غزل

غزل : ڈاکٹرخورشید رضوی

یہ جو ننگ تھے ‘ یہ جو نام تھے ‘ مجھے کھا گئے
یہ خیال ِ پُختہ جو خام تھے ‘ مجھے کھا گئے

کبھی اپنی آنکھ سے زندگی پہ نظر نہ کی
وہی زاویے کہ جو عام تھے ‘ مجھے کھا گئے

مَیں عمِیق تھا کہ پَلا ہُوا تھا سکُوت میں

یہ جو لوگ محو ِ کلام تھے ‘ مجھے کھا گئے

وہ جو مجھ میں ایک اِکائی تھی ‘ وہ نہ جُڑ سکی
یہی ریزہ ریزہ جو کام تھے ‘ مجھے کھا گئے

وہ نگِیں جو خاتم ِ زندگی سے پِھسَل گیا
تو وہی جو میرے غُلام تھے ‘ مجھے کھا گئے

مَیں وہ شعلہ تھا ‘ جسے دام سے تو ضَرَر نہ تھا
پَہ جو وَسوَسے تَہہ ِ دام تھے ‘ مجھے کھا گئے

جو کُھلی کُھلی تھیں عداوتیں ‘ مجھے راس تھیں
یہ جو زہر خَند سلام تھے ‘ مجھے کھا گئے

younus khayyal

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

غزل

غزل

  • جولائی 12, 2019
شاعر : خورشید ربانی غم نہیں غم آفریں اندیشہ  ہے آئینے  میں جاگزیں  اندیشہ  ہے موجہِ  گرداب  تک تھے  ایک
Poetry غزل

غزل … ڈاکٹرخورشید رضوی

  • جولائی 16, 2019
ڈاکٹرخورشید رضوی دل  کو  پیہم    وہی  اندوہ  شماری   کرناایک ساعت کوشب و روز پہ طاری کرنا اب وہ  آنکھیں