بخیہ اُدھیڑ ۔۔۔ کالم : سعید اشعر

سعید اشعر
 ’’ علامے ‘‘
میں اور قریشی صاحب بلاناغہ رات کے کھانے کے بعد چہل قدمی پر نکلتے ہیں۔ گزشتہ رات بھی حسبِ معمول ہم الخبر کارنیش پر ساتھ تھے۔ وہ کسی موضوع پر سیر حاصل تبصرہ فرما رہے تھے۔ میں ایک اچھے سامع کی طرح بیچ بیچ میں “ہوں” اور “جی جی” کر رہا تھا۔ جب وہ خاموش ہوئے تو میں نے بے خیالی میں کہا۔
“آج بحرین کی لائٹیں ۔۔۔۔۔”
اس سے آگے میں ایک لفظ نہ کہہ پایا۔
قریشی صاحب نے فرمایا۔
“بحرین میں آخر ہے ہی کیا۔ چھوٹا سا ایک جزیرہ ہے۔ پینے پلانے اور ناچ گانے کے شوقین لوگ وہاں پہنچ جاتے ہیں۔ نائٹ کلب ہیں۔ آزادی ہے”
اپنی بات تو میں بھول ہی گیا۔ عرض کی۔
“پھر تو وہاں بڑے بڑے جوا خانے بھی ہوں گے”
“نہیں ایسے کچھ خاص جوئے خانے نہیں۔ ہو سکتا ہے چھوٹے پیمانے پر کچھ جوا بھی ہوتا ہو۔ ان کی ساری رونق ان نائٹ کلبوں کے طفیل ہے۔ لوگ اپنا پیسہ برباد کرنے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی ہر طرح کی عیاشی کے اڈے ہیں۔ آپ جس ہوٹل میں قیام کریں۔ آپ کا مطلوبہ شخص آپ کے پاس پہنچ جائے گا ”
“قریشی صاحب، اس کا مطلب ہے آپ بہت دفعہ بحرین جا چکے ہیں۔ آپ تو اس کے چپے چپے کے واقف ہیں”
“نہیں ایسا بالکل بھی نہیں۔ میں کبھی بحرین نہیں گیا۔ صرف ایک بار تین چار گھنٹوں کے لیے قطر ایئرپورٹ پر رکا تھا۔ البتہ ایک بار کراچی سے بھی میری کنکٹنگ فلائٹ تھی۔ بڑا ہی زبردست ۔۔۔۔۔۔۔”
میں نے بڑی کوشش کی لیکن مجھے یاد نہ آیا کہ بحرین سے متعلق میں کیا بات کرنا چاہ رہا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دور کی کوڑی لانے کے بجائے ابھی تھوڑی دیر پہلے جو کچھ ہمارے آفس میں ہوا اس کا احوال پیش کرتا ہوں۔
سب نے اپنا سر سامنے رکھے ہوئے کمپیوٹر کی سکرین میں دیا ہوا تھا۔ خالد محمود اپنے ہاتھ میں چائے کی پیالی لیے ہمارے پاس آیا۔
“کل میں اپنی گاڑی کمپیٹرائز کروانے گیا تھا۔ کیا بتاؤں یار ۔۔۔۔۔۔”
وہاں سے آگے بڑھنا اس کے لیے ممکن نہ ہو سکا۔ منیب نے وہیں سے جملہ اچک لیا۔
“او ہو ہو ۔۔۔ آپ نے بڑی غلطی کی۔ بدھ والے دن جانا تھا۔ اتوار کے دن تو اتنی رش ہوتی ہے کہ چار پانچ گھنٹے لگ جاتے ہیں۔ لائن پٹرول پمپ سے بھی پیچھے تک آ جاتی ہے۔ گرمی میں برا حال ہو جاتا ہے۔ شکر ہے میں پچھلی بار ۔۔۔۔۔۔”
جواد نے بڑی مہارت سے اپنی باری لے لی۔
“اصل میں آپ لوگوں کو پتہ نہیں۔ آپ دوسری طرف سے جاتے تو بڑی سہولت ہو جاتی۔ اس طرف صرف ٹریلروں کی لائن ہوتی ہے۔ بہت کم لوگ اس گیٹ کے بارے میں جانتے ہیں۔ بڑی آسانی سے نمبر آ جاتا ہے۔ میں ہمیشہ ادھر سے ۔۔۔۔۔۔۔”
