غزل

غزل : محمودپاشا

 شور شرابہ کم کم ہے
ہر سو ہو کا عالم ہے

اب کے عید سعید نہیں
گھر گھر موت اور ماتم ہے

کھا جاتا ہے خوشیوں کو
وقت بھی کتنا ظالم ہے

بغض بھرا ہے لفظوں میں
زہر  بھرا  یہ  کالم  ہے

آنکھ جسے کہتا ہے تو
یہ اشکوں کا قلزم ہے

سانسیں اکھڑی جاتی ہیں
مشکل میں اب آدم ہے

اس سے ہے وعدہ محمود
جینا  مرنا  باہم  ہے

younus khayyal

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

غزل

غزل

  • جولائی 12, 2019
شاعر : خورشید ربانی غم نہیں غم آفریں اندیشہ  ہے آئینے  میں جاگزیں  اندیشہ  ہے موجہِ  گرداب  تک تھے  ایک
Poetry غزل

غزل … ڈاکٹرخورشید رضوی

  • جولائی 16, 2019
ڈاکٹرخورشید رضوی دل  کو  پیہم    وہی  اندوہ  شماری   کرناایک ساعت کوشب و روز پہ طاری کرنا اب وہ  آنکھیں