غزل : حبیب جالب

حبیب جالب
حبیب جالب
وہی  حالات ہیں  فقیروں  کے
دن پھرے ہیں فقط وزیروں کے
اپنا  حلقہ  ہے حلقۂ  زنجیر
اورحلقے ہیں سب امیروں کے
ہر  بلاول  ہے دیس کا مقروض
پاؤں ننگے ہیں بے نظیروں کے
وہی اہل وفا  کی  صورتِ حال
وارے نیارے ہیں بے ضمیروں کے
سازشیں ہیں وہی خلافِ عوام
مشورے ہیں وہی مشیروں کے
بیڑیاں سامراج  کی  ہیں  وہی
وہی دن رات ہیں اسیروں کے

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post