غزل : ڈاکٹراسحاق وردگ

فلک سے آج تک بچھڑا نہیں ہوں
زمیں پر اس    لیے تنہا نہیں ہوں

وفا سمجھوں کہ اس  کو بے وفائی
بچھڑنے پر کبھی رویا نہیں ہوں

سمندر کو بھی پی لوں گا کسی دن
میں صحرا ہوں کوئی دریا نہیں ہوں

عجب کردار ہوں میں زندگی کا
کہانی میں    کبھی آیا نہیں ہوں

مجھے تعبیر    نے    آواز دی تھی
مگر میں خواب سے نکلا نہیں ہوں

میں شرمندہ ہوں اپنے آنسوؤں سے
سلیقے سے    کبھی    رویا نہیں ہوں

بہت ہی خوب صورت خواب ہوں میں
کسی    کی آنکھ    میں    اترا نہیں ہوں

مجھے    اپنا    سرا    ملتا نہیں ہے
میں اپنی ذات میں یکجا نہیں ہوں

میں جینے کے لیے آیا ہوں دنیا
میں مرنے کے لیے آیا نہیں ہوں

میں جنت میں جو باتیں سوچتا تھا
ابھی اس سوچ سے نکلا نہیں ہوں

مجھے گم    نام    ہی مرنا پڑے گا
کسی کے دل پہ میں لکھا نہیں ہوں

مرے بچے    سمجھتے ہی نہیں ہیں
میں ان کے واسطے پیسہ نہیں ہوں

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post