غزل

محبت اتنی بھی سادہ نہیں ہے : غزالہ شاہین مغل

یہ سچ ہے کوئی خوش فہمی نہیں ہے
محبت   کی  ڈگر  اپنی  نہیں   ہے

بہت ہے غور کرنے کی ضرورت
کہ تم پر بے رخی جچتی نہیں ہے

نظر کے سامنے ویرانیاں ہیں
پسِ دیوار ویرانی نہیں ہے

مجھے عزت بنا کے اپنی تو نے
زباں کی لاج تو رکھی نہیں ہے

کہانی جھوٹ ہی اپنی سناؤ
خموشی اتنی بھی اچھی نہیں ہے

کسی پر کیسے انگلی میں اٹھاؤں ؟
مری جب خود سے ہی بنتی نہیں ہے

میں کب سے مرچکی اندر ہی اندر
کوئی احساس تک باقی نہیں ہے

ابھی آنسو مری آنکھوں سے ٹپکے
یہاں ندیا کوئی بہتی نہیں ہے

ہزاروں رنگ ہیں اس کے غزالہ
محبت اتنی بھی سادی نہیں ہے

younus khayyal

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

غزل

غزل

  • جولائی 12, 2019
شاعر : خورشید ربانی غم نہیں غم آفریں اندیشہ  ہے آئینے  میں جاگزیں  اندیشہ  ہے موجہِ  گرداب  تک تھے  ایک
Poetry غزل

غزل … ڈاکٹرخورشید رضوی

  • جولائی 16, 2019
ڈاکٹرخورشید رضوی دل  کو  پیہم    وہی  اندوہ  شماری   کرناایک ساعت کوشب و روز پہ طاری کرنا اب وہ  آنکھیں