بخیہ ادھیڑ : سعید اشعر

’’ بھوک ‘‘

گنگا چوٹی کیمپ پر ایک دستاویزی فلم دیکھ رہا تھا۔ یہ آزاد جموں کشمیر میں واقع ہے۔ بہت خوبصورت علاقہ ہے۔ چند مناظر ہی دیکھ پایا۔ باقی تمام وقت کیمرہ اس پروگرام کے گینڈا نما میزبان کی عکس بندی میں مصروف رہا۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ وہ مسلسل بے تکی، بے ہودہ اور لایعنی کمنٹری میں مصروف رہا۔ زبان کے ساتھ بدسلوکی تو شاید اس کی تربیت کا حصہ تھی۔ ترستا ہی رہ گیا کہ کوئی منظر آنکھ بھر کے دیکھ سکوں۔ اس منظر کے شراکت دار کسی درخت، پرندے، جھرنے، ندیا، بارش یا ٹھنڈی ہوا کے کسی جھونکے کی سرگوشی سن سکوں۔ میرے ساتھ یہ کوئی پہلی بار نہیں ہوا۔ لیکن کیا کروں۔ دل کے ہاتھوں مجبور ہو جاتا ہوں۔ تائب ہونے کے بجائے بار بار اس طرح کے پروگرام دیکھنے بیٹھ جاتا ہوں۔
اگرچہ میں کوئی مثالی دیش بھگت نہیں۔ لیکن پھر بھی اچھا لگتا ہے کہ ملک یا اپنے علاقے میں کہیں، کبھی کوئی ترقیاتی کام ہو رہا ہو تو اس کے بارے میں آگاہی حاصل کروں۔ کیوں کہ میں نے وہ وقت بھی دیکھا ہے جب ہری پور کے زیادہ تر مضافاتی، دیہی اور پہاڑی علاقوں میں روڈ کچے تھے۔ بجلی کا تصور تک نہیں تھا۔ لوگ دور دور سے قدرتی چشموں یا گاؤں سے باہر کھدے کسی کنویں سے پانی بھر کے لاتے تھے۔ اکثر برساتی نالوں پر پل موجود نہیں تھے۔ تیز بارش ہونے کی صورت میں گھنٹوں کے حساب سے دونوں اطراف کی گاڑیاں نالے کا پانی اترنے کا انتظار کرتی رہتیں۔ برسات کے موسم میں جب دریائے دوڑ میں طغیانی آتی تو کئی کئی دنوں تک کہکہ پھرہالہ اور اس سے پیچھے باغ درہ تک کے سارے گاؤں کا ہری پور سے رابطہ منقطع ہو جاتا۔
یہی وجہ ہے کہ یو ٹیوب پر ہزارہ موٹر وے یا سی پیک کے ماتحت دریائے سندہ پر بننے والے کسی پل کے حوالے سے جب کوئی وڈیو نظر آتی ہے تو میں اسے دیکھنے کے لیے بے صبر ہو جاتا ہوں۔ یہ بھول جاتا ہوں کہ پچھلی بار اس طرح کی وڈیوز نے کتنا مایوس کیا تھا۔ لیکن ہمارے پیش کاروں نے بھی قسم اٹھائی ہوئی ہے کہ کتے کی دم کو کبھی سیدھا نہیں ہونے دینا۔ پندرہ منٹ میں سے دس منٹ تک ایک لمحہ کے لیے بھی کیمرے کو اپنی بوتھی سے نہیں ہٹانا۔ باقی بچے پانچ منٹ وہ اس نے گاڑی کی فرنٹ سکرین کے سامنے کا روڈ دکھا کے ضائع کرنے ہیں۔ اس دوران وہ اپنی جاہلانہ گھسی ہٹی گفتگو کے علاوہ اونچے اونچے گانے بھی سناتا ہے۔
کیا کوئی ایک بھی ایسا نہیں جس کے اندر علم کی تڑپ ہو اور وہ ذوقِ سلیم سے آراستہ ہو۔ پندرہ بیس منٹ ایک معقول آدمی کے لیے کافی زیادہ وقت ہوتا ہے۔ چاہیے تو یہ کہ پہلے دو تین منٹ میں پیش کار اپنی بوتھی سمیت پیش کردہ وڈیو کے بارے میں کچھ تعارفی کلمات بیان کرے۔ پھر اسے کسی آئٹم گرل کی طرح مسلسل اپنی شکل دکھانے کی ضرورت نہیں پڑنی چاہیے۔ تھوڑی محنت کر لے تو تمام سفر کے دوران سڑک دکھانے کے بجائے راستے میں آنے والے خوبصورت مناظر کو مختلف زاویوں سے پیش کرے۔ اب تو ڈرون نے یہ کام انتہائی آسان کر دیا ہے۔ اس دوران ادھر ادھر کی فضول باتیں کرنے کے بجائے راستے میں آنے والے تاریخی نوعیت کے علاقوں اور واقعات کا ذکر کیا جاسکتا ہے۔ موسموں، فصلوں، پھلوں، جھرنوں، جھیلوں، وادیوں اور ندیوں پر بات ہو سکتی ہے۔ لوگوں کے رہن سہن، مزاج، تہذیب، ادب، موسیقی اور مخصوص کھیلوں پر تبصرہ کیا جا سکتا ہے۔ لیکن نہیں۔ انھیں تو سستی شہرت حاصل کرنے کی ہوس ہے۔ چینل چلنے کی صورت میں چند ڈالر ملنے کی حرص ہے۔ اندھی بھوک ہے جس کا کوئی نام بھی رکھ لیں۔
یہی حال ہمارے عالم فاضل باذوق دوست لکھاریوں کا ہے۔ جہاں جائیں گے۔ جدھر بیٹھیں گے پچیس تیس تصویروں کا کوٹہ پورا کریں گے۔ مصیبت یہ ہے کہ ہر تصویر میں چاہے وہ کسی جھیل یا جھرنے کی ہو یا کسی قلعے یا لائبریری کی۔ اس کے آگے بھوت بن کے کھڑے ہوں گے۔ آپ سے کوئی پوچھے آپ کیا دکھانا چاہتے ہیں۔
اللہ ہدایت دے۔

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post