غزل

غزل : غزالہ شاہین مغل

اپنے اندر اتر پڑی کل رات
اک جہاں کھوجتی رہی کل رات

زندگی مر ہی تو گئی کل رات
ختم اک داستاں ہوئی کل رات

چاند کب تھا یہ آہ تھی میری
آگ شبنم کو جو لگی کل رات

کہکشائیں تلاش کرنی تھیں
میں خلا کھودتی رہی کل رات

خواب کتنے ہی آنکھوں میں رکھ کر
نیند پھر سے چلی گئی کل رات

یہ غزل ہے ہی اپنے شاعر کی
ہو رہی تھی جو شاعری کل رات

younus khayyal

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

غزل

غزل

  • جولائی 12, 2019
شاعر : خورشید ربانی غم نہیں غم آفریں اندیشہ  ہے آئینے  میں جاگزیں  اندیشہ  ہے موجہِ  گرداب  تک تھے  ایک
Poetry غزل

غزل … ڈاکٹرخورشید رضوی

  • جولائی 16, 2019
ڈاکٹرخورشید رضوی دل  کو  پیہم    وہی  اندوہ  شماری   کرناایک ساعت کوشب و روز پہ طاری کرنا اب وہ  آنکھیں