غزل

غزل : ڈاکٹرستیہ پال آنند


ڈاکٹرستیہ پال آنند
دیکھ ، اس کو نہ سمجھ اپنی شفا ، گھر مت جا
تیرے پُرکھوں کی ہے میراث وبا، گھرمت جا
دھول رستوں کی بلاتی ہے ترے قدموں کو
رُک ذرا،غور سے سُن اس کی صدا،گھرمت جا
میل پتھر ہے کہ ہے ایک عصا گاڑا ہوا
تیری درگاہ ہے یہ، بیٹھ ذرا ، گھر مت جا
تیرے گھر پر ہے ترے بیٹوں کا قبضہ، بابا
لوٹ جا، اپنا یہ سامان اٹھا ، گھر مت جا
گھرسے باہر بھی بہت کچھ ہے ترے کرنے کو 
بیٹھ یاروں میں کوئی نظم سنا ، گھر مت جا
جانی پہچانی نہیں اب وہ اجُدھیا، اے رام
اپنے بنباس کی معیاد بڑھا ، گھر مت جا

km

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

غزل

غزل

  • جولائی 12, 2019
شاعر : خورشید ربانی غم نہیں غم آفریں اندیشہ  ہے آئینے  میں جاگزیں  اندیشہ  ہے موجہِ  گرداب  تک تھے  ایک
Poetry غزل

غزل … ڈاکٹرخورشید رضوی

  • جولائی 16, 2019
ڈاکٹرخورشید رضوی دل  کو  پیہم    وہی  اندوہ  شماری   کرناایک ساعت کوشب و روز پہ طاری کرنا اب وہ  آنکھیں