غزل : غزالہ مغل

ایک لمحہ ہی سہی سرسری تم کو دیکھے
خوب جلتا ہے مرا من کوئی تم کو دیکھے
میری تقدیرمیں اے رب اسے لکھ دے آمین
آج آنکھوں میں جو اتری نمی تم کو دیکھے
گنگناتے رہو تم پیار کی دلکش سی دھن
دو جہانوں میں رچی نغمگی تم کو دیکھے
گر ترے عکس کو اس جھیل کا پانی چھو لے
اس کی لہروں میں بنی بے کلی تم کو دیکھے
ایک سپنا تھا مِلن کا ترے سو ٹوٹ گیا
چشمِ تعبیر بنی حسرتی تم کو دیکھے

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post