حمید نے گفتگو کی کمان اپنے ہاتھ لے لی۔ میں حیران تھا وہ کیسے اتنی دیر تک خاموش رہا۔
“ایسا کچھ بھی نہیں۔ فاس والوں نے کمائی کے لیے نیا طریقہ پکڑ لیا ہے۔ خوامخواہ گاڑیوں کو بار بار ریجیکٹ کرتے ہیں۔ تاکہ زیادہ سے زیادہ کمائی ہو۔ اس طرح اکثر گاڑیاں دو دو اور تین تین بار لائن میں لگتی ہیں۔ میں نے تو ایک اور بات بھی سنی ہے۔ اندر کے ملازمین کا باہر ورکشاپس کے ساتھ کچھ معاملہ ہے۔ صحیح کیا ہے اللہ ہی بہتر جانتا ہے”
جوں ہی حمید نے سانس لینے کی کوشش کی۔ خالد محمود کو موقع مل گیا۔
“میں یہ کہنا چاہ رہا تھا کہ اتفاق سے دس منٹ میں میرا نمبر آ گیا۔ اور پہلی کوشش میں ہی میری گاڑی پاس بھی ہو گئی۔ حالانکہ گاڑی کا ۔۔۔۔۔۔ ”
جواد نے دوبارہ مداخلت ضروری سمجھی۔
“وہاں جانے کے لیے سب سے بہتر راستہ ابوحیدریہ روڈ ہے۔ اگر جبیل روڈ سے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک پرانی بات یاد آ گئی ہے۔
میں دور دراز دیہات کے ایک ہائی سکول میں سائنس ٹیچر تھا۔ میری طرح ہیڈ ماسٹر صاحب بھی غیر مقامی تھے۔ میرا یہ معمول تھا کہ رات کا کھانا کھانے کے بعد ایک آدھ گھنٹہ ہیڈماسٹر صاحب کے پاس جا کے گپیں لگاتا۔ چونکہ انھیں چلم پینے کا شوق تھا اس لیے چلم تازہ کرنے کے لیے سکول کا چوکیدار بھی ان کے پاس موجود ہوتا۔ اکثر ایسا ہوتا ہیڈماسٹر صاحب کوئی انتہائی دلچسپ بات کر رہے ہوتے تو وہ بیچ میں بول پڑتا۔
“دیکھیں ہیڈماسٹر صاحب آپ ایک پڑھے لکھے انسان ہیں اور میں ایک ان پڑھ جاہل۔ پر میں آپ کو ایک بات بتاتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔ ”
پھر وہ ایک انتہائی پھیکی بات کر دیتا۔ بڑا عرصہ یوں ہی چلتا رہا۔ ایک دن میری برداشت جواب دے گئی اور میں پھٹ پڑا۔
“اوئے تو انسان کا بچہ ہے۔ جب بھی ہیڈ ماسٹر صاحب کوئی کام کی بات کر رہے ہوتے ہیں تو انھیں ٹوک کر ایک فضول بات شروع کر لیتا ہے۔ اوپر سے کہتا ہے کہ تو ان پڑھ جاہل ہو کر ہم پڑھے لکھوں کو بات بتائے گا۔ میں تمھیں بات کرنے سے منع نہیں کرتا۔ لیکن تھوڑا صبر کر لیا کرو۔ تاکہ دوسرا اپنی بات مکمل کر لے”
آخر میں فیض صاحب کا ایک شعر دیکھیں
ہم ایسے سادہ دلوں کی نیازمندی سے
بتوں نے کی ہیں جہاں میں خدائیاں کیا کیا

You might also like
  1. Azhar Ali says

    Very nice. Joyful

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post