لوگ غور کرتے ہیں.
لارنس پیٹر نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ کارکن اس وقت تک ترقی پاتا ہے جب تک اس کی صلاحیت اس کاساتھ دیتی ہے . یہ معقول بات ہے کہ آپ جب تک کام ٹھیک کر رہے ہیں ترقی ملتی ہے.
بعض اوقات آپ ایک ایسے مقام پر پہنچ جاتے ہیں جو آپ کی صحیح جگہ نہیں ہے یہ وہ جگہ ہے جہاں آپ کی صلاحیتیں ساتھ نہیں دیتیں.

Alan Benson, Danial LeاورKelly shue
نے 131فرموں کے 40 ہزار سیلز پرسن کی ریکارڈ کا مطالعہ کیا ہےجس کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کمپنیاں سیلز میں بہترین کارکردگی کےحامل لوگوں کو ترقی دیتی ہیں.بلاشبہ لوگوں کو روزمرہ استعمال کی مختلف چیزیں, خدمات اور مہارتوں کے خریدنے پر آمادہ کرنا ایک مشکل کام ہے جس کے لیے غیر معمولی ذہانت,جدوجہد اور استقامت کی ضرورت ہے
لیکن مصنف کے مطابق ایک سیل ٹیم(Sale team )کو لِیڈ(lead) کرنے کے لیے جس مہارت, سٹریٹیجک پلاننگ اور انتظامی صلاحیت درکار ہوتی ہےضروری نہیں کہ وہ مہارتیں ایک بہترین سیلز پرسن میں پائی جاتی ہوں.
ترقی کےملنے بعد ان بہترین سیلزپرسنز کے ساتھ کیا ہوا تحقیق میں اس پر نظر ڈالی گئی حقیقت یہ ہیں کہ ان سیلز پرسن کی کی گزشتہ بہترین کارکردگی دراصل ان کی انتظامی کامیابی کا منفی انڈی کیٹر تھا لہٰذامینیجر بننے کے بعد ان کی سیلز کی شرح پہلے والوں سے 7.5 فیصد کم رہی حالانکہ ان سے پہلے والے بہترین سیلز پرسن نہیں تھے.
کارٹونسٹ اسکارٹ آدم نے اپنی کتاب The Dibert Principle میں اس مسئلہ کو یوں بیان کیا ہے کم کردگی کے حامل یہ لوگ اس لیے ترقی کر گئے کیونکہ یہ وہ لوگ تھے جن سے آپ وہ کام نہیں لینا چاہتے تھےجووہ کرسکتے تھے.
بہترین سیلز پرسن یا کمپیوٹر پروگرامر کو انتظامی پوسٹ پر ترقی دینا احمقانہ پالیسی ہے اس طرح سے کمپنی ان کی انفرادی مہارتوں سے محروم ہو جاتی ہے بٹل بائی کاکہناہے کہ لوگ اس وقت تک ترقی کرتے ہیں جب تک وہ اپنے کام سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ جس کام سے لطف نہ ملےاُس سے نہ صرف صلاحیت متاثر ہوتی ہے بلکہ خوشی بھی متاثر ہوتی ہے۔ایساکام اورترقی خوش قسمتی نہیں بلکہ بدقسمتی ہے۔ اس بدقسمتی سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ اس کام میں لگے رہیں جس کو آپ پسند کرتے ہیں اگر آپ کو پڑھانا پسند ہے تو آپ کو ہیڈ ماسٹر بننے یا پرنسپل بننے کی کوئی ضرورت نہیں ہے. اگر آپ مضمون یا کالم لکھنا پسند کرتے ہیں تو دوسرے لوگوں کی تحریریں ایڈٹ کرنے میں آپ کو اطمینان نہیں ملے گا اس لیے آپ کو ایڈیٹر کی پوسٹ پر ترقی نہیں چاہیے۔
ترقی کے سراب کے پیچھے بھاگتے بھاگتے ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ مسلسل ترقی کی تلاش آپ کو دوسروں کا محتاج بنا دیتا ہے آپ ہمیشہ سینئر سے مثبت فیڈبیک کی توقع رکھتے ہیں اس طرح سے آپ زندگی میں توازن نہیں رکھ سکتے
Charles Handyمینیجمنٹ کے تجربہ کار ماہر
نےاپنی کتاب
21 Letters On Life and its Challanges
میں اپنی زندگی کانچوڑپیش کرتے ہوئے لکھا ہے کہ “روزگار کے بدلے میں, میں نے اجنبیوں کے ہاتھ اپنا وقت ان کے مقاصد کے لیے اپنی مرضی سے بیچ دیا تھا۔”
آپ ترقی کی زینے پر جتنا چڑھتے ہیں آپ سے وقت کا تقاضا بڑھتا جاتا ہے چیف ایگزیکٹو آپ سے توقع رکھتا ہے کہ آپ ویک اینڈ پر بھی کام کریں کیونکہ آپ بڑی تنخواہ لیتے ہیں ۔آپ کے ماتحت خودفیصلے سے کتراکرآپ سے طرح طرح کے مشکل سوالات پوچھیں گے ۔ اگر آپ کسی خطے کے انچارج ہیں تو آپ کا زیادہ وقت سفر میں گزرے گا جب آپ سفر نہیں کر رہے ہوں گے تو آپ دن بھر یکے بعددیگرےمیٹنگ میں مصروف ہوں گے۔اس کے باوجود دن کے اختتام پر آپ کے ہاتھ میں ٹھوس کوئی چیز نہیں ہوگی۔ ترقی کی چمک دمک ہر کسی کے لئے نہیں ہےاس لیے کام کی کثرت اور بے چینی اور اضطراب سے بچیں۔
بعض لوگ اپنی پوری زندگی جاب کے لیے وقف کرتے ہیں اور تمام سرگرمیوں کا محور بنتے ہیں ایسے لوگوں کو یہ کام کرنے دیں۔
معروف برطانوی جریدے دی اکانومسٹ کے مضمون The promotion curse
کاآزاد ترجمہ
ترجمہ :حمیداللہ خٹک

You might also like
  1. اسد says

    عمدہ

  2. kaiser mehdi says

    نوجوانوں کے مستقبل کی ضروریات کے حوالے سے ایک شاندارمضمون

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post