آئینہ : نوازانبالوی


    کبھی کبھی مشاہدات کے احاطے میں آکر یہ گمان گزرتا ہے کہ ہم کتنے سادہ و پرکار ہیں… سادہ و پرکار ہیں یا یوں کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہ ہوگی کہ ہم میں سے بعض پرلے درجے کے کم ظرف ہیں. ہم فکری، مشاہداتی، تجزیاتی اور عملی دنیا سے قدر غافل ہیں. ہم ان تکلفات سے گریزاں کر رہے ہیں جو ہماری بنیادی ضروریات ہیں جبکہ بے وجہ کے علم و ہنر سیکھنے لگ گئے ہیں. ہماری عملی زندگی کہیں تاریک نگری میں سسکتی رہ گئی ہے. اور ہمارے ہی ارادوں اور نظرِ کرم کی طلبگار دکھائی دیتی ہے. ہم وہ سب ذوق وشوق اور کافی حد تک علم و ہنر جانتے اور رکھتے ہیں جو ہمیں اس بے عزم زندگی سے بے دخل کرکے عملی زندگی کی راہ راست پہ چلا دے گی….
ہم وہ لوگ ہیں جو غنچے کے کھلنے پر تبسم بھری نگاہ تو دھرتے ہیں. اس کے رنگ و خوشبو سے مانوس تو ہوتے ہیں لیکن اس مشاہدے پر نظر التفات نہیں دھرتے کہ کیسے ایک غنچہ نے پھول کا روپ دھارا ہے…. ہمیں اس زمرے میں پڑنا ہوگا اور یہ حقیقت جاننا ہوگی کہ کیسے غنچہ ایک رات میں رنگ و خو شبو کا تاثر سمیٹے نمایاں ہوا..کہ کیسے اس نے ان سب تلخیوں سے نمٹ کر ابھرے ہوئے سورج کی طرح، شب کا سینہ چاک کر کے خلق کی آنکھ میں اپنا عکس جھولنا سیکھا . ہمیں اس مشاہدے کو اپنانا ہوگا کہ کیسے پودہ اپنے نازک ہونٹوں سے پانی کی بوندوں کو جذب کر کے ثروت مند ہوا. ہمیں فطرت کی ہر اک شے پر مشاہدے کی آنکھ ڈالنا ہوگی اور اپنے علم و ہنر سے ایک تجزیاتی نقطہ نظر نکال کر معاشرے کی اصلاح کے لیے ایک عملی خاکہ تیار کرنا ہوگا….
ہم اپنے آبا ء کے کارنامے اور خدمات کا حوالہ تو دیتے ہیں…. لیکن عملی میدان میں بھول جاتے ہیں کہ کچھ کر گزرنا بھی ہے….. ہمیں حیلے بہانوں سے کام لینے کی بجائے عملی میدان میں کاوشوں کے پھول بوٹے بونے پڑیں گے اور اس تصادم کے لیے ملت کو ابھارنا ہوگا……
جب کوئی شخص آئینے کے سامنے رجوع کرتا ہے تو عکس نمایاں ہوتا ہے…. جب آئینے سے مناظرہ نہیں ہو پائے گا تو کیسے ممکن ہے کہ کوئی شخص اپنے خدوخال سے واقف ہوسکے….. ہمیں آئینہ عمل سے اپنی قوم اور اپنے مذہب سے وفا شعاری کا ثبوت پیش کر نا ہوگا… ہمیں یہ تغیر اپنی ذات تک ہی محدود نہیں رکھنا بلکہ معاشرے کے ہر فرد کی بھلائی کے لیے اقدامات کرنے ہیں……

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post