غزل : یاسمین سحر

ریت کنکر کو الگ کر کے کھنگالی ھے زمیں
دیکھیے شعر, نئی میں نے نکالی ہے زمیں

تم مرے شعر اگر تھوڑی توجہ سے پڑھو
جان جاؤ گے بہت عمدہ مثالی ہے زمیں

دیکھ بنجر سے علاقے سبھی شاداب ہوئے
سبز موسم ہوئے سبزے نے چھپا لی ہے زمیں

سامنے چہرہ حقیقت کا میں لے آؤں مگر
خواب ہی خواب, مرے نام خیالی ہے زمیں

میں نے جدت کو روایت کا اوڑھایا ہے مزاج
اک نئی شکل میں کچھ اب کے اچھالی ہے زمیں

نیند آباد جزیروں پہ کہیں ٹھہری ہے
دور تک خواب کی ہریالی سے خالی ہے زمیں

دوسری طرز کے افکار کئی لکھتے ہوئے
اک انوکھے سے کسی رنگ میں ڈھالی ہے زمیں

بھاگتی سوچ کو الفاظ کی باہوں میں بھرا
قافیہ باندھ کے قدموں میں بٹھا لی ہے زمیں

اپنی مرضی کے کچھ اشعار ترے نام کیے
لفظ مہکا تے ہوئے تازہ اٹھا لی ہے زمیں

میری غزلیں,مری نظمیں ہیں اسی کی ممنون
شاعری کی وہ فضا جس نے اجالی ہے زمیں

پیچھے جتنے بھی ہرے کھیت تھے وہ جل چکے ہیں
اور آگے ذرا نکلو گے تو کالی ہے زمیں

ساتھ اپنے کیا مائل کھڑا ہونے پہ مجھے
پاؤں رکھنے لگی میں, تم نے ہٹا لی ہے زمیں

داستاں خوب ترے عشق کی ہے پڑھ کے جسے
آسماں سر پہ گرا میں نے سنبھالی ہے زمیں

شعر دو چار سحر تم نے نکالے ہیں مگر
دیکھنا یہ ہے, کہ کیا تم نے نبھا لی ہے زمیں

You might also like
Loading...