غزل : غزالہ مغل

رستے موڑے  جا سکتے ہیں
سگنل توڑے جاسکتے ہیں
دکھ ہی دے دے،تیرے گھرسے
خالی تھوڑے جا سکتے ہیں
اس پر ایک  نظر پڑتے ہی
رنگ نچوڑے جا سکتے ہیں
رستے مشکل جیسے بھی ہوں
یار بھی چھوڑے جا سکتے ہیں؟
اس کے دل کش حسن کے بل پر
دریا موڑے جا سکتے ہیں
وہ ایسا ہے جس کی خاطر
تارے توڑے جا سکتے ہیں
منزل کی خواہش میں یعنی !
آبلے پھوڑے جا سکتے ہیں

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